تاریخ

شہادت سے پہلے کرنل ابو طاہر کا جیل کی کال کوٹھڑی سے خاندان کے نام خط

ترجمہ: حارث قدیر

(نوٹ: بنگلہ دیش میں 7 نومبر 1975ء کو برپا ہونے والے ’سپاہیوں کے انقلاب‘ کے قائد کرنل ابو طاہر کی جدوجہد اور نظریات کے حوالے سے ایک تفصیلی مضمون گزشتہ روز شائع کیا گیا تھا۔ کرنل ابو طاہر کو 21 جولائی 1976ء کو ایک فوجی عدالت کے خفیہ ٹرائل کے بعد پھانسی دے دی گئی تھی، جبکہ ان کے ساتھیوں کو عمر قید سمیت دیگر سزائیں سنائی گئی تھیں۔ کرنل ابو طاہر نے پھانسی سے تین روز قبل جیل کی کال کوٹھڑی (ڈیتھ سیل) سے اپنے اہل خانہ کو آخری خط تحریر کیا تھا، جسے جدوجہد کے قارئین کیلئے ترجمہ کیا گیا ہے)

محترم والد، والدہ، میری پیاری لطفہ، بھائی جان، میرے بھائیو اور بہنو

کل دوپہر ٹربیونل نے ہمارے خلاف فیصلہ سنایا۔ مجھے موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ بھائی جان اور میجر جلیل کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ ان کی تمام جائیداد ضبط کر لی جائے گی۔ انور، انو، رب اور میجر ضیا کو 10 سال قید بامشقت اور 10 ہزار ٹکا جرمانہ دیا گیا۔ صالحہ اور ربیع کو 5 سال قید بامشقت اور پانچ پانچ ہزار ٹکا جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ ڈاکٹر اخلاق، محمود صحافی اور منا سمیت 13 دیگر افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔ آخری لمحے میں ٹربیونل نے میری سزائے موت کا اعلان کر دیا اور بڑی عجلت میں وہ کتوں کی طرح عدالت سے نکل گئے۔

محمود اچانک رونے لگا۔ جب اسے تسلی دینے کی کوشش کی تو وہ کہنے لگا، ’میں اس لئے رو رہا ہوں کہ ایک بنگالی میں اتنی جرات کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ کرنل ابوطاہر کو سزا سنائے۔‘ اسی دوران صالحہ بیت الخلا کی طرف چلی گئیں اور زاروقطار رونے لگیں۔ جب میں نے انہیں پکارا اور کہا کہ میں نے آپ سے ایسی کمزوری کی کبھی توقع نہیں کی تھی۔‘ انہوں نے کہاکہ ’یہ آنسو نہیں ہیں۔ یہ ہنسی ہے۔‘

میری اس بہن کے آنسو خوشی منانے کا کیا شاندار نظارہ پیش کر رہے تھے۔ میری ان سے پہلی ملاقات یہاں جیل کے کمرہ عدالت میں ہوئی۔ میں ان کا بہت معترف ہوں۔ کون سی قوم ان جیسی بہن پیدا کر سکتی ہے؟

سب سزا پانے والوں کو صرف ایک ہی دکھ تھا کہ انہیں بھی سزائے موت کیوں نہیں سنائی گئی؟ اچانک جیل کے چاروں طرف سے بلند ہوتی ہوئی آواز سنائی دی۔ گرجدار اور بلند ترین آواز میں یہ آواز تھی: ”طاہر بھائی! لائی سلام!“ کیا یہ اونچی دیواریں اس چیخ کو روک سکتی ہیں؟ کیا اس پکار کی بازگشت میرے ملک کے لوگوں کے دلوں تک نہیں پہنچے گی؟

فیصلے کے اعلان پر ہمارے وکلا حیران رہ گئے۔ انہوں نے آ کر مجھے بتایا کہ اگرچہ اس ٹربیونل میں اپیل کا کوئی حق نہیں ہے، لیکن وہ سپریم کورٹ میں رٹ دائر کریں گے۔ ٹربیونل کا سارا کام اور طریقہ کار غیر آئینی اور غیر قانونی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ہی وہ صدر سے اپیل بھی کریں گے۔

میں نے انہیں واضح طور پر کہا ہے کہ ایسی کوئی بھی اپیل دائر نہیں کرنی ہے۔ یہ صدر ہم نے لگایا تھا اور میں ان غداروں سے اپنