دنیا

ایران: انقلابی تحریک سے لرزتی ملاں ریاست

حسن جان

تمام تر ریاستی جبر کے باوجود ایران میں تا دمِ تحریر ایرانی ملائیت کے خلاف عوامی مظاہرے جاری ہیں جو پچھلے مہینے ایک بائیس سالہ کُرد لڑکی کے گشت ارشاد (اخلاقی پولیس) کے ہاتھوں قتل کے بعد شروع ہوئے تھے۔ 2009ء کے متنازعہ صدارتی انتخابی نتائج کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد ملک میں ہونے والے یہ اب تک کے سب سے وسیع مظاہرے ہیں جو ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ملک کے شمال مغربی صوبوں سے لے کر جنوب مشرقی صوبے سیستان و بلوچستان تک یہ مظاہرے پھیل چکے ہیں۔ بظاہر جبری حجاب کے قانون اور اس قانون کو لاگو کرنے والی بدقماش اور قابل نفرت اخلاقی پولیس کی زیادتیوں کے خلاف شروع ہونے والی یہ تحریک دراصل ایرانی سماج میں موجود گہری معاشی ناہمواری، بیروزگاری، غربت اور ثقافتی جبر کے خلاف سماج میں موجود شدید غم و غصے کی غمازی کرتی ہے جو سالوں سے پنپ رہی تھی اور اسی وجہ سے تحریک نے سماج کو اندر سے جھنجوڑ دیا ہے۔ فی الحال تحریک میں شہروں کے متوسط طبقوں کے تعلیم یافتہ نوجوان پیش پیش ہیں جو ملاؤں کے ثقافتی جبر کو زیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ لیکن تحریک کی پیش قدمی کے ساتھ ساتھ اس کی حدت کو اب محنت کش طبقہ بھی محسوس کر رہا ہے اور ان کے مظاہرے بھی اب شروع ہوچکے ہیں۔ اگر محنت کش طبقے کی شمولیت مزید وسیع ہوتی ہے تو یہ ایران میں ملائیت اور مذہبی ریاست کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی۔

بلاشبہ اس تحریک کے سرخیل ایران کی وہ جرأت مند اور دلیر خواتین ہیں جوپچھلے 43 سالوں میں ایران کی تنگ نظر عورت دشمن مذہبی ریاست کے جبر کا سب سے زیادہ شکار رہی ہیں۔ اسی وجہ سے ماضی کے تمام مظاہروں کی نسبت خواتین کی شرکت حالیہ تحریک میں زیادہ ہے۔ حتیٰ کہ سکول کی لڑکیاں بھی اپنے اپنے سکولوں میں جابر ملاں ریاست کے خلاف ”آخوند باید گم بشہ“ (ملاں کو دفع ہونا ہوگا) کے نعرے لگا رہی ہیں۔اسی طرح ملک بھر میں کالج اور یونیورسٹیاں روزانہ کی بنیاد پر احتجاجوں اور ہڑتالوں کامرکز بنی ہوئی ہیں۔ جبکہ عمومی طور پر بھی اب تک کے تمام تر مظاہروں میں نوجوان ہی پیش پیش ہیں۔ ”زن زندگی آزادی“ کا نعرہ اس انقلابی تحریک کا سب سے مقبول عام نعرہ بن چکا ہے۔ پاسداران انقلاب کے اپنے عہدیداروں کے بیانات میں بھی اس بات کا اقرار کیا گیا ہے کہ مظاہرین کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں جو بہادری سے ریاست کی خوفناک و وحشت ناک فورسز بسیج اور لباس شخصی (سادہ وردی میں ملبوس خفیہ اداروں کے اہلکار) کے ساتھ گلیوں اور سڑکوں پر لڑ رہے ہیں۔

ان مظاہروں کو ریاست پوری قوت سے کچلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اب تک دو سو سے زائد مظاہرین ریاستی تشدد سے ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ بے شمار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایک 16سالہ لڑکی نیکا شاکرمی جو ایک یوٹیوبر تھی اور مظاہروں میں اپنا سکارف جلا کر احتجاج کرتی نظر آتی تھی اسے مبینہ طور پر سیکیورٹی اہلکاروں نے ایک بلند عمارت سے گرا کر قتل کیا لیکن پولیس نے اس کی موت کو خودکشی قرار دیا۔ چابہار میں نوجوان لڑکی سے پولیس افسر کی جنسی زیادستی کے خلاف زائدان میں لوگ پولیس سٹیشن کی طرف احتجاج کرتے ہوئے جارہے تھے کہ ان پر ریاستی فورسز نے حملہ کرکے لوگوں کا بے دریغ قتل عام کیا اور بعض اندازوں کے مطابق اس حملے میں سو کے قریب لوگ ہلاک ہوئے۔ زائدان کا مظاہرہ بھی پورے ملک کے احتجاج کا ہی ایک تسلسل تھا جس میں لوگ یہ نعرہ لگا رہے تھے کہ ”کُرد کی عزت بلوچ کی عزت ہے۔“ ریاست نے انتہائی سفاکیت سے اس مظاہرے اور اس کے بعد ہونے والے قتل عام کو مذہبی انتہاپسند تنظیم اور علیحدگی پسندوں پر ڈالنے کی کوشش کرکے خود کو بری الزمہ قرار دینے کی کوشش کی۔ ویسے بھی کردستان اور سیستان و بلوچستان جیسے صوبوں میں چونکہ قومی جبر و محرومی بھی موجود ہے اس لیے یہاں ایرانی ریاست باقی علاقوں کی نسبت قتل عام کرنے سے کبھی بھی نہیں ہچکچاتی۔

موجودہ تحریک کے دل میں معاشی نابرابری، بیروزگاری اور غربت کا مسئلہ سر فہرست ہے۔ اس بات کا اقرار ریاست کے چوٹی کے نمائندے اور اہلکار بھی وقتاً فوقتاً کرتے رہے ہیں کہ جب تک معاشی مسئلے حل نہیں ہوتے اس طرح کے مظاہرے یا ان کے بقول فسادات ہوتے رہیں گے۔ اگرچہ ملاؤں نے اقتدار میں آنے کے بعد معیشت کے تمام کلیدی شعبوں بشمول تیل اور گیس کی صنعت کو قومی تحویل میں لیا۔ ان اقدامات کی سب سے بڑی وجہ ایران اور عراق کی جنگ اور شاہ پرست سرمایہ داروں کا ملک چھوڑ کر چلے جانا تھا اور ملاں ریاست کو ناگزیر ایسے اقدامات کرنے پڑے۔تیل کی وسیع دولت سے وسیع پیمانے پر انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کی گئی۔ دور دراز دیہی علاقوں تک صحت اور تعلیم کی سہولیات پہنچائی گئی اور شہر اور دیہات کے درمیان خلیج کو کم کیا گیا جس سے غربت میں کمی واقع ہوئی۔خوراک، صحت، تعلیم اور ایندھن سمیت دیگر ضروریات کے لیے بے دریغ سبسڈیز دی گئیں۔ ان پالیسیوں سے زچہ و بچہ کی اموات میں بھی ڈرامائی کمی واقع ہوئی اور نوے کی دہائی میں ایران نے ہیومن ڈیویلوپمنٹ انڈیکس میں ترکی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

لیکن اس ریاستی سرمایہ دارانہ معیشت کی بنیاد پر نو دولتیے سرمایہ دار بھی پیدا ہوئے جو ریاست کی وسیع سبسڈیز، مراعات اور کرپشن کی بنیاد پر دولتمند ہوئے۔ ان نو دولتیے سرمایہ داروں کی ایک بڑی کھیپ نام نہاد فلاحی اداروں کی ایک وسیع زنجیر ”بنیاد“ سے پیدا ہوئی۔ ”بنیاد“ دراصل ایسے فلاحی اور خیراتی ادارے ہیں جن کی چھتری تلے وسیع کاروبار، صنعتیں اور دیگر معاشی سرگرمیاں چل رہی ہوتی ہیں۔ ان کا آغاز شاہ ایران کے دور میں ایسی خیراتی فاؤنڈیشنز کی صورت میں ہوا تھا جنہیں شاہ ایران نے اپنے درباریوں اور حمایتیوں کو نوازنے کے لیے قائم کیا تھا۔ خمینی کے بر سر اقتدار آنے کے بعد ان تمام فاؤنڈیشنز کو قومی تحویل میں لے لیا گیا کیونکہ ان کے سابق شاہ پرست مالکان فرار ہوگئے تھے۔ مذہبی ریاست نے ان اداروں کی سربراہی ملاؤں کے ہاتھوں میں تھما دی۔ یہ تمام فاؤنڈیشنزاور ان کے ذیلی کاروباری یونٹس ملک کے دیگر قومی اور صنعتی اداروں کے برعکس کسی طرح کے آڈٹ سے مستثنیٰ ہیں اور صرف براہ راست سپریم لیڈر خامنہ ای کو جواب دہ ہیں۔ یہ ادارے سویا بین اور کپاس کی کاشت سے لے کر سافٹ ڈرنک، آٹو اور شپنگ انڈسٹری تک اور اس کے علاوہ ان گنت کاروباروں میں سرگرم ہیں۔ بظاہر ان اداروں کا کام غریبوں، جنگ میں مرنے والوں کے ورثا اور سماج کے کچلے ہوئے طبقات کی مدد کرنا ہے لیکن ہر طرح کی حکومتی حمایت، بے تحاشا سبسڈی اور حساب کتاب سے استثنا کی وجہ سے دولت مند مذہبی اشرافیہ کے ایک نئے سرمایہ دار طبقے نے جنم لیا ہے جن کے مفادات موجودہ مذہبی ریاست کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدعنوانی اور اقربا پروری کی وجہ سے یہ فاؤنڈیشنز بھی شاہ ایران کی فاؤنڈیشنز کی مانند ملاں ریاست کی بیساکھی ہی بن گئی ہے اور محکوم طبقات کی مدد کرنا صرف کاغذوں کی حد تک رہ گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہ ادارے ایرانی جی ڈی پی کے 20 فیصد کو تشکیل دیتے ہیں۔

اسی طرح ملاؤں نے اپنے اقتدار کو مستحکم اور سابق شاہی فوج کی جانب سے کسی فوجی بغاوت کا راستہ روکنے کے لیے ایک متوازی فوج پاسدارانِ انقلاب بنائی جنہیں مذہبی ریاست سے وفاداری کے لیے ہر طرح کی مراعات سے نوازا گیا۔ اس وقت پاسداران ملک کا سب سے بڑا کاروباری ادارہ ہے جو پیداوار اور تعمیرات سمیت ہر طرح کے قانونی اور غیر قانونی کاروبار میں سرگرم ہیں جن سے پاسداران کے افسران نودولتیے سرمایہ دار بن گئے ہیں۔ مغرب کی جانب سے پابندیوں کی وجہ سے ان کے کاروبار میں اور رونق آتی ہے۔ عالمی پابندیوں کی وجہ سے ان کی دولت کی وسعت کے بارے میں معلومات کم ہیں لیکن اس ایک حقیقت سے ان کی دولت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ رپورٹس کے مطابق ایرانی ساحلی پٹی پر ساٹھ سے زائد ایسی چھوٹی بندرگاہیں ہیں جو ایرانی کسٹم حکام کے کنٹرول سے باہر ہیں۔ وہ صرف پاسداران کے کنٹرول میں ہیں جہاں کسی بھی دوسرے حکومتی ادارے کو مداخلت کی اجازت نہیں۔ ان غیر قانونی بندرگاہوں سے پاسداران دیگر مصنوعات کے علاوہ وہ تمام اشیا بھی درآمد کرتے ہیں جو عالمی پابندیوں کی وجہ سے وہ قانونی طور پر درآمد نہیں کرسکتے یا جن کی درآمد پر مذہبی عقیدے کی وجہ سے ریاست نے پابندی لگائی ہوئی ہے۔

