خبریں/تبصرے

پاکستان: قیمتوں میں مزید اضافے کے باوجود تیل کے بحران کا خدشہ

لاہور (جدوجہد رپورٹ) پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم سپلائی چین متاثر ہونے کیوجہ سے تیل کی سپلائی میں خلل پیدا ہو کر تیل کے بحران کا خدشہ بھی پیدا ہو چکا ہے۔

پاکستان کی وفاقی حکومت نے ہفتے کے اندر پٹرولیم قیمتوں میں 60 روپے تک کا اضافہ کر دیا ہے۔ جمعرات کے روز پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر تک اضافہ کر دیا گیا۔ اس طرح ملک بھر میں پٹرول کی فی لیٹر قیمت 209 روپے 86 پیسے، ڈیزل کی قیمت 204 روپے 15 پیسے کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کی قیمتوں میں بھی 7.91 روپے فی یونٹ اضافے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

ادھر ’ایکسپریس ٹربیون‘ کے مطابق تیل کی صنعت کی ایک بڑی لابی نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کی سپلائی چین میں خرابی آنے والی ہے، کیونکہ بین الاقوامی بینکوں کی جانب سے پاکستانی بینکوں کی جانب سے کھولے گئے لیٹرز آف کریڈٹ کو قبول کرنے سے انکار کے بعد کمپنیوں کو مالی بحران کا سامنا ہے۔

آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے چیئرمین وقار ارشاد صدیقی نے انکشاف کیا کہ تیل کی صنعت مالی دباؤ کا شکار ہو گئی ہے، جس سے ملک کی توانائی کی سپلائی چین میں خرابی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اس سے قبل 26 مئی کو وزارت توانائی کو لکھے گئے خط میں آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بین الاقوامی بینک پاکستانی بینکوں کے ذریعے کھولے گئے لیٹرز آف کریڈٹ (ایل سیز) کی تصدیق سے انکار کر رہے ہیں۔

30 مئی کو چیئرمین نے نشاندہی کی کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مدد کے باوجود صورتحال بالکل بھی بہتر نہیں ہوئی۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ روس یوکرین جنگ ہے۔ پاکستان تیل کا خالص درآمد کنندہ ہے اور بین الاقوامی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کا اثر مقامی تیل کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے۔

انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق، امریکی ڈالر اور دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں روپے کی آزادانہ گراوٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معیشت کی حالت نے غیر ملکی بینکوں کو پاکستانی کمپنیوں کے لیے مالیاتی سہولیات کو محدود کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ غیر ملکی بینکوں کی جانب سے ہچکچاہٹ تیل کی درآمد کے بحران کا باعث بن رہی ہے، جس سے آئل ریفائنریز اور او ایم سی سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

تیل کا شعبہ پہلے ہی بڑھتے ہوئے گردشی قرضے، ملکی بینکوں کی جانب سے مالیاتی سہولیات کی کمی اور کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے مالی مشکلات کا شکار ہے۔