تاریخ

پنجاب کسان تحریک کی مختصر تاریخ

ڈاکٹر مظہر عباس

سماجی تحریک کے لئے نظریہ کی بالکل وہی اہمیت ہے جو جسم کے لیے خوراک کی۔ نظریہ جہاں ایک طرف عوام کو بعض عقائد اور اہداف کے لیے متحرک کرتا ہے وہیں دوسری طرف ان کی شناخت اور وضاحت بھی کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، کوئی بھی اجتماعی عمل بغیر کسی متعین نظریاتی رجحان کے غیر منظم نظر آتا ہے اور بالآخر غائب ہو جاتا ہے۔ اس کی واضح مثال حال ہی میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا انجام ہے۔

اسی طرح مغربی یعنی پاکستانی پنجاب میں کسان تحریک کی قیادت کے درمیان نظریاتی اختلافات اور دھڑے بندی کو کسانوں کی خود مختاری کے اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں ناکامی کی ایک اہم وجہ سمجھا جاتا ہے۔ پنجاب کسان تحریک کا آغاز پنجاب کسان سبھا نے 1937ء میں آل انڈیا کسان سبھا کے زیر انتظام کیا تھا۔ 1947ء میں پنجاب کی تقسیم سے کسان تحریک کو بہت زیادہ نقصان پہنچا کیونکہ غیر مسلم کسان کارکنوں اور رہنماؤں کی ایک بہت بڑی تعداد مغربی یعنی پاکستانی پنجاب سے مشرقی یعنی ہندوستانی پنجاب ہجرت کر گئی۔ قیادت کے اس نقصان نے کسان تحریک کو نہ صرف کمزور بلکہ تقریباً ختم کر دیا جسے 1947ء کے آخر میں جنوبی پنجاب کے کسانوں کو نئے سرے سے شروع کرنا پڑا۔

جنوبی پنجاب میں بالعموم اور ملتان اور منٹگمری (بعد ازاں ساہیوال) کے اضلاع میں بالخصوص کسانوں کی تحریک اور مزاحمت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مقیم پنجاب کسان کمیٹی کے اراکین کے ایک گروہ، جس کی قیادت چوہدری فتح محمد اور میجر محمد اسحاق کر رہے تھے جو کہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے ملحق تھے، نے ان کسانوں کے ساتھ ہاتھ ملا لیا۔ اس گروہ کے قائدین نے شروع سے ہی یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ اصلاحی نظریے کے بجائے انقلابی نظریے کے پیروکار ہیں جو کہ 1951ء کی نام نہاد راولپنڈی سازش میں ان کی شمولیت سے بھی ظاہر ہوتا ہے جب مبینہ طور پر کمیونسٹوں کے ایک گروپ نے بشمول سویلین اور فوجی جوانوں کے ملک میں طبقاتی انقلاب لانے کے لیے فوجی بغاوت کا منصوبہ بنایا تھا۔

کسانوں کا ایک اور گروہ، پنجاب کسان کمیٹی، شیخ محمد رشید کی قیادت میں سرگرم تھا۔ تاہم ان کی سرگرمیاں لاہور اور اس کے گرد و نواح تک محدود تھیں۔ یہ گروہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مقیم گروہ کے برعکس، انقلابی نقطہ نظر کی بجائے اصلاح پسندوں کی پیروی کرتا تھا۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مقیم گروہ بعد میں دو حصوں میں تقسیم ہو گیا: ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مقیم گروہ جس کی قیادت چوہدری فتح محمد، سی آر اسلم، راؤ مہروز اختر خان اور قسور گردیزی کر رہے تھے اور لائل پور (بعد ازاں فیصل آباد) میں مقیم گروہ جس کی قیادت میجر محمد اسحاق، مبارک حیدر اور غلام نبی کلّو کر رہے تھے۔

یہاں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ جب اس گروہ کے ارکان ایک ہی مقصد یعنی کسانوں کی خود مختاری کے لیے کوشاں تھے تو یہ گروہ دو حصوں میں کیوں بٹا؟

1962ء کے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ اور اس کے بعد سیاسی سرگرمیوں پر سے پابندی کے خاتمے کے بعد ملتان اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے کسانوں نے پنجاب کسان تحریک کے احیا کے لئے کوششیں شروع کر دیں۔ اس سلسلے میں 27 اور 28 اپریل 1963ء کو خانیوال میں کسان کمیٹی کے مندوبین کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی کسان کمیٹیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت سی آر اسلم نے کی۔ ایجنڈے میں مغربی پاکستان میں کسان کمیٹی کی بحالی اور تنظیم نو شامل تھی۔

