دنیا

کون تھے، کیا تھے گوربا چوف؟

دانیال تنورو

دانیال تنورو سوشلسٹ ورکرز پارٹی بلجئیم کے رکن اور ’امپوسبیلٹی آف گرین کیپٹلزم‘کے مصنف ہیں۔ سوشلسٹ ورکرز پارٹی فورتھ انٹرنیشنل کا بلجئین سیکشن ہے: مدیر

گورباچوف بارے سوشل میڈیا پر بے شمار احمقانہ باتیں لکھی جا رہی ہیں۔

گورباچوف انقلاب کے گورکن تھے: انقلاب پہلے ہی ہلاک ہو چکا تھا۔ انقلاب کی موت 1928ء میں ہو گئی تھی جب اقتدار پر سٹالن نے قبضہ کر لیا تھا۔

انقلاب کا مطلب ہے لوگوں کی انقلابی طاقت جس کا اظہار لوگوں کی منظم کی ہوئی کونسلوں یعنی سویتوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ جب گوربا چوف نے اقتدار سنبھالا تب طاقت محدودے چند بیوروکریٹس کے ایک ٹولے کے ہاتھ میں آ چکا تھا جو سرمایہ داروں کی طرح رہ رہے تھے۔

یہ جونکیں سوشلزم کا ڈھونگ رچانے کا تکلف بھی نہ کرتی تھیں۔ ان بیوروکریٹس کا خواب صرف اتنا تھا کہ ریاستی اثاثے ہتھیا لیں اور ان کو اپنے بچوں کو منتقل کر دیں اور ان کی ’مارکسی لیننی‘ عقیدوں سے جان چھوٹ جائے جو ریاست کا مذہب بن چکے تھے (بے چارہ مارکس! بے چارہ لینن!)۔

ان بوڑھے بیوروکریٹوں کے ٹولے نے گوربا چوف کو کرسی پر بٹھایا تا کہ نظام کو منہدم ہونے سے بچایا جا سکے۔ ان سب کو معلوم تھا کہ نظام کا خاتمہ سر پر منڈلا رہا ہے۔

گورباچوف کا منصوبہ تھا کہ مارکیٹ اصلاحات متعارف کرائی جائیں تا کہ منصوبہ بند معیشت کو ترقی ملے (پریسترائیکا) اور جمہوری اصلاحات متعارف کرائی جائیں تا کہ نوکر شاہی کے اقتدار کو جائز ثابت کیا جا سکے (گلاسناسٹ)۔ مقصد نہ تو سوویت روس کو توڑنا تھا نہ ہی سر مایہ داری کو بحال کرنا تھا۔

گوربا چوف کئی وجوہات (افغانستان، چرنوبل، ریگن کی شروع کی اسلحہ کی دوڑ وغیرہ) کی بنا پر ناکام ہو گئے۔ ایک ایسے ماحول میں کہ جب ’نظام کا خاتمہ سر پر منڈلا رہا تھا‘، نوکر شاہی کے اندر دھڑے بندی تیز ہو گئی۔ ہر کسی کو لگ رہا تھا کہ برا وقت آیا چاہتا ہے۔ ہر بیوروکریٹ چاہتا تھا کہ مستقبل کے لئے اپنی طاقت محفوظ کرے۔ اس کے لئے چاہے کچھ بھی کرنا پڑے۔

بنیادی بات یہ تھی کہ اجتماعی معیشت کا ہولناک نظام (جو اچھے سے چل بھی نہیں رہا تھا) نوکر شاہی کو تو خدمات فراہم کر رہا تھا مگر اس کی بھاری قیمت عام لوگ چکا رہے تھے۔ ایسے نظام میں اصلاحات متعارف کرانا ممکن نہیں تھا۔

دو ہی حل ممکن تھے: سوویتوں کی از سر نو ایجاد کے ذریعے نوکر شاہی مخالف انقلاب یا نوکرشاہی کی آمریت کے ذریعے سرمایہ داری کی بحالی جس کے نتیجے میں بیوروکریٹس پوری طرح سر مایہ دار بن جائیں اور عالمی سرمائے کے ساتھ ہاتھ ملا لیں۔ دہائیوں کی آمریت اور ریا کاری کی وجہ سے پہلے حل کا امکان بہت ہی کم تھا۔

چینی کیمونسٹ پارٹی نے گوربا چوف کی غلطیوں سے جلد ہی سبق سیکھا: پریسترائیکا: ہاں، گلاسناسٹ: نہیں۔ اس سے بھی اہم یہ بات کہ اہل چین کو جمہوری حقوق نہیں ملیں گے۔ بالخصوص سلطنت چین میں موجود قومیتوں کو تو جمہوری حقوق بالکل بھی نہیں ملیں گے۔

یوں چین میں نوکر شاہی نے اقتدار بچا لیا اور اس دوران چین اور یہ نوکر شاہی ایک سامراجی طاقت میں تبدیل ہو گئے۔ اس مقصد کے لئے ایک ایسی آمریت بروئے کار لائی گئی جوسٹالنزم سے ورثے میں ملنے والے پولیس آپریٹس کے ذریعے نافذ ہوتی ہے اور سلی کان ویلی کے جدید طریقوں کا ستعمال کرتی ہے۔

پوتن نے بھی گوربا وف سے سبق سیکھا۔ پوتن کا خیال ہے کہ گوربا چوف کے ’احمقانہ‘منصوبے اور ’گلاسناسٹ‘ کی بجائے 1988-91ء میں تلواریں نیام سے باہر آنی چاہئیں تھیں۔ پولینڈ، بالٹک ریاستوں، یوکرین اور جارجیا کو سبق سکھانا چاہئے تھا۔ جس طرح 1968ء میں پراگ اور 1956ء میں ہنگری میں ٹینک بھیجے گئے تھے، ویسے ہی ٹینک بھیجنے چاہئے تھے۔

پوتن کے نزدیک شروع سے ہی ایسی آمریت مسلط کر دینی چا ہئے تھی کیونکہ ریاستی اثاثوں پر نوکر شاہی کے قبضے کے لئے یہ ایک قدرتی امر تھا۔ اس طرح مرکزی سطح پر، ماسکو کے زیر نگرانی، نوکر شاہی سرمایہ دار ٹھگوں میں تبدیل ہو جاتی بجائے اس خونی، بے ہنگم اور منقسم انداز میں جیسا کہ سوویت یونین کے حصے بخرے ہونے کے بعد ہر ریاست میں نوکر شاہی اپنے اپنے طور پر سرمایہ دار ٹولے میں تبدیل ہوئی۔

پوتن تاریخ کے پہئے کو الٹا گھمانا چاہتا ہے (اس کی فوج جس حد بھی گھما سکے) تا کہ روسی ٹھگ سرمایہ داروں کو وہ روسی سلطنت مہیا کر سکے جو کبھی بھی ان کے ہاتھ سے نہیں نکلنی چاہئے تھی۔ جنگ ِیوکرین کا یہی مطلب ہے اور یہ ایک سامراجی جنگ ہے۔

تاریخ کا پہیہ الٹا گھمانے کا مطلب ہے رجعت پسندانہ نصب العین۔ سامراج کے عہد میں، اس نصب العین کا مطلب ہوتا ہے فسطایت کا اظہار۔ یوکرین پر جارحیت کے لئے ایسی ہی سوچ کی مدد لی جا رہی ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ دُوگن (انتہا پسند نظریات رکھنے والا مفکر جسے پوتن کا دماغ کہا جاتا ہے: مترجم) ایوولا کا معترف اور جادو ٹونے پر یقین رکھتا ہے۔ یہ بھی کوئی اتفاق کی بات نہیں کہ روس کے سب سے بڑے پادری نے یوکرین میں پوتن کے جرائم کو جائز قرار دیا ہے۔ موصوف کا خیال ہے کہ یہ جنگ ’اخلاق باختہ مغرب نواز‘ ہم جنس پرستوں کے خلاف ہے۔

بائیں بازو بابت کیا خیال ہے؟ بایاں بازو اپنی تاریخ اور تاریخی کہانیوں میں مگن ہے۔

جنہیں بیوروکریسی کے مظہر کی کبھی سمجھ نہیں آئی، جنہیں کبھی یہ بات پلے نہیں پڑی کہ سٹالن رد انقلاب کی قیادت کر رہا تھا، جن کا خیال ہے کہ گولاگ، ماسکو ٹرائلز اور ہٹلر کے ساتھ معاہدے نے ’کیمونزم کو بچا لیا‘، انہیں آج بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ اپنے خراب سافٹ وئیر کے ہاتھوں مجبور وہ پوتن ’کیمپ‘ کا ساتھ دے رہے ہیں۔

کچھ کھل کر ایسا کر رہے ہیں۔ کچھ منافقانہ طور پر، ’امن، پر امن بقائے باہمی‘ کے نام پر (ان کی باتیں سن کر پچھلی صدی کے یورو کیمونسٹ یاد آتے ہیں) یا اس بہانے کہ اپنے ملک میں ’ہمارے‘محنت کش طبقے کے سماجی مسائل کو ترجیح دینی چاہئے (اس کا مطلب آپ کو سمجھ آ رہا ہے؟)۔ دونوں صورتوں میں نتیجہ انتہائی بھیانک نکلتا ہے: یہ پالیسی عوامی حقوق، انٹرنیشنل ازم،لہٰذاا انقلاب کی نفی ہے۔ گو اس پالیسی پر نام نہاد ’مارکسزم لینن ازم‘ کا سرخ بھورا (بھورا رنگ فسطائیت کی علامت ہے: مترجم) غلاف چڑھایا جا رہا ہے۔

مارکس نے کہا تھا: ’تاریخ ہماری کتاب ہے‘۔ غلط کتاب سے رجوع کرنا خطرناک ہوتا ہے۔ جس طرح غلط موڑ مڑنا خطرناک ہوتا ہے۔ خاص کر جب آپ کے خیال میں کتاب مقدس بھی ہو!

بشکریہ: انٹرنیشنل وئیو پوائنٹ۔ ترجمہ: فاروق سلہریا۔