اگرچہ خمینی کی موت کے بعد ہاشمی رفسنجانی، محمد خاتمی، احمدی نژاد، حسن روحانی اور اب ابراہیم رئیسی نے معیشت میں بد انتظامی اور کرپشن کو ختم کرنے کے لیے نیو لبرل معاشیات کا اجرا کیا۔ معیشت میں ریاستی کردار کو کم کرنے اور ریاستی اثاثہ جات کی نجکاری کی کوشش کی گئی۔ نجکاری کے اس عمل سے بیرونی سرمایہ کاروں کی بجائے پاسداران اور بنیاد میں موجود نودولتیے سرمایہ داروں نے ہی ان اثاثوں کو خریدا۔ جس سے ایران کی سرمایہ داری کی شکل مغرب کے کلاسیکی نیولبرلزم کی بجائے ”کرونی کیپٹلزم“کی بنتی ہے۔ اگرچہ آزاد منڈی کی معیشت کی طرف جانے کی حکومت کی کوشش ’بنیاد‘ اور پاسداران کی وجہ سے انتہائی سست رفتار ہے اور معیشت کا بڑا حصہ اب بھی ریاستی کنٹرول میں ہے لیکن معاشی بد انتظامی، ملاؤں کی اقربا پروری اور بدعنوانی کی وجہ سے اس معیشت سے صرف سیاسی اثر و رسوخ کے حامل ریاست کی حامی طبقات کو ہی فائدہ ہوا ہے جو اپنی نئی دولت کا ایران کے بڑے شہروں کی سڑکوں پر انتہائی بیہودگی سے دکھاوا کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو عام طور پر ”آقا زادہ“ کہا جاتا ہے۔ انسٹاگرام پر ایسے افراد نے مل کر ایک اکاؤنٹ بھی بنایا ہے جس کا نام ہے ”Rich Kids of Tehran“۔ اس میں وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنی قیمتی گاڑیوں، محلات، پارٹیز، شراب کی بوتلوں اور کھانوں کا دکھاوا کرتے ہیں جبکہ امیر زادیاں اپنے مختصر لباس کے ساتھ نظر آتی ہیں اور اخلاقی پولیس کو وہاں کوئی بد حجابی نظر نہیں آتی۔ دوسری طرف عام لوگ ہیں جو سیاسی و معاشی اثر و رسوخ کے حامل طبقات کے برعکس تمام تر معاشی فوائد اور ثقافتی و سماجی آزادیوں سے محروم ہیں۔ ہر آنے والی حکومت عوام کو مختلف مد میں ملنے والی سبسڈیز کا خاتمہ کر رہی ہے۔ بیروز گاری بڑھ رہی ہے۔ نوجوانوں میں بیروزگاری سب سے زیادہ ہے جو اس وقت 34 فیصد ہے۔

ملاں ریاست کی معاشی بد انتظامی، بدعنوانی، بڑھتے ہوئے افراط زر اور مغرب کی جانب سے اقتصادی پابندیوں کے اثرات ایران کی مڈل کلاس کے معیار زندگی کو سب سے زیادہ متاثر کر رہے ہیں۔ یہی مڈل کلاس ملک میں موجود اصلاح پسند ملاؤں کے ووٹ بینک ہیں لیکن ہر بار اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے انہیں مایوس کیا۔ بروکنگز انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق 2011ء میں امریکی صدر اوباما کی جانب سے سخت اقتصادیوں پابندیوں کے بعد ایران کی مڈل کلاس 10 فیصد سکڑ کر آبادی کے 58.4 فیصد سے 2019ء میں 48.8 فیصد ہوگئی۔ جبکہ ایک اور ریسرچ پیپر ”درمیانہ، در حاشیہ“ کے مطابق اس وقت ایران کی مڈل کلاس مزید سکڑ کر آبادی کا 35فیصد ہوگئی ہے۔ وہ جب اپنی تمام تر تعلیمی قابلیتوں اور ڈگریوں کے ساتھ وہ معیار زندگی حاصل نہیں کر پاتے جو طاقت ور ملاؤں کے بچے اپنے سیاسی اثر و رسوخ اور ریاست میں اپنے تعلقات سے حاصل کرتے ہیں تو ان کا غم و غصہ اور بڑھ جاتا ہے۔ دوسری طرف ریاست کی جانب سے ثقافتی پابندیاں انہیں مزید مشتعل کرتی ہے۔ اسی وجہ سے تحریک کے ابتدائی مراحل میں مڈل کلاس کے نوجوان مرد و خواتین سب سے زیادہ پیش پیش ہیں۔ اس وقت ایران کی تمام بڑی یونیورسٹیوں میں طلبا و طالبات ملائیت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

اگرچہ اس وقت تحریک میں زیادہ تر مڈل کلاس کے نوجوان ہی سرگرم ہیں اور محنت کش طبقہ ابھی تک تحریک میں فیصلہ کن انداز میں اپنی ہڑتالوں اور احتجاجوں کے ساتھ داخل نہیں ہوا ہیں لیکن تحریک کی وسعت کی صورت میں ان کی شمولیت کے قوی امکانات ہیں۔ صوبہ بوشہر کے شہر عسلویہ میں پیٹروکیمیکل پلانٹ کے مزدوروں نے چند دن پہلے ہی ملک میں مظاہرین پر ریاستی جبر کے خلاف ہڑتال اور پلانٹ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے پلانٹ کی جانب جانے والی سڑک کو بند کر دیا۔ اس طرح کی ہڑتالیں اگر وسعت اختیار کرتے ہوئے دیگر صنعتوں بالخصوص تیل و گیس کی صنعت کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہیں توملاؤں کی حاکمیت کا خاتمہ طے ہے۔ 1979ء کے انقلاب میں شاہ ایران کے تابوت میں آخری کیل تیل کی صنعت کے مزدوروں کی فیصلہ کن ہڑتال نے ہی ٹھونکا تھا۔

ملاؤں نے اپنی چار دہائیوں کے اقتدار میں تمام تر اپوزیشن کو کچل کر ختم کردیا ہے۔ حتیٰ کہ مذہبی ریاست کی حدود کے اندر رہتے ہوئے سیاست کرنے والی اصلاح پسند پارٹیوں کو بھی اب اقتدار کے ایوانوں سے مکمل بے دخل کر دیا گیا ہے۔ تمام تر ریاستی عہدوں پر خامنہ ای اور ان کے قدامت پسند حواری براجمان ہیں۔ جس کی وجہ سے عوام کے غم و غصے کے اظہار کا کوئی قانونی راستہ بھی نہیں۔ موجودہ تحریک میں نوجوانوں کا غم و غصہ ان ہی وجوہات کی بنا پر قابل فہم ہے۔تمام تر اپوزیشن بشمول بائیں بازو کی اپوزیشن ملک سے باہر ہیں۔ اس وقت اس ملک گیر تحریک کی کوئی مرکزی قیادت نہیں ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر سوشل میڈیا کی کال پر نوجوان سڑکوں پر آکر احتجاج کرتے ہیں اور ریاستی جابر فورسز کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہیں۔ یقینا تحریک کا یہ خود رو پن اپنے اندر خامیاں اور خوبیاں رکھتا ہے جیسا کہ عرب بہار کے تجربے سے ثابت ہوا ہے۔

لیکن بیرون ملک چند خود ساختہ اور ماضی کی مسترد شدہ نام نہاد سیاسی قوتیں بھی ہیں جنہیں مغربی ذرائع ابلاغ ’قیادت‘ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں سر فہرست سابق شاہ ایران کا بیٹا رضا پہلوی ہے۔اس نے اپنی نوجوانی کے چند سال کے علاوہ باقی ساری زندگی ایران سے باہر گزاری ہے جسے ایران کے موجودہ حالات کا ادراک ہی نہیں ہے اور وہ احمق ایران میں پھر سے بادشاہت کے خواب دیکھ رہا ہے۔ اگرچہ ایران سے باہر شاہ پرست اپوزیشن اسے ملاؤں کا نعم البدل بنانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن ایران کے اندربادشاہت کی نہ 1979ء میں کوئی سماجی بنیاد تھی نہ اب ہے۔ایک اور نام نہاد بیرون ملک قیادت مجاہدین خلق ہے جس کی رہنما مریم رجوی ہے۔ مجاہدین خلق ایران عراق جنگ کے دوران صدام حسین کی فوج کے ساتھ ایران کے خلاف لڑرہے تھے۔ عراقی دارالحکومت بغداد کے باہر کیمپ اشرف نامی جگہ مجاہدین کا ٹھکانہ تھا۔ عراق پر امریکی حملے کے بعد ملک میں ایرانی اثر و رسوخ بڑھ جانے کے بعد اس کیمپ کو اکھاڑ دیا گیا۔ اس وقت مجاہدین خلق کی تنظیم ایک سامراجی دلال بن چکی ہے۔ ان کے پروگراموں میں امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اہلکار اور سعودی ریاست کے نمائندے شرکت اور تقریریں کرتے ہیں۔ جبکہ پارٹی کھل کر امریکی سامراج اور دیگر مغربی ممالک سے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں لگانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔

امریکہ سمیت تمام تر مغربی ممالک کا ایران کی حالیہ تحریک کی جانب رویہ منافقت پر مبنی ہے۔ ان کی تمام تر ہمدردی اور یکجہتی کے بیانات حقیقت میں تحریک کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں اور ایرانی ملائیت تحریک کو مغربی اور صیہونی ریاست کی کارستانی اور سازش قرار دے کر مزید جبر کرتی ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ میں ایران میں ہونے والے مظاہروں کی کوریج تو ہوتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی بھی انقلاب کے ذریعے ملاؤں کی حکومت کا خاتمہ نہیں چاہتے کیونکہ اس صورت میں پورے خطے میں محنت کشوں اور محکوم عوام کے حوصلے بلند ہوں گے اور انقلابات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگا۔ وہ ایران میں یقینا تبدیلی چاہتے ہیں لیکن محلاتی سازشوں کے ذریعے۔ اگر آج ہی ایرانی ملاں امریکہ کے اتحادی بن جائیں تو امریکہ اور مغرب آج ہی ایران میں ہونے والے تمام تر جبر اور انسانی حقوق کی پامالی کو بھول جائیں گے اور منافقانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے ملائیت کو ایرانی سماج کی پسماندگی اور ثقافتی ضرورت قرار دیں گے۔

کسی طرح کی قیادت کی غیر موجودگی میں اگر تحریک مزید آگے بڑھتے ہوئے وسعت اختیار کرتی ہے تو ریاست میں ٹوٹ پھوٹ تیز ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت میں تحریک کو مزید آگے بڑھنے سے روکنے اور اپنے معاشی مفادات اور کاروباروں کو بچانے کے لیے پاسداران انقلاب کی جانب سے کُو کے امکانات بھی ہیں جس کا فوری مقصد مذہبی ریاست کو ختم کرکے ایک فوجی حکومت قائم کرنا ہوگا تاکہ کسی حد تک لوگوں کو ثقافتی آزادیاں دے کر تحریک کو ٹھنڈا کرکے مزید آگے بڑھنے سے روکا جائے۔ ایسی صورت میں عوام کے سامنے ریاست کی بے بسی مزید واضح ہوگی۔ فوج کی جانب سے اس اقدام کے خلاف رد عمل بھی آسکتا ہے جو ایک خانہ جنگی کی جانب بھی جاسکتا ہے۔

بہرحال اگر تحریک آگے بڑھتے ہوئے محنت کش طبقے کو بھی اپنے ساتھ ملا کر ملاں ریاست کا دھڑن تختہ کرتی ہے تو یہ نہ صرف ایران اور مشرق وسطیٰ بلکہ افغانستان اور جنوب ایشیا کے لیے ایک عظیم انقلابی پیشرفت کی حامل تبدیلی ہوگی۔ ایران 1953ء میں وزیر اعظم مصدق کی حکومت کے سی آئی اے کی فوجی بغاوت کے نتیجے میں خاتمے کے بعد سے پہلے شاہ ایران کی بد ترین آمریت اور بعد میں ملاؤں کی ظالمانہ مذہبی آمریت کا شکار رہا ہے۔ ستر سالوں سے ملک میں بد ترین جبر جاری ہے۔ ملائیت کے انقلابی دھڑن تختے کی صورت میں ملک میں امکانی طور پر ایک نسبتاً جمہوری حکومت بنے گی جو اپنے تیئں ایک لازمی اور مثبت پیش رفت ہوگی۔ اس سے سیاسی پارٹیاں فروغ پائیں گی۔ بائیں بازو کی قوتوں کو بھی پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا۔ جو مستقبل کے سوشلسٹ ایران کا راستہ ہموار کرے گا۔ ایران کے اندر ہونے والی یہ تبدیلیاں لامحالہ پاکستان میں موجود انقلابی قوتوں کا حوصلہ بڑھائیں گی۔ ملک میں موجود سیاسی گھٹن کا خاتمہ ہوگا اور انقلابی تبدیلی کی مہک سیاسی فضا کو معطر کرے گی۔ افغانستان پر مسلط سیاہ رجعت کے حوصلے پست ہوں گے۔ اس لیے ایران کی موجودہ تحریک ہر انقلابی کی حمایت اور یکجہتی کا تقاضا کرتی ہے۔ پاکستان میں تحریک کے ابھار کی صورت میں جنم لینے والی کوئی سیاسی تشکیل انقلابی قوتوں کی موجودگی کی وجہ سے یقینا ایران کی نسبت ایک قدم آگے ہو گا جو اپنی باری میں ایران کو اپنے پیچھے کھینچ سکتی ہے۔