خبریں/تبصرے

شوگر کے مریضوں میں پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر

لاہور (جدوجہد رپورٹ) ذیابیطس سے متعلق عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان ذیابیطس کے سب سے زیادہ مریضوں کے ساتھ دنیا کا تیسرا ملک بن گیا ہے، گزشتہ دو سالوں میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعدادمیں 14 ملین سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔

چین اور بھارت ذیابیطس کے پھیلاؤ میں بدستور پہلے اور دوسرے نمبر ہیں۔ آئی ڈی ایف کے دسویں ایڈیشن کے مطابق پاکستان میں تقریباً 33 ملین افراد ذیابیطس کے مرض کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

’ڈان‘ کے مطابق آئی ڈی ایف ذیابیطس اٹلس کمیٹی کے رکن پروفیسرعبدالباسط نے کہا کہ پاکستان ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ چکا ہے اور اب ذیابیطس کے پھیلاؤ میں دنیا میں تیسرے نمبر پر آگیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر کارروائی نہ کی گئی تو چند سالوں میں پاکستان میں مریضوں کی تعداد میں دگنا اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے بچوں کو بیماریوں سے بچانے کیلئے کھیل کے میدانوں کے بغیر تمام سکولوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

2019ء میں شائع ہونے والے 9 ویں ایڈیشن کے مطابق پاکستان میں تقریباً 19.4 ملین افراد ذیابیطس کے مریض تھے، تاہم گزشتہ دو سالوں کے دوران ملک میں مزید 13.6 ملین افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ پاکستان اب امریکہ سے آگے ہے، جہاں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 32 ملین ہے۔

انکا کہنا تھا کہ پاکستان میں 8 سے 10 سال کی عمر کے 10 ملین بچے بچپن میں موٹاپے کا شکار ہیں اور اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو یہ بچے چند سالوں میں ذیابیطس کے مریض بھی بن جائیں گے۔

انکا کہنا تھا کہ ”یہ صحیح وقت ہے کہ ہم ان تمام سکولوں کو بند کر دیں جو کھیل کے میدانوں کے بغیر ہیں کیونکہ بچوں کو ایک دن میں کم از کم ایک گھنٹے لازمی جسمانی سرگرمیوں میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارے بالغ افراد بھی اپنے طرز زندگی کو تبدیل کریں اور فٹ اور صحت مند رہنے کیلئے جسمانی سرگرمیوں کا سہارا لیں۔“