تاریخ

ثور انقلاب کی 44 ویں سالگرہ

امان اللہ کاکڑ

قوم پرست رہنما سردار داؤد خان نے اپنے چچا زاد ظاہرشاہ کی 40 سالہ شہنشاہی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھال لیا اور شہنشاہت کا خاتمہ کر کے جمہوری نظام نافذ کیا۔ شہنشاہت کے ساتھ ساتھ ظاہر شاہ کا آئین بھی معطل کیا اور پارلیمنٹ کو بھی ختم کیا۔ پارلیمنٹ کی جگہ لویہ جرگہ کا انعقاد کیا۔ داؤد شاہ ایک قوم پرست حکمران تھے وہ ڈیورنڈ لائن کو ختم کرکے پشتونوں کو متحد کرنا چاہتے تھے۔ ڈیورنڈ لائن کی دوسرے طرف انہوں نے پشتونستان تحریک کی سرپرستی شروع کر دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے داؤد شاہ کے ساتھ انہی کی طرح کھیل کھیلنا شروع کیا۔ گل بدین حکمت یار، برہان الدین ربانی اور احمد شاہ مسعود کو پاکستان میں پناہ دی۔ بعد میں ذولفقار علی بھٹو نے سردار داؤد کو جواب دیتے ہوئے گل بدین حکمت یار، برہان الدین ربانی اور احمد شاہ مسعود کو افغانستان بھیجوایا۔ انہوں نے وادی پنجشیر میں سردار داؤد حکومت کے خلاف جہاد کا اعلان کرنے کے بعد باقاعدہ سرگرمیاں شروع کر دیں۔ ان نام نہاد مجاہدین کے خلاف کمیونسٹوں نے مزاحمت کی اور ذوالفقار علی بھٹو کے مجاہدین کو واپس پاکستان جانے پر مجبور کیا۔

جنوری 1965ء میں نورمحمد ترکئی، ببرک کارمل اور میر اکبر خیبر نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان (پی ڈی پی اے) نور محمد ترکئی کے گھر پربنائی جو 2 سال بعد تقسیم ہو گئی۔ تقسیم کے بعد پارٹی کا ایک سیکشن ’خلق‘کے نام سے جبکہ دوسرا سیکشن ’پرچم‘کے نام سے چلایا جانے لگا۔ پرچم پارٹی کو شہری لوگوں کی زیادہ تر حمایت حاصل تھی۔ یہ پارٹی نظریاتی طور پر کچھ معتدل بھی تھی اور پرچم کے نام سے اپنا اخبار نکالتی تھی۔ خلق پارٹی کو زیادہ تر دیہاتی لوگوں کی حمایت حاصل تھی اور خلق پارٹی کے لوگ نظریات کے حوالے سے سخت پوزیشن رکھتے تھے۔ خلق پارٹی بھی خلق کے نام سے اپنا اخبار نکالتی تھی۔ 10 سال علیحدہ رہنے کے باوجود خلق پارٹی اور پرچم پارٹی 1977ء میں سردار داؤد حکومت کے خلاف مزاحمت کرنے اور جنگ لڑنے کیلئے ایک ہو گئیں۔