اس سلسلے میں مختلف صوبوں میں تنظیمی کمیٹیوں کے کنوینرز کا تقرر کیا گیا: خیبرپختونخواہ کے لیے شاہین شاہ، سندھ کے لیے نذیر حسین جتوئی اور پنجاب کے لیے چوہدری فتح محمد۔ تنظیم سازی میں مشاورت اور مدد کے لیے مغربی پاکستان کی سطح پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کی قیادت میجر اسحاق کو سونپی گئی۔ پنجاب کسان کمیٹی اپنی کوشش میں بڑی حد تک کامیاب رہی۔ 1965ء تک کیمبل پور (بعد ازاں اٹک) کے علاوہ صوبے کے ہر ضلع میں کسان کمیٹیاں قائم ہو چکی تھیں۔ یکم اور دو جولائی 1967ء کو ملتان میں کسان کانفرنس ہوئی جس میں پنجاب کے تمام اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی۔ تاہم میجر محمد اسحاق اور ان کے ساتھیوں کو بعض وجوہات کی بنا پر مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

اس دراڑ کی نشانیاں برسوں پہلے ہی عیاں ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ مثال کے طور پر چوہدری فتح محمد کا موقف ہے کہ جب 1965ء میں ڈھاکہ میں نیشنل عوامی پارٹی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے دوران میجر اسحاق کو جوائنٹ سیکرٹری منتخب کیا گیا تو انہوں نے مغربی پاکستان کسان کمیٹی کے کنوینر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ جو کہ میجر اسحاق کے کسان کمیٹی کے کام کے لئے بڑھتی ہوئی عدم دلچسپی سے بھی منکشف تھا۔

دریں اثنا یونین آف سوویت سوشلسٹ ریپبلکس (یو ایس ایس آر) اور عوامی جمہوریہ چین کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کے نتیجے میں دوسرے ممالک اور علاقوں کی طرح پنجاب میں بھی کمیونسٹ روس نواز اور چین نواز دھڑوں میں تقسیم ہو گئے۔ یہ تقسیم 1966ء کے انتخابات میں نیشنل عوامی پارٹی کی قیادت میں ظاہر ہوئی جس کے تحت پارٹی ولی خان گروپ (مغربی پاکستان) اور بھاشانی گروپ (مشرقی پاکستان) میں تقسیم ہو گئی۔ مغربی پاکستان میں نیشنل عوامی پارٹی مزید منقسم ہو گئی۔

اس دھڑے بندی نے لامحالہ کسان کمیٹی کو متاثر کیا۔ مثال کے طور پر میجر اسحاق کو جولائی 1967ء میں ملتان میں ہونے والی پنجاب کسان کمیٹی کے مندوبین کی کانفرنس سے باہر کر دیا گیا اور راؤ مہروز اختر خان نے کنوینر کا عہدہ سنبھال لیا۔ نتیجتاً متوازی طور پر دو پنجاب کسان کمیٹیاں تشکیل دی گئیں: لائل پور گروہ کی قیادت میجر محمد اسحاق کر رہے تھے جبکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ گروہ کی قیادت چوہدری فتح محمد کر رہے تھے۔

میجر اسحاق کے دوست اور ساتھی مبارک حیدر چوہدری فتح محمد کے موقف سے متفق نہیں ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ 1967ء کی ملتان کانفرنس کی تیاری مغربی پاکستان کسان کمیٹی کی نگرانی میں ہوئی جس کے کنوینر میجر محمد اسحاق تھے۔ اس لیے کنوینر کا اخراج غیر ضروری اور کسان کمیٹی کے آئین کی خلاف ورزی تھا۔ آئین میں کہا گیا تھا کہ کسان کمیٹی کے وفود کا اجلاس صرف کنوینر ہی بلا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کمیٹی نے کنوینر کے اس مکالمے کو پس پشت ڈال دیا تھا اور کسان کانفرنس کا براہِ راست اعلان کیا تھا، لہٰذا، قواعد کی خلاف ورزی تھی۔

