دنیا

سری لنکا: سیاسی و معاشی ہلچل اور عوامی للکار

امان اللہ کاکڑ

سری لنکا، جو پہلے سیلون کے نام سے جانا جاتا تھا، جنوبی ایشیا کا ایک جزیرہ نما ملک ہے۔ مارچ 2022ء کے وسط میں سری لنکا کے صدر راجاپکسا کے استعفیٰ کا مطالبہ سوشل میڈیا مہم کے ذریعے سامنے آیا اور نوجوانوں کی ایک بڑی آبادی میں اس مطالبہ نے توجہ حاصل کرنا شروع کی۔ بعد ازاں 31 مارچ کی رات یہ احتجاج ضروری اشیا کی قلت، بجلی کی کٹوتی میں توسیع اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے خلاف ایک پرامن مظاہرے کے طور پر شروع ہوا تھا اور ایک بڑے جلسے میں تبدیل ہو گیا، جس نے راجا پکسا انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ جب عوام نے حکومت کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے نعرے لگائے تو ایوان صدر تک پیدل چلنے کی تجویز پیش کی گئی، جو احتجاجی مقام سے کچھ ہی فاصلے پر تھا۔ جب احتجاج کرتے عوام کا جلوس ایوان صدر کے قریب پہنچا تو ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس ہجوم میں شامل ہو چکے تھے۔

سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ مظاہرین پر پولیس بربریت کی خبریں سوشل میڈیا پر پھیل گئیں اور پھر احتجاج کا سلسلہ پورے ملک میں پھیل گیا۔ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے احتجاج میں صدر کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ احتجاجی تحریک کی طاقت اور پھیلاؤ اس قدر تھا کہ وزرا کی پوری کابینہ نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ 42 حکومتی ارکان پارلیمنٹ نے آزاد ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور راجا پکسا خاندان کے کچھ افراد اور ان کے قریبی ساتھی ملک سے فرار ہو گئے ہیں۔ تا حال سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ہزاروں لوگ حکومت کی جانب سے تباہ کن معاشی بحران سے نمٹنے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

منگل کے روز کولمبو میں صدر کے دفتر کے باہر دسیوں ہزار لوگ جمع ہوئے، جن کی قیادت اپوزیشن جماعت یونائیٹڈ پیپلز فورس کے حامی کر رہے تھے۔ اپوزیشن لیڈر سجیت پریماداسا نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کو ہٹانے کی مہم کا آغاز ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک حقیقی انقلابی قیادت کی عدمِ موجودگی یہ احتجاج اپوزیشن لیڈ کر رہی ہے۔

سری لنکا میں شدید سیاسی و معاشی بحران کی جھلکیاں دور دور تک دکھا ئی دے رہی ہیں۔ بھارت نے سری لنکا کو 2 بلین ڈالر کی مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے، جبکہ خوراک اور ایندھن کی فراہمی بھی کی جا رہی ہے۔

رائٹرز کے مطابق فیول مارکیٹ کے دو تہائی حصہ پر قابض کارٹیل سیلون پٹرولیم کارپوریشن (سی پی سی) نے کہا کہ وہ ڈرائیوروں کو تیل فراہم کرنے کی مقدار کو محدود کر دے گی۔ موٹر سائیکلوں کیلئے زیادہ سے زیادہ 4 لیٹر پٹرول مقرر کیا گیا تھا، رکشہ کیلئے 5 لیٹر، جبکہ پرائیویٹ کاروں، وین اور ایس یو وی کو 19.5 لیٹر پٹرول یا ڈیزل کی اجازت تھی۔ زیادہ تر پٹرول اسٹیشن پہلے ہی پٹرول سے محروم تھے، جبکہ چند جو کھلے تھے وہاں لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ ایندھن کے حصول کیلئے قطاروں میں انتظار کرتے ہوئے کم از کم 8 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