میر اکبر خیبر، جنہوں نے کابل ملٹری اکیڈمی سے گریجویشن کی تھی، کو 1950ء میں فوج میں سیاسی سرگرمیوں کے الزام میں قید کی سزا سنائی گئی۔ ببرک کارمل کی ان سے جیل میں ملاقات ہوئی اور رہائی کے بعد دونوں نے ’محفل‘ کے نام سے نشست کا اہتمام کیا۔ ٹریڈ یونین لیڈر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی افغانستان (پی ڈی پی اے) کے بانی اور پرچم اخبار کے ایڈیٹر میر اکبر خیبر کو 17 اپریل 1978ء کو نامعلوم افراد نے قتل کیا اور اس قتل کا الزام سردار داود پر عائد کیا گیا۔ اگرچہ اس سے پہلے پرچم کے 2 ارکان اور بھی قتل کئے گئے تھے لیکن یہ ایک اہم رہنما کا قتل تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو افغانستان کی سردار داؤد حکومت کے ساتھ دوستی نبھانے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئے۔ اس عرصہ میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ بھی الٹ گیا اور 5 جولائی 1977ء کو ضیا الحق نے پاکستان میں مارشل لا نافذ کیا۔ ضیا الحق اور سردار داؤد کی گہری دوستی بن گئی اور دونوں نے ایک دوسرے کے ملکوں کے دورے کئے۔ افغانستان کا دورہ مکمل کرکے روانہ ہونے سے پہلے سردار داؤد نے گہرے تپاک سے ضیا الحق سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہاکہ یہ ہاتھ ایک پشتون کا ہاتھ ہے، جو پاکستان کے ساتھ مضبوط اور پائیدار روابط قائم کرنے کا خواہش مند ہے۔ گزشتہ تین برسوں سے ہم نے ایک موقف اپنایا ہوا ہے۔ اس موقف میں تبدیلی لانے کیلئے اور اپنے عوام کی سوچ کا دھارا بدلنے کیلئے مجھے مہلت دیجئے۔ میں افغان رہنماؤں کا ایک جرگہ بلانا چاہتا ہوں تاکہ پاکستان کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ کیا جا سکے۔ اس گفتگو سے ظاہر ہو رہا ہے کہ سردار داؤد ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف آباد پشتونوں کو یکجا کرنے میں کتنا سچا اور سنجیدہ تھا۔ بورژوا قوم پرست سے اس سے بڑی توقع ممکن نہیں ہے۔

اگرچہ سردار داؤد اپنے موقف میں جھوٹے ثابت ہوئے مگر پی ڈی پی اے کے ساتھ دشمنی میں بہت دلچسپی سے سرگرم رہے۔ انہوں نے حفیظ اللہ امین کو گرفتار کیا اور پی ڈی پی اے کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ پی ڈی پی اے کے 35 اہم رہنماؤں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ ان میں سے پرچم پارٹی کے رہنما حفیظ اللہ امین بھی تھے۔ حفیظ اللہ امین نے قید سے اپنے حامیوں کو حکم دیا اور بالآخر ان کے حکم پر فوج میں موجود شاہنواز تنائی نے کاروائی شروع کر دی۔ فوج میں حاضر سروس افسروں میں محمد رفیع، محمد اسلم وطن جار اور شیر جان مزدور یار صدارتی محل ارگ کی طرف ٹینکوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔ فضائیہ بھی اس بغاوت کا حصہ بن گئی۔ 600 آرمی جوان، 20 ہوائی جہاز اور 60 کے قریب ٹینکوں نے عوامی سرکشی میں حصہ لیا۔ بالآخر صبح 9 بجے 27 اپریل 1978ء کو نور محمد ترکی کی قیادت میں پی ڈی پی اے نے افغانستان میں اپریل انقلاب یعنی ’ثور انقلاب‘کو فتح مند کیا۔

اس وقت افغانستان میں تقریباً 14 فی صد لوگ شہر میں رہتے تھے اور 86 فی صد لوگ گاؤں میں رہتے تھے۔ آبادی کی ایک بڑی تعداد خانہ بدوش تھی۔ تعلیم کی شرح 5 فی صد تھی اور 95 فی صد لوگ ناخواندہ تھے۔ تقریباً نہ ہونے کے برابر انفراسٹرکچر تھا، جو تھا بھی انتہائی خستہ حالی کا شکار تھا۔ روڈ انفراسٹرکچر کا سنگین مسئلہ موجود تھا۔ 10 فی صد لوگوں کے پاس زمین تھی اور 90 فی صد غریب لوگوں کے پاس کوئی زمین نہیں تھی۔ تعلیم حاصل کرنے کیلئے افغانستان میں تعلیمی اداروں کی شدید کمی تھی۔ علاج کیلئے کوئی تسلی بخش صحت کا نظام نہیں تھا۔ لوگ جہیز کے نام پر اپنی بیٹیوں کو بیچ کر بھاری رقم وصول کرتے تھے۔ افغان سر زمین پر انتہائی پسماندگی کا راج تھا۔

ثور انقلاب پربا کرنے بعد انقلابی حکومت نے لینڈ ریفارمز کیں اور بڑے جاگیرداروں سے زمین لیکر عوام میں تقسیم کرنا شروع کی۔ عورتوں کو خود مختار بنایا اور جہیزکے نظام کو ختم کیا۔ میرج ریفارمز کرتے ہوئے 18 سال سے کم لڑکیوں کی شادی ممنوع قرار دی۔ تعلیمی اصلاحات کرتے ہوئے تعلیم مرد اور عورت دونوں پر لازم کی گئی۔ اسی طرح صحت کے نظام میں بہترین اصلاحات کی گئیں اور عوام کو مفت علاج فراہم کیا گیا۔ پانی کے مسائل ہنگامی بنیادوں پر حل کئے گئے۔ سوشل ریفارمز ہوئیں اور بہت کم عرصے میں بہت زیادہ اور اچھے ترقیاتی کام ہوئے۔ قلیل مدت میں انتہائی بہترین طریقے سے انفراسٹرکچر تعمیر ہوا۔

افغانستان کو جیوپولیٹیکل اہمیت کی وجہ سے مختلف سامراجی قوتوں نے اپنے مفادات کیلئے استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس خطے میں سامراجی غنڈہ گردی اور لوٹ مار کو برقرار رکھنے کیلئے افغانستان کی انقلابی حکومت کے خلاف مختلف رد انقلابی قوتوں کی تشکیل اور استعمال ناگزیر تھا۔ نیٹو جیسی قوتوں کا افغانستان کی نومولود انقلابی حکومت مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔ ہمسایہ ممالک کی مداخلت، جس میں پاکستان کا کردار کسی سے کم نہیں ہے اور سی آئی اے کے تخلیق کردہ ’مجاہدین‘نے افغانستان کو تباہ و برباد کیا۔ نتیجتاً یہ بربادی پورے خطے میں پھیل گئی۔ سامراجیوں اور انکی پراکسیوں کی تباہ کاریاں اور عزائم آج کے دور میں مزید شدت اختیار کر چکے ہیں۔

آج کے جدید دور میں افغانستان کی صورت حال قرون وسطیٰ کے دورسے بھی ابتر ہے۔ طالبان نے 15 اگست 2021ء کو بندوق کے زور سے افغانستان پر قبضہ کیا۔ انسانی حقوق کی پامالی کرتے ہوئے طالبان کا آج تک افغانستان پر راج قائم ہے۔ عورت دشمنی پر تُلے ہوئے طالبان نے لڑکیوں کے سکولوں کو بند کروا دیا ہے۔ طالبان کے کنٹرول میں افغان باشندے مختلف مسائل سے دو چار ہیں۔ جبر اور بربریت کا بازار گرم ہے۔ کوئی سُکھ کا سانس نہیں لے سکتا۔ لوگ افغانستان سے فرار ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ زندگی معمول کے راہ سے ہٹ گئی ہے۔ یہ صورت حال واضح کرتی ہے کہ ایک بار پھر افغانستان میں ثور انقلاب جیسی عوامی سرکشی کی ضرورت ہے۔ انقلاب برپا کرنے کے علاوہ افغانستان کے باسیوں کی ذلتوں، دُکھوں اور ظلمتوں کا مداوا مشکل ہے۔

(نوٹ: افغانستان میں برپا ہونے والے ’ثور انقلاب‘ کی گزشتہ روز 27 اپریل کو 44 ویں سالگرہ تھی)

امان اللہ کاکڑ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس (زراعت) کے طالب علم ہیں۔ قلعہ سیف اللہ سے تعلق ہے۔ طبقاتی جدوجہد کے کارکن اور بائیں بازو کی سیاست سے وابستہ ہیں۔