دنیا

یوکرین پر روسی حملہ مجرمانہ تھا، واحد حل سفارتکاری ہے: چامسکی

ڈیوڈ بارسامیان/نوم چامسکی

نوم چامسکی کے مندرجہ ذیل انٹرویو میں بیان کئے گئے نقطہ نظر پر ایک تنقیدی مضمون گذشتہ ہفتہ کے روز ’جدوجہد‘ میں شائع ہوا تھا۔ یہ مضمون اس لنک پر پڑھا جا سکتا ہے: مدیر

معروف سیاسی ناقد، ماہر لسانیات اور مصنف نوم چومسکی نے حال ہی میں الٹرنیٹو ریڈیو کے ڈیوڈ بارسامیان کے ساتھ یوکرین کی جنگ کے بارے میں ’اختلافات کی تاریخ‘ کے عنوان سے ایک انٹرویو میں تفصیلی گفتگو کی۔

آئیے پہلے صدر جارج ڈبلیو بش سینئر کی اس یقین دہانی سے شروعات کرتے ہیں جو انہوں نے سوویت رہنما میخائل گورباچوف کو کرائی تھی کہ ’نیٹو مشرق کی طرف ایک انچ نہیں بڑھے گا‘…اور یہ یقین دہانی ایک تصدیق شدہ بات ہے۔ میرا آپ سے سوال ہے کہ گورباچوف کو یہ یقین دہانی تحریری طور پر کیوں نہ دی گئی؟

نوم چامسکی: گورباچوف نے ایک معقول آدمی کا معاہدہ قبول کیا، جو سفارت کاری میں کوئی خلاف معمول بات نہیں ہے۔ بالمشافہ عہد و پیمان بھی ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ عہد و پیمان کو تحریر کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تحریری معاہدے بس کاغذ پر ہی موجود رہتے ہیں۔ اہم چیز نیک نیتی ہے۔ دراصل بش سینئر نے واضح طور پر اس معاہدے کا احترام کیا۔ یہاں تک کہ وہ امن میں شراکت داری قائم کرنے کی طرف بڑھا، جو یوریشیا ممالک میں بقائے باہمی کی فضا پیدا کر دیتا۔ نیٹو کو ختم کرنے کے بجائے اس کی قوت کو کم کرنے کا منصوبہ تھا۔ مثال کے طور پر تاجکستان جیسے ملک باضابطہ طور پر نیٹو کا حصہ بنے بغیر شامل ہو سکتے ہیں۔ گورباچوف نے اس منصوبے کی منظوری دی۔ یہ ایک ایسا اقدام ہوتا جو بقول ان کے ایک مشترکہ یورپی گھر کو وجود میں لاتا جس کا کوئی فوجی اتحاد نہ ہوتا۔

بل کلنٹن بھی اپنے پہلے دو سال اس پر کاربند رہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ 1994ء میں کلنٹن نے پچ کے دونوں طرف کھیلنا شروع کر دیا تھا۔ روسیوں سے وہ کہہ رہے تھے: ’ہاں ہم معاہدے کی پاسداری کریں گے‘۔ امریکا کی پولش کمیونٹی اور دیگر نسلی اقلیتوں سے وہ کہہ رہے تھے: ’فکر نہ کریں، ہم آپ کو نیٹو میں شامل کر لیں گے‘۔ 97-1996ء تک کلنٹن نے یہ بات اپنے دوست روسی صدر بورس یلسن سے واضح طور پر کہی، جس کی اس نے 1996ء کے الیکشن جیتنے میں مدد کی تھی۔ کلنٹن نے یلسن سے کہا: ’تم نیٹو کے اس معاملے پر زیادہ زور نہ ڈالو، ہم اس میں توسیع کرنے جا رہے ہیں اس لیے کہ مجھے امریکا کے نسلی ووٹ کی ضرورت ہے‘۔

1997ء میں کلنٹن نے نام نہاد وائس گراڈ ممالک…ہنگری، چیکوسلواکیہ، رومانیہ کو نیٹو میں شمولیت کی دعوت دی۔ روسیوں نے اسے پسند نہ کیا لیکن زیادہ ہنگامہ بھی نہ کیا۔ پھر بالٹک قومیں شامل ہوئیں۔ 2008ء میں بش جونیئر نے جو سینئر سے بالکل مختلف تھا، جارجیا اور یوکرین کو نیٹو میں مدعو کیا۔ ہر امریکی سفارت کار یہ بخوبی جانتا تھا کہ جارجیا اور یوکرین روس کے لیے سرخ لکیر ہیں۔ وہ کسی اور جگہ توسیع برداشت کر لیں گے مگر یہ ممالک ان کے جیو سٹریٹیجک مراکز میں ہیں یہاں توسیع برداشت نہیں کریں گے۔ کہانی اس طرح جاری رہتی ہے اور پھر یوکرین میں 2014ء کی بغاوت ہوئی، جس میں روس نواز صدر کا تختہ الٹ دیا گیا اور یوکرین کا جھکاؤ مغرب کی طرف ہو گیا۔

2014ء سے امریکہ اور نیٹو نے یوکرین میں ہتھیار پہنچانا شروع کئے…جدید ہتھیار، فوجی تربیت، مشترکہ فوجی مشقیں، یوکرین کو نیٹو ملٹری کمانڈ میں ضم کرنے کے لیے اقدامات کئے گئے۔ جو اب کوئی راز نہیں رہا۔ یہ سب بڑا واضح تھا۔ حال ہی میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے اس پر شیخی ماری اور کہا: ’یہ وہی ہے جو ہم 2014ء سے کر رہے تھے‘۔ ظاہر ہے یہ بات بالکل ٹھیک ہے، یقیناً یہ ایک سوچا سمجھا اقدام تھا اور انتہائی اشتعال انگیز بھی۔ یہ اقدام کرنے والے جانتے تھے کہ وہ تجاوز کر رہے ہیں جسے ہر روسی رہنما ناقابل برداشت سمجھتا ہے۔ فرانس اور جرمنی نے 2008ء میں اسے ویٹو کر دیا تھا لیکن امریکی دباؤ پر اسے ایجنڈے پر رکھا گیا۔ نیٹو یعنی امریکا، نیٹو میں یوکرین کے ڈی فیکٹو انضمام کو تیز کرنے کے لیے آگے بڑھا۔

2019ء میں ولادی میر زیلینسکی بھاری اکثریت کے ساتھ منتخب ہوئے، میرے خیال میں تقریباً 70 فیصد ووٹ لے کر، وہ ایک امن پلیٹ فارم پر مسئلہ کے حل کے لیے مشرقی یوکرین اور روس کے ساتھ امن کا منصوبہ لے کر آگے بڑھنا شروع ہوئے۔ وہ درحقیقت منسک II کے معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے روسی متصلہ مشرقی علاقے ڈونباس کی جانب متوجہ ہوئے۔ وہ چاہتے تھے کہ یوکرین کے وفاقی درجے کے ساتھ ڈونباس کو سوئٹزرلینڈ یا بیلجیم کی طرح ایک خاص حد تک خود مختاری دے دی جائے۔ تاہم زیلینسکی کو دائیں بازو کی ملیشیاؤں نے اس سے روک دیا اور دھمکی دی کہ اگر یہ کوشش جاری رکھی گئی تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔

زیلینسکی ایک بہادر آدمی ہیں اگر انہیں امریکہ کی طرف سے کوئی حمایت حاصل ہوتی تو وہ آگے بڑھ سکتے تھے۔ تاہم امریکہ نے انکار کر دیا۔ کوئی پشت پناہی نہ کی، کچھ بھی نہ کیا، جس کا مطلب ہے کہ انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا جس کی وجہ سے زیلینسکی کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ امریکہ کی یوکرین کو نیٹو کی فوجی کمان میں مرحلہ وار ضم کرنے کی پالیسی میں تیزی تب آئی جب صدر بائیڈن منتخب ہوئے۔ بائیڈن نے ستمبر 2021ء میں ایک پروگرام کا اعلان کیا جس میں فوجی تربیت، فوجی مشقیں اور مزید ہتھیاروں کے عمل کو تیز کرنا شامل تھا، بائیڈن انتظامیہ نے اس پروگرام کو یوکرین کی نیٹو میں رکنیت کے لیے تیاری کا ’بہتر پروگرام‘ قرار دیا تھا۔ آپ اسے وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر پڑھ سکتے ہیں، اس کی باضابطہ خبر جاری نہیں کی گئی لیکن یقیناً روسی یہ سب جانتے تھے۔ نومبر میں اس میں مزید تیزی آئی۔ یہ سب حملے سے پہلے کی بات ہے۔ سیکرٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے دستخط کیے جسے ایک چارٹر کہا جاتا تھا، جس نے بنیادی طور پر اس انتظام کو باضابطہ طور پر آگے بڑھایا۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے اعتراف کیا کہ حملے سے پہلے امریکہ نے کسی بھی روسی سکیورٹی خدشے پر بات کرنے سے انکار کیا تھا۔ یہ سب پس منظر کا حصہ ہے۔

24 فروری کو پوتن نے حملہ کیا، ایک مجرمانہ حملہ تھا۔ یہ سنگین اشتعال انگیزی تھی۔ اس حملے کا کوئی جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر پوتن ایک سیاستدان ہوتے تو وہ جو کچھ کرتے وہ بالکل مختلف ہوتا۔ وہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے رجوع کرتے، ان کی عارضی تجاویز کو بروئے کار لاتے اور یورپ کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کرتے، اس صورت میں یورپ کو ایک مشترکہ گھر بنانے کی طرف پیش رفت ہوتی۔

بلاشبہ امریکہ ہمیشہ اس کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ یہ سرد جنگ کی تاریخ میں ایک آزاد یورپ کے قیام کے لیے فرانسیسی صدر ڈی گال کے اقدامات کی یاد دلاتا ہے۔ ڈی گال کے الفاظ میں ’بحر اوقیانوس سے یورال تک‘ روس کو مغرب کے ساتھ ضم کرنا تجارتی اور سکیورٹی لحاظ سے بہت ہی سود مند اور ایک قدرتی تقسیم ہے۔ لہٰذا اگر تنگ نظر پوتن کے بجائے اگر کوئی اور سیاستدان روس کا رہنما ہوتا، تو وہ میکرون کے اقدامات کو سمجھ لیتا اور یہ دیکھنے کے لیے تجربہ کرتا کہ آیا حقیقت میں روس یورپ کے ساتھ ضم ہو سکتا ہے اور بحران کو ٹالا جا سکتا ہے۔ اس کی بجائے پوتن نے جو انتخاب کیا وہ روسی نقطہ نظر سے مکمل عدم استحکام پر مبنی ہے۔ حملے کے جرم کے علاوہ پوتن نے ایک ایسی پالیسی کا انتخاب کیا جس نے یورپ کو امریکہ کی جیب میں ڈال دیا۔ درحقیقت اسی لیے سویڈن اور فن لینڈ بھی نیٹو میں شامل ہونے پر آمادہ ہوئے ہیں۔ اس حملے کے جرم اور اس کی وجہ سے روس کو ہونے والے انتہائی سنگین نقصانات کے علاوہ روسی نقطہ نظر سے یہ بدترین ممکنہ نتیجہ ہے۔

کریملن کی طرف سے جرم اور حماقت، امریکہ کی طرف سے شدید اشتعال، یہی وہ پس منظر ہے جس کی وجہ سے یہ سب ہوا ہے۔ کیا ہم اس وحشت کو ختم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں؟ یا ہمیں اسے برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے؟ یہی دو انتخاب ہیں۔

نوم چامسکی: اسے ختم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ وہ ہے سفارت کاری۔ سفارت کاری وہ ہوتی ہے جسے دونوں فریق قبول کرتے ہیں۔ وہ اسے پسند تو نہیں کرتے، لیکن ایک ایسے اختیار کے طور پر قبول کر لیتے جس میں برائی کم ہو۔ ڈپلومیسی پوتن کو کسی حد تک فرار کا موقع پیش کرے گی۔ یہ ایک امکان ہے۔ دوسرا طریقہ ہے اس بحران کو طول دینا اور یہ دیکھنا ہے کہ کس فریق کو کتنا نقصان پہنچے گا، کتنے یوکرینی مریں گے، روس کو کتنا نقصان پہنچے گا، ایشیا اور افریقہ میں کتنے ملین لوگ بھوک سے مریں گے، ہم ماحولیاتی حدت میں کتنا اضافہ کریں گے۔ کیا اتنا اضافہ کریں گے کہ زندہ رہنے کا کوئی امکان نہ رہے۔ یہی دو انتخاب ہیں۔ سو فیصد اتفاق رائے کے ساتھ امریکہ اور بیشتر یورپی ممالک سفارتکاری کا انتخاب نہیں کرنا چاہتے۔ یہ واضح ہو گیا ہے۔ ہمیں بس روس کو نقصان پہنچاتے رہنا ہے۔

آپ ’نیویارک ٹائمز‘ اور ’لندن فنانشل ٹائمز‘ کے کالم پڑھ سکتے ہیں۔ پورے یورپ میں ایک ہی بات دہرائی جا رہی ہے کہ ہمیں یہ یقینی بنانا ہو گا کہ روس کو نقصان پہنچے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یوکرین یا کسی اور کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ بلاشبہ اس کھیل میں ہم نے فرض کر لیا ہے کہ اگر پوتن کو اس حد تک دھکیل دیا جائے کہ اسے فرار کی کوئی راہ نہ ملے اور وہ شکست تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے، اپنی شکست کو تسلیم بھی کر لے گا اور یہ کہ وہ یوکرین کو تباہ کرنے کے لیے اپنے پاس موجود خوفناک ہتھیاروں کا استعمال نہیں کرے گا۔

بہت ساری چیزیں ہیں جو روس نے نہیں کیں۔ مغربی تجزیہ کار اس پر حیران ہیں۔ یعنی انہوں نے پولینڈ کی سپلائی لائنوں پر حملہ نہیں کیا جہاں سے یوکرین میں ہتھیار پہنچائے جا رہے ہیں۔ وہ یقیناً یہ کر سکتے تھے۔ تاہم یہ اقدام بہت جلد انہیں نیٹو یعنی امریکہ کے ساتھ براہ راست تصادم میں لے آئے گا۔ پھر اس شروعات کی انتہا کیا ہو گی، آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ کوئی بھی جس نے کبھی جنگی کھیلوں کو دیکھا ہے وہ جانتا ہے کہ یہ اقدام کس طرف جائے گا…جوہری جنگ کی طرف۔

لہٰذا یہ وہ کھیل ہیں جو ہم یوکرائنی، ایشیائی اور افریقی زندگیوں اور ان تہذیبوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں، محض روس کو کمزور کرنے کے لیے، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ روس کوکافی نقصان اٹھانا پڑے۔ ٹھیک ہے اگر آپ یہ کھیل کھیلنا چاہتے ہیں تو اس کے بارے میں ایماندار بنیں۔ اس کی کوئی اخلاقی بنیاد نہیں ہے۔ اصل میں یہ اخلاقی طور پر بہت خوفناک ہے اور جو لوگ اس بات کے بارے میں احساس برتری میں مبتلا ہیں کہ ہم اصولوں کو برقرار رکھے ہوئے ہیں وہ اخلاقی طورپر بونے لگتے ہیں خاص کر جب آپ سوچتے ہیں کہ اس سارے معاملے کی اصل وجہ کیا ہے۔

میڈیا، امریکہ کے سیاسی طبقے اور شاید یورپ میں بھی روسی بربریت، جنگی جرائم اور مظالم کے بارے میں بہت زیادہ اخلاقی غصہ پایا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر جنگ میں اسی طرح ہوتا ہے۔ کیا آپ کو یہ اخلاقی غصہ تھوڑا منتخب سا نہیں لگتا؟

نوم چومسکی: اخلاقی غصہ اپنی جگہ پر ہے۔ اخلاقی غصہ ہونا چاہیے۔ لیکن آپ جنوب کے ممالک میں جائیں تو انہیں یقین نہیں آتا کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں۔ وہ یقیناً جنگ کی مذمت کرتے ہیں کیوں کہ یہ جارحیت قابل مذمت جرم ہے۔ پھر وہ مغرب کی طرف دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں: تم لوگ کیا بات کر رہے ہو؟ یہ وہی تو ہے جو آپ ہمیشہ ہمارے ساتھ کرتے ہیں۔ تبصروں میں فرق دیکھنا حیران کن ہے۔ آپ نیو یارک ٹائمز اور ان کے بڑے مفکر تھامس فریڈمین کو پڑھیں۔ اس نے چند ہفتے پہلے ایک کالم لکھا تھا جس میں اس نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’ہم کیا کر سکتے ہیں، ہم ایسی دنیا میں کیسے رہ سکتے ہیں جہاں جنگی مجرم ہوں، ہم نے ہٹلر کے بعد کبھی اس کا تجربہ نہیں کیا۔ روس میں ایک جنگی مجرم ہے۔ ہمیں سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیاکریں۔ ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ جنگی مجرم کہیں بھی ہو سکتا ہے‘۔

جب جنوبی دنیا میں لوگ یہ سنتے ہیں، تو وہ نہیں جانتے کہ انہیں ہنسنا ہے یا طنز کے تیر چلانے ہیں۔ ہمارے پاس جنگی مجرم پورے واشنگٹن میں گھوم رہے ہیں۔ دراصل ہم اپنے جنگی مجرموں سے نمٹنا جانتے ہیں۔ درحقیقت یہ افغانستان پر حملے کی 20 ویں برسی پر ہوا۔ یاد رکھیں افغانستان پر حملہ مکمل طور پر بلا اشتعال حملہ تھا، جس کی عالمی رائے عامہ نے سخت مخالفت کی۔ اس حملے کے منصوبہ ساز جارج ڈبلیو بش کا واشنگٹن پوسٹ کے سٹائل سیکشن میں ایک انٹرویو شائع ہوا جب اس نے عراق پر بھی حملہ کر دیا تھا، انٹرویو میں ایک پیارے اور احمق دادا کو دکھایا گیا جو اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ کھیل رہا ہے، انہیں لطیفے سنا کر ہنسا رہا ہے، اس کے بنائے ہوئے ان معروف افراد کے پورٹریٹ دکھائے گئے جن سے وہ مل چکا تھا۔ انٹرویو میں ایک بہت خوبصورت اور دوستانہ ماحول کی تصویر کشی کی گئی تھی۔ لہٰذا ہم جانتے ہیں کہ جنگی مجرموں سے کیسے نمٹا جائے۔ تھامس فریڈمین غلط ہے۔ ہم ان کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے پیش آتے ہیں۔

دور جدید کے بڑے جنگی مجرم ہنری کسنجر ہی کو لے لیں۔ ہم اس کے ساتھ نہ صرف شائستگی کے ساتھ پیش آتے ہیں بلکہ بڑی تعریفیں بھی کرتے ہیں۔ آخر کار یہ وہی آدمی ہے جس نے اپنی فضائیہ کو یہ حکم دیا تھا کہ کمبوڈیا پر بڑے پیمانے پر بمباری کی جائے۔ ’کوئی بھی چیز جو حرکت کرتی نظر آئے اسے نشانہ بنانا جائے‘ یہ اس کا حکم تھا۔ آرکائیو ریکارڈ کی روشنی میں بڑے پیمانے پر ہونے والی نسل کشی کا موازنہ تو نہیں کر سکتا، جو کمبوڈیا پر انتہائی شدید بمباری کے ساتھ کی گئی۔ ہم اس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے کیونکہ ہم خود اپنے جرائم کی تفتیش نہیں کرتے، تاہم کمبوڈیا کے سنجیدہ مورخین ٹیلر اوون اور بین کیرنن نے اس کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

پھر چلی میں سلوادور الاندے کی حکومت کا تختہ الٹنے اور وہاں ایک شیطانی آمریت قائم کرنے میں ہمارا کردار ہے۔ لہٰذا ہم جانتے ہیں کہ اپنے جنگی مجرموں سے کیسے نمٹا جائے۔

تھامس فریڈمین تاحال تصور نہیں کر سکتے کہ یوکرین پر کیا بیتی۔ فریڈمین نے جو لکھا اس پر کوئی تبصرہ بھی نہیں کیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ ان کی رائے کو کافی معقول سمجھا جاتا ہے لہٰذا آپ مشکل سے ’منتخب غصے‘ کے الفاظ استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ زیادہ حیرت کی بات نہیں۔ ہاں اخلاقی غصہ اپنی جگہ پر بجا ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ آخرکار امریکیوں نے کسی اور کے ہی سہی، بڑے جنگی جرائم کے بارے میں کچھ غصہ ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے۔

میرے پاس آپ کے لیے ایک چھوٹی سی پہیلی ہے، جو دو حصوں پر مشتمل ہے۔ روس کی فوج نکمی اور نااہل ہے۔ اس کے سپاہیوں کے حوصلے بہت پست اور قیادت کمزور ہے۔ روسی معیشت کا شمار اٹلی اور سپین کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک حصہ ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ روس ایک دیوقامت فوج کاحامل ملک ہے، یہ خطرہ موجود ہے کہ وہ ہمیں کسی بھی وقت مغلوب کر سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں مزید ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔ آئیے نیٹو کو وسعت دیں۔ آپ ان دو متضاد خیالات کو کیسے ملاتے ہیں؟

نوم چامسکی: یہ دونوں افکار پورے مغرب میں رائج ہیں۔ نیٹو میں شامل ہونے کے منصوبوں کے بارے میں سویڈن میں ایک طویل انٹرویو دیا تھا۔ میں نے نشاندہی کی کہ سویڈش رہنماؤں کے دو متضاد نظریات ہیں، جن کا آپ نے بھی ذکر کیا۔ ایک آپ اس حقیقت پر خوش ہو رہے ہیں کہ روس نے خود کو کاغذی شیر ثابت کیا جو اپنی سرحد سے چند میل دور شہروں کو فتح نہیں کر سکتا، ایک ایسے ملک کے خلاف جس کا دفاع زیادہ تر شہریوں کی فوج کے ذریعے کیا جاتا ہے لہٰذا روس عسکری لحاظ سے مکمل طور پر نااہل ہے۔ دوسری سوچ یہ ہے کہ روس مغرب کو فتح کرنے اور ہمیں تباہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

جارج آرویل کا اس حوالے سے نام اہم ہے جنہوں نے سب سے پہلے اسے ’دوغلی سوچ‘ کا نام دیا، یعنی ذہن میں دو متضاد خیالات رکھنے اور بیک وقت ان دونوں پر یقین کرنے کی صلاحیت۔ آرویل نے غلط سمجھا کہ یہ وہ چیز تھی جو صرف انتہائی مطلق العنانیت میں ہی پیدا ہوتی ہے، جس پر وہ اپنے ناول’1984ء‘میں طنز کر رہے تھے۔ اس حوالے ان کی توجیہہ درست نہ تھی، بلکہ دوغلی سوچ تو آزاد جمہوری معاشروں میں پائی جاتی ہے۔ اتفاق سے ہم اس وقت اس کی ایک ڈرامائی مثال دیکھ رہے ہیں اور ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا۔

مثال کے طور پر اس طرح کی دوغلی سوچ سرد جنگ دور کی خصوصیت ہے۔ آپ ان برسوں کی سرد جنگ کی اہم دستاویز کو اس تناظر میں دوبارہ دیکھیں (امریکی قومی سلامتی کونسل کی رپورٹ) 1950ء کی ’NSC-68‘۔ اسے غور سے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کے علاوہ اکیلا یورپ عسکری طور پر روس کے برابر ہے لیکن شور مچایا جا رہا ہے کہ کریملن سے مقابلہ ہے اس لیے بڑے پیمانے پر ہتھیار سازی کا پروگرام ناگزیر ہو گیاہے۔

مذکورہ دستاویز محض ایک دستاویز ہے اور یہ ایک شعوری نقطہ نظر تھا۔ اس کے مصنفین میں سے ایک، ڈین ایچیسن، نے بعد میں حکومت کے قوی الجثہ ذہن کو جھنجھوڑنے کے لیے ایک جملہ بھی کہا ’سچائی سے زیادہ واضح‘ ہونا ضروری ہے۔ ہم ایک بہت بڑے فوجی بجٹ کے ساتھ حکومت چلانا چاہتے ہیں، اس لیے ہمیں ایک غلام ریاست کو ہدف بنا کر ’سچائی سے زیادہ واضح‘ ہونا پڑے گا جو دنیا کو فتح کرنے والی ہے۔

ایسی سوچ سرد جنگ کے دوران چلتی ہے۔ میں آپ کو بہت سی دوسری مثالیں دے سکتا ہوں، لیکن ہم اسے اب کافی ڈرامائی انداز میں دیکھ رہے ہیں اور جو آپ نے کہا وہ بالکل درست ہے، یہ دونوں نظریات مغرب کو کھا رہے ہیں۔

یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ سفارت کار جارج کینن نے نیٹو کی جانب سے اپنی سرحدوں کو مشرق کی طرف وسعت دینے کے خطرے کی پیشگوئی ایک انتہائی پروقار تحریر میں کی تھی جو 1997ء میں نیو یارک ٹائمز میں شائع ہوئی تھی۔

