خبریں/تبصرے

اسلام آباد میں ’بلیک ہول‘ کا افتتاح

اسلام آباد (فاروق سلہریا) گذشتہ جمعے کے روز اسلام آباد میں ’دی بلیک ہول‘ (ٹی بی ایچ) کا افتتاح کیا گیا۔ جی الیون تھری کی گلی نمبر 100 میں واقع سائنس، آرٹ اور ثقافت کی ترویج کے لئے قائم کئے گئے اس تین منزلہ دیدہ زیب اور متاثر کن مرکز کے روح رواں پاکستان کے معروف سائنس دان اور دانشور پروفیسر پرویز ہود بھائی ہیں۔

مشعل بُکس کے زیر اہتمام شروع کئے جانے والا ’دی بلیک ہول‘، ایک تھیٹر (جس میں تقریباً پچاس افراد کی گنجائش ہے)، لائبریری (جہاں مشعل بُکس کی مطبوعات موجود ہیں) اور ایک (زیر تعمیر) لیبارٹری پر مشتمل ہے۔ لیبارٹری کا مقصد بچوں کو یہ موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ کھلونوں کی مدد سے مختلف سائنسی تجربات کر سکیں یا سمجھ سکیں۔

افتتاحی تقریب ’دی بلیک ہول‘ منصوبے کے تعارف، مستقبل کے منصوبوں، موسیقی اور چند غیر روایتی تقاریر پر مشتمل تھی۔ تقریب کی مہمان خصوصی انسانی حقوق کی معروف کارکن نسرین اسلم تھیں۔ تقریب کا آغاز پرویز ہودبھائی نے کیا۔ اپنے مختصر خطاب میں انہوں نے ’دی بلیک ہول‘ کے اغراض و مقاصد بتاتے ہوئے کہا کہ ایک جانب اس مرکز کا مقصد اسلام آباد میں ایسی دانشوارانہ و سائنسی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے جس میں پندرہ سال سے ایک سو پندرہ سال تک کے افراد حصہ لیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک جانب یہاں سائنسی لیکچرز کا سلسلہ ہو گا تو دوسری طرف محفل ہائے موسیقی اور مشاعروں کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔ پہلا مشاعرہ 18 مارچ کو ہو گا جس میں مسعود انور اپنا کلام پیش کریں گے۔

ابتدائی طور پر پرویز ہودبھائی تین مختلف لیکچروں کے سلسلے شروع کر رہے ہیں۔ اسی طرح پروفیسر اے ایچ نیئر بھی بچوں کے لئے ایک لیکچر سیریز شروع کریں گے:’مزے سے سیکھو‘۔ ہر مہینے کے آخر میں اگلے مہینے کا تمام پروگرام ’دی بلیک ہول‘ کے فیس بک پر دستیاب ہو گا۔ فیس بک پر دی بلیک ہول کو فالو کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

’دی بلیک ہول‘ میں داخلے کی کوئی فیس ہے نہ کسی تقریب میں شرکت کرنے کی کوئی فیس ہو گی۔ ہاں بعض تقریبات میں شرکت کے لئے ایڈوانس آن لائن رجسٹریشن ضروری ہو گی۔

افتتاحی تقریب کا اختتام پرویز ہود بھائی کے ایک لیکچر سے ہوا جس کا عنوان تھا ’معاشرہ اور سائنس‘۔ اس لیکچر کے دوران انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس نئے مرکز کا نام ’دی بلیک ہول‘ کیوں رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو سفر ایک کائنات سے دوسری کائنات میں جانے کے لئے لاکھوں کروڑوں سالوں میں طے ہوتا ہے، خیال کیا جاتا ہے کہ اگر کوئی بلیک ہول میں پہنچ جائے تو وہی سفر چند لمحوں میں طے ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا ٹی بی ایچ بھی ایک طرح سے فکری سطح پر لوگوں کو تیزی سے ایک نئی کائنات سے روشناس کرانے کا سبب بنے گا۔