سری لنکا 1948ء میں آزادی کے بعد اپنے بدترین معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ اشیا ضروریہ کی شدید قلت اور بجلی کے بلیک آؤٹ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر بدحالی پھیل رہی ہے۔ ہزاروں افراد مسلسل راجا پکسا کے دفتر کے باہر احتجاج کر رہے ہیں اور 22 ملین باشندوں کو درپیش معاشی مشکلات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سری لنکا کی معاشی بدحالی کا آغاز اس وقت ہوا جب کورونا وائرس نے سیاحت اور ترسیلات زر سے ہونے والی اہم ترین آمدنی کو متاثر کیا۔ حکومت نے بیرون ملک شہریوں پر زور دیا کہ وہ ملک کے تمام بیرونی قرضوں پر ڈیفالٹ کا اعلان کرنے کے بعد اشیائے ضروریہ کی ادائیگیوں میں مدد کیلئے زرمبادلہ حکومت کو دیں۔

سری لنکا نے فوری طور پر ضروری خوراک اور ادویات خریدنے کے لیے اپنی بربادیوں کی داستان قائم کرنے والے بھارت سے ایک ارب ڈالر کی کریڈٹ لائن حاصل کر لی ہے۔ وزیر خزانہ باسل راجا پکسا کے نئی دہلی کے دورہ کے دوران بھارت اور سری لنکا نے باضابطہ طور پر قرض کا معاہدہ کیا۔ ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ٹویٹر پر کہاکہ ’بھارت سری لنکا کے ساتھ کھڑا ہے۔‘ دریں اثنا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے جمعہ کے روز تصدیق کی ہے کہ وہ صدر گوتابایا راجا پکسا کو بیل آؤٹ پر بات کرنے کی حیران کن درخواست پر غور کر رہا ہے۔

سری لنکا میں معاشی و سیاسی بحران بہت گہرا ہو چکا ہے۔ مرکزی بینک نے کہا ہے کہ غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی ناممکن ہے، جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ دیوالیہ ہونا یقینی ہے۔ اقتصادی بدحالی کی وجہ سے صدر راجا پکسا کی حکومت سے استعفے کا مطالبہ مقبول مطالبات میں سے ایک ہے۔ مظاہرین نے کولمبو میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں ضروری ادویات ختم ہو رہی ہیں۔ اس وقت سری لنکا غیر ملکی قرض دہندگان کا 35 ارب ڈالر کا مقروض ہے۔

یہ جزیرہ نما ملک اپنے معاشی استحکام کیلئے غیر ملکی سیاحوں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ موجوہ معاشی اور سیاسی بحران اور عوامی احتجاج کے بعد پوری کابینہ نے صدر اور انکے بھائی وزیر اعظم سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔

ناقدین کا خیال ہے کہ معاشی بحران حکومتی ڈھانچے میں بدانتظامی کی وجہ سے بڑھ رہا ہے، کیونکہ راجا پکسا خاندان کے متعدد افراد حکومت کے اہم عہدوں پر فائز تھے۔ اگرچہ وزیر اعظم نے بحران کے حل کیلئے مذاکرات کی پیشکش کی ہے، تاہم اپوزیشن کا مقصد عدم اعتماد کا ووٹ ہے۔

پاکستان کی طرح سری لنکا میں بھی عدم اعتماد کسی عوامی مسئلے کا حل نہیں ہے اور نہ ہی کوئی امید رکھی جا سکتی ہے۔ سری لنکا کی حکومت جلد ہی آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آؤٹ پر بات چیت شروع کرنے والی ہے۔ یہی توقع ہے کہ کثیر جہتی قرض دہندہ کے ساتھ ساتھ ملک کے غیر ملکی قرض دہندگان ایک ایسا منصوبہ پیش کرینگے جو ملکی اقتصادی استحکام کو ترجیح دے گا، تاہم یہ کوئی تسلی بخش اقدام نہیں ہے۔ فی الحال لوگوں کو سستی خوراک، ایندھن اور ادویات فراہم کرنے میں مدد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ملک کو قرضوں کے جال سے بچانے کیلئے طویل المدتی منصوبے کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ سری لنکا کے بحران کو دیگر ترقی پذیر ریاستوں کیلئے بھی ایک انتباہ کا کام کرنا چاہیے کہ معاشی بدانتظامی اور سیاسی اقربا پروری بڑے عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے، جو معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔

امان اللہ کاکڑ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس (زراعت) کے طالب علم ہیں۔ قلعہ سیف اللہ سے تعلق ہے۔ طبقاتی جدوجہد کے کارکن اور بائیں بازو کی سیاست سے وابستہ ہیں۔