اس کے علاوہ مندوبین کے انتخاب کے لیے جمہوری طریقہ کار تھا لیکن اس کانفرنس کے لیے ڈیلیگیٹس کے لیے غیر جمہوری ضلعی کوٹہ کا اعلان کیا گیا تھا۔ کمیٹی نے متعلقہ اضلاع میں اراکین سے منظوری حاصل کیے بغیر مندوبین کا انتخاب کیا۔ مزید برآں، کانفرنس کا انتظام و انصرام زمینداروں کے حوالے کر دیا گیا، جس سے ایک ستم ظریفی کی صورتحال پیدا ہو گئی جہاں کسان اپنے حقوق کے لیے کسان قیادت کی بجائے زمیندار قیادت کی طرف دیکھ رہے تھے۔

مبارک حیدر کا یہ بھی استدلال ہے کہ دیہی علاقے کے بجائے شہری علاقے میں کانفرنس کا قیام اس کے بیان کردہ مقصد سے متصادم ہے۔ کانفرنس کے لیے حفاظتی انتظامات بھی کسان کمیٹی کے اصولوں کے خلاف تھے۔ اس طرح جگہ کا انتخاب، زمینداروں کو قیادت سونپنا اور ضلعی انتظامیہ کو سکیورٹی کے فرائض دے دینا ایک اصلاحی (انقلابی کی بجائے) نقطہِ نظر کا اشارہ تھا۔

مبارک حیدر اپنی دلیل کے حق میں بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ چوہدری فتح محمد اور ان کے ساتھی جو کسانوں کے رہنما ہونے کا بہانہ کرتے تھے، درحقیقت زمیندار اشرافیہ کا حصہ تھے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ یہ لوگ پولیس کے لیے جاسوسی کر کے اور ریونیو حکام اور بیوروکریسی کی مدد سے زرعی اکائیوں میں ہیرا پھیری کر کے زمینی جائیدادوں کو محفوظ کرنے میں کامیاب رہے۔ پنجاب میں انقلابی قوتوں کو مضبوط کرنے کے بجائے انہوں نے انقلاب سے بچنے کے لیے زمیندار اشرافیہ کا ساتھ دیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور تبدیلی کے نام پر کسانوں کے ووٹ حاصل کیے لیکن حقیقت میں وہ زمیندار اشرافیہ کے ایجنٹ اور ہمدرد تھے۔

ان پیش رفتوں نے دونوں گروپوں کے درمیان دراڑیں پیدا کر دیں۔ پہلے گروہ (جو کہ سی آر اسلم، قسور گردیزی، سردار شوکت حیات خان اور چوہدری فتح محمد پر مشتمل تھا) کو اصلاح پسند کہا جانے لگا جبکہ دوسرے گروہ (جو کہ میجر محمد اسحاق، مبارک حیدر اور غلام نبی کلّو پر مشتمل تھا) کو انقلابی کہا جانے لگا۔

میجر محمد اسحاق اور ان کے گروپ کا خیال تھا کہ 1960ء اور 1970ء کی دہائیاں دراصل انقلابات اور تبدیلیوں کی دہائیاں تھیں اور انہیں اصلاحی نقطہ نظر کو اپنانے کی بجائے انقلاب لانے پر توجہ دینی چاہیے تھی۔ ان کا خیال تھا کہ قدامت پسند طاقتوں کو دنیا بھر کی انقلابی طاقتوں سے شکست ہو رہی تھی تو پنجاب میں بھی انہیں انقلاب کے لئے کوشش کرنی چاہیے تھی۔

بائیں بازو کی قیادت میں اس دھڑے بندی اور نچلی سطح سے ان کی تنہائی کی وجہ سے تحریک میں بنیاد پرستانہ کارروائیوں کو ابھارنے کے لیے قیادت کے خلا پیدا ہو گئے۔ یہ خلا یا تو مقامی قیادت یا دائیں بازو کی جماعتوں نے پر کیا۔ بعد ازاں اس مقامی قیادت کو ذوالفقار علی بھٹو نے سوشلزم کے لیے اپنی بنیاد پرست بیان بازی کے ذریعے تبدیل کر کے اپنے ساتھ ملا لیا۔ پنجاب کسان کمیٹی کی طاقت آہستہ آہستہ ختم ہو گئی۔ اگرچہ مزدوروں اور کسانوں کی بڑی تعداد کو متحرک کیا گیا جنہوں نے جنرل محمد ایوب کے خاتمے اور بھٹو کے عروج میں فعال کردار ادا کیا لیکن بائیں بازو کی سیاست اور مزدور طبقے اور کسانوں کی تحریک 1970ء کی دہائی میں زوال پذیر ہو گئیں۔

مصنف نے شنگھائی یونیورسٹی سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی ہے اور جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں لیکچرار ہیں۔