خبریں/تبصرے

امریکی صدر کی جانب سے عام معافی کے اعلانات، سعودی ولی عہد بھی مستفید ہونگے

لاہور (جدوجہد رپورٹ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عام معافی کے اعلانات میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور آنیوالے دنوں میں مزید عام معافی کے اعلانات متوقع ہیں۔

ڈیموکریسی ناؤ کے مطابق ٹرمپ مبینہ طو رپر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو قانونی استثنیٰ دینے پر بھی غور کر رہے ہیں جن پر کینیڈا میں مقیم سابق سعودی انٹیلی جنس افسر کے قتل کے منصوبے کا مقدمہ چل رہا ہے۔ اسی طرح کے اقدام کے ذریعے صحافی جمال خاشوکی کے قتل پر بھی محمد بن سلمان کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ یہ سارا عمل سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا راستہ ہموار کرنے کیلئے کیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے منگل کے روز سابق معاون جارج پاپا ڈوپلوس کو معافی دی ہے جو 2016ء کے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کی تحقیقات کے دوران مجرم ثابت ہو چکے تھے۔ ٹرمپ نے روسی ارب پتی جرمن خان کے ڈچ داماد 36 سالہ الیکس وان ڈیرزوان کو بھی معاف کر دیا۔ انہیں بھی 2016ء کی الیکشن مہم کے دوران کسی عہدیدار سے رابطوں کے بارے میں جھوٹ بولنے پر 30 دن کی قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔

وائٹ ہاؤس کے ذریعے کرسمس سے پہلے عام معافی کے اعلانات کی اس لہر میں ٹرمپ نے 15 افراد کیلئے عام معافی کا اعلان کیا جن میں سے تین سابقہ ریپبلکن سیاستدان بھی شامل تھے۔ 5 افراد کی سزاؤں میں رد و بدل بھی کیا گیا۔