نوم چامسکی: کینن بھی ’68 NSC‘ کے مخالف تھے۔ دراصل وہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے پالیسی پلاننگ اسٹاف کے ڈائریکٹر رہ چکے تھے۔ انہیں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ پال نٹزے نے لے لی۔ کینن کو اس سخت دنیا کے لیے بہت نرم سمجھا جاتا تھا۔ وہ ایک بنیاد پرست کمیونسٹ مخالف اور امریکی پوزیشنوں کے حوالے سے کسی حد تک سفاک سفارت کار تھے، لیکن روس کے ساتھ فوجی تصادم کو غیر ضروری سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا روس بالآخر اندرونی تضادات سے منہدم ہو جائے گا، جو درست نکلا لیکن وہ اپنے پورے کیریئر میں امن کی فاختہ سمجھے گئے۔ 1952ء میں وہ نیٹو فوجی اتحاد کے بجائے جرمن اتحاد کے حق میں تھے، جو دراصل سوویت حکمران جوزف اسٹالن کی تجویز بھی تھی۔ کینن سوویت یونین میں سفیر بھی رہے اور وہ روسی امور کے ماہر تھے۔ اسٹالن کا اقدام کینن کی تجویز بن گیا۔ بعض یورپیوں نے اس کی حمایت کی۔ اس تجویز سے سرد جنگ ختم ہو سکتی تھی۔ اس کا مطلب ایک غیر جانبدار اور غیر عسکری جرمنی تھا جو کسی فوجی بلاک کا حصہ نہ ہو۔ واشنگٹن میں اسے تقریباً مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا تھا۔

خارجہ پالیسی کے ایک قابل احترام ماہر جیمز واربرگ نے اس بارے میں ایک کتاب ”جرمنی: امن کی کلید“ لکھی جو پڑھنے کے قابل ہے۔ اس میں انہوں نے زور دیا کہ اس خیال کو سنجیدگی سے لیا جائے، جسے نظر انداز کیا گیا، مذاق اڑایا گیا۔ میں نے ایک دو بار اس تجویز کا تذکرہ کیا تو میرا بھی ایک پاگل کے طور پر مذاق اڑایا گیا کہ آپ سٹالن کا کیسے یقین کر سکتے ہیں۔ خیر بعد میں آرکائیوز سامنے آئے۔ پتہ چلا کہ وہ بظاہر سنجیدہ تھا۔ اب آپ سرد جنگ کے سرکردہ تاریخ دانوں میلون لیفلر جیسے لوگوں کو پڑھتے ہیں جو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اس وقت پرامن تصفیہ کا ایک حقیقی موقع تھا، جسے عسکریت پسندی اور فوجی بجٹ میں توسیع کے جوش میں مسترد کر دیا گیا۔

اب آئیے جان ایف کینیڈی انتظامیہ کی طرف۔ جب کینیڈی اقتدار میں آئے تو اس وقت روس کی قیادت کرنے والے نکیتا خروشیف نے جارحانہ فوجی ہتھیاروں میں بڑے پیمانے پر باہمی کمی لانے کی ایک بہت اہم پیشکش کی، جس کا مطلب تناؤ کو فوری کم کرنا تھا۔ اس وقت امریکہ عسکری لحاظ سے بہت آگے تھا۔ خروشیف روس میں اقتصادی ترقی کی طرف بڑھنا چاہتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ ایک بہت زیادہ امیر مخالف کے ساتھ فوجی تصادم کی صورت میں ممکن نہیں لہٰذا اس نے سب سے پہلے صدر آئزن ہاور کو یہ پیشکش کی، جنہوں نے کوئی توجہ نہ دی، اس کے بعد یہ تجویز کینیڈی کو پیش کی گئی جنہوں نے تاریخ میں امن دور کی بڑی فوجی قوت کے ہوتے ہوئے بھی اس کا مثبت جواب دیا، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ امریکہ روس سے بہت آگے ہے۔

امریکہ نے ایک ’میزائل گیپ‘ تیار کیا۔ تاثر یہ تھا کہ روس میزائلوں میں اپنی برتری کے باعث ہم پر غالب آنے والا ہے۔ خیر جب میزائلوں کا فرق سامنے آیا تو امریکہ آگے نکلا۔ ہو سکتا ہے کہ روس نے کسی ایئر بیس پر چار میزائل داغے ہوں۔

