شاعری

چلئے چھپا کے غم بھی زر و مال کی طرح: شکیب جلالی

قیصر عباس

شکیب جلالی (1934-1966ء) اس دور کا شاعر تھا جب شعر و ادب کے توانا دیئے فکر و احساس کی روشنی پھیلایا کرتے تھے اور ہوائیں ابھی اتنی توانا نہیں تھیں کہ انہیں بجھا سکیں۔ اس نے شاعری کی زرخیز زمینوں میں غزل کے وہ پھول کھلائے جو آج بھی اسی طرح تازہ ہیں جس طرح پہلے تھے۔

احمد ندیم قاسمی نے شکیب کے بارے میں کہا تھا:

”اردو غزل کی روایت میں شکیب کا مقام منفرد ہے۔ اس کے دور میں فیض اور ناصر کاظمی خوبصورت غزلیں کہہ رہے تھے مگر وہ شکیب ہی تھا جس نے غزل کو موضوع و اظہار کے حوالے سے ایک متوازن جدت کا موڑ دیا۔ یوں وہ جدید غزل نگاروں کا سالار ہے۔“

رنج و الم اور واردات عشق اس کی شاعری کے دو لازوال پہلو بن کر ابھرے۔ اس کا غم ذاتی بھی تھا اور خارجی بھی مگر عشق اس کی زندگی کا حاصل تھا اور ان ہی دو محرکات نے اس کے شعری فن کو دوام بخشا۔ نئی غزل کایہ طرحدار شاعر اپنی آنکھوں میں لب و رخسار کا ایک رنگارنگ شہر آباد کئے ہوئے تھا جس کی تعمیر احساس کے لپکتے ہوئے شعلوں کی مرہون منت تھی:

کوئی دیکھے تو سہی یار طرحدار کا شہر
میری آنکھوں میں سجا ہے لب و رخسار کا شہر

دشت احساس میں شعلہ سا کوئی لپکا تھا
اسی بنیاد پہ تعمیر ہوا پیار کا شہر

اس کی ہر بات میں ہوتا ہے کسی بھید کا رنگ
وہ طلسمات کا پیکر ہے کہ اسرار کا شہر

میری نظروں میں چراغاں کا سماں رہتا ہے
میں کہیں جاؤں مرے ساتھ ہے دلدار کا شہر

یوں تر ی گرم نگاہی سے پگھلتے دیکھا
جس طرح کانچ کا گھر ہو مرے پندار کا شہر

دل کا آفاق سمٹتا ہی چلا جاتا ہے
اور پھیلے گا کہاں تک در و دیوار کاشہر

واردات عشق ہر شاعر اپنے انداز سے رقم کرتا ہے لیکن شکیب کا جنون ایک تازہ جہت لئے ہوئے ہے:

اک یاد ہے کہ چھین رہی ہے لبوں سے جام
ایک عکس ہے کہ کانپ رہا ہے شراب میں

عشق کا یہ کھیل جب اپنی معراج کو پہنچتا ہے تو کتاب میں رکھا ہوا سرخ گلاب بھی لب و رخسار کا استعارہ بن کر لکھے ہوئے حروف میں امر ہو جاتا ہے:

چوما ہے میرا نام لب سرخ نے شکیب
یا پھول رکھ دیا ہے کسی نے کتاب میں

غزل کے علاوہ شکیب نے نظمیں بھی لکھیں لیکن بہت کم۔ بھولی بسری یادیں اکثراس کی نظموں میں بلا روک ٹوک در آتی تھیں:

رات اک لڑکھڑاتے جھونکے سے
ناگہاں سنگ سرخ کی سل پر
ائینہ گر کے پاش پاش ہوا
اور ننھی نکیلی کرچوں کی
ایک بوچھاڑ دل کو چیر گئی

ایک اور لازوال نظم ”لرزتا دیپ“ زندگی کی بے مائیگی کی داستان کچھ اس پیرائے میں بیان کر رہی ہے:

دور شب کا سرد ہاتھ
آسماں کے خیمہ زنگار کی
آخری قندیل گل کرنے بڑھا
اور کومل چاندنی
ایک در بستہ گھروندے سے پرے
مضمحل پیڑوں پہ گر کر بجھ گئی

بے نشاں سائے کی دھیمی چاپ پر
اونگھتے رستے کے ہر ذرے نے پل بھر کے لیے
اپنی پلکوں کی بجھی درزوں سے جھانکا
اور آنکھیں موند لیں

اس سمے طاق شکستہ پر لرزتے دیپ سے
میں نے پوچھا
ہم نفس
اب ترے بجھنے میں کتنی دیر ہے؟

لیکن اس کی شاعری کی کائنات اپنی ذات کے حصار تک محدود نہیں تھی کہ اس کے ارد گرد پھیلے ہوئے غم بھی تو اس کے اپنے تھے:

ایک اپنا دیا جلانے کو
تم نے لاکھوں دئے بجھائے ہیں
یوں تو سارے چمن ہمارا ہے
پھول جتنے بھی ہیں پرائے ہیں

عشق کی منزلوں کو طے تو کرنا ہی تھا لیکن اپنے غم اسے زر و مال سے بھی زیادہ عزیز تھے جو اس نے اپنے ذہن کے گوشوں میں کہیں دور چھپا رکھے تھے:

ہر موڑ پر ملیں گے کئی راہزن شکیب
چلئے چھپا کے غم بھی زر و مال کی طرح

مشعل غم نہ بجھاؤ کہ شکیب اس کے بغیر
راستہ گھر کا بھلا دیتی ہیں اکثر یادیں

مسکراتے رہیں سینے میں دہکتے ہوئے داغ
دائم آباد رہے درد کی سرکار کا شہر

دکھوں کے ان المناک طوفانوں کی شدت شکیب کی شاعری میں اکثر اس کی ذات کی ٹوٹ پھوٹ اور نفسیاتی گہرائیوں تک پہنچ جاتی ہے:

تو نے کہا نہ تھاکہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ

اس کی نمناک آنکھوں کے پیچھے نہ جانے کیا غم پل رہے تھے کہ صرف بتیس سال کی عمر میں اس نے اپنی زندگی کا چراغ خود ہی گل کر دیا مگر اس کی پیش گوئی تو اس نے پہلے ہی کر دی تھی:

فصیل جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں
حدود وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی

سرگودھا کا یہ نوجوان شاعر اگر کچھ اور دن زندہ رہتا تو یقینا آج کی ا ردو شاعری پستیوں سے نکل کر آفاق کے نئے گوشوں کوتلاش کرتی نظر آتی:

کبھی ہمارے نقوش قدم کو ترسیں گے
وہی جو آج ستارے ہیں آسمانوں کے

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