آپ اسی طرح آگے بڑھ سکتے ہیں۔ عوام کی سلامتی پالیسی سازوں کے لیے کسی تشویش کا باعث نہیں ہوتی۔ مراعات یافتہ لوگوں، کارپوریٹ سیکٹر، اسلحہ سازوں کی سکیورٹی البتہ ضروری ہے باقی ہم جیسوں کی نہیں۔ یہ دوغلی سوچ مستقل ہے، کبھی شعوری کبھی غیر شعوری، یہ وہی ہے جو اورویل نے بیان کیا، ایک آزاد معاشرے میں انتہا کی مطلق العنانیت۔

آپ نے اپنے ایک مضمون میں آئزن ہاور کی 1953ء کی ’کراس آف آئرن‘ تقریر کا حوالہ دیا۔ آپ کو اس میں کیا دلچسپ چیز نظر آئی؟

نوم چامسکی: آپ کو اسے پڑھنا چاہئے اور آپ دیکھیں گے کہ یہ کیوں دلچسپ ہے۔ یہ آئزن ہاور کی بہترین تقریر ہے۔ یہ 1953ء کی بات ہے جب وہ ابھی صدارت سنبھال رہے تھے۔ بنیادی طور پر انہوں نے جس چیز کی طرف اشارہ کیا وہ یہ تھا کہ عسکریت پسندی ہمارے اپنے معاشرے پر ایک زبردست حملہ ہے۔ جس نے بھی تقریر لکھی تھی اس نکتے کو بہت فصاحت کے ساتھ بیان کیا۔ ایک جیٹ طیارے کا مطلب کئی سکول اور ہسپتال ہیں۔ ہم جب بھی اپنا فوجی بجٹ بنا رہے ہوتے ہیں، دراصل خود پر حملہ آور ہوتے ہیں۔

ہاور نے فوجی بجٹ میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے قدرے تفصیل سے بیان کیا۔ ان کا اپنا ایک بہت ہی ناگوار ریکارڈ تھا، تاہم فوجی بجٹ کے حوالے سے ان کا نکتہ نظر درست تھا۔ ان کے مذکورہ الفاظ ہم سب کے ذہنوں میں نقش ہو جانے چاہیے۔ حال ہی میں بائیڈن نے ایک بہت بڑا فوجی بجٹ تجویز کیا۔ کانگریس نے اسے بائیڈن کی خواہش سے بھی زیادہ بڑھا دیا جو ہمارے معاشرے پر ایک بڑے حملے کی نشاندہی کرتا ہے، بالکل اسی طرح جیسا کہ آئزن ہاور نے کئی سال پہلے وضاحت کی تھی۔

عذر: یہ دعویٰ کہ ہمیں اس کاغذی شیر سے اپنا دفاع کرنا ہے، جو عسکری طور پر نااہل ہے اور اپنی سرحد سے ایک دو میل دور کامیاب پیش قدمی نہیں کر سکتا۔ لہٰذا ایک زبردست فوجی بجٹ کے ساتھ ہمیں اپنے آپ کو شدید نقصان پہنچانا اور دنیا کو بھی خطرے میں ڈالنا ہے، بے پناہ وسائل کو ضائع کرنا ہے جو ان شدید بحرانوں سے نمٹنے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں جن کا ہمیں سامنا ہے۔ (اس کا نتیجہ یہ نکلے گا) ہم ٹیکس دہندگان کے فنڈز فوسل فیول پیدا کرنے والوں کی جیبوں میں جاتے رہیں گے تاکہ وہ جلد از جلد دنیا کو تباہ کر سکیں۔ ہم اپنے سامنے فوسل فیول کی پیداوار اور فوجی اخراجات دونوں کی توسیع ہوتی دیکھ رہے ہیں۔ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اس بارے میں خوش ہیں۔ اسلحہ ساز کمپنیوں کے ایگزیکٹو دفاتر میں جائیں، وہ پرجوش دکھائی دیں گے، یہ ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہاں تک کہ انہیں اب کریڈٹ بھی دیا جا رہا ہے۔ زمین پر زندگی کے امکانات ختم کر کے تہذیب کو بچانے پر ان کی تعریف کی جا رہی ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک کو تو بھول ہی جائیں۔

اگر کوئی خلائی مخلوق موجود ہے تو وہ سوچے گی کہ ہم سب پاگل ہیں…اور وہ صحیح سوچے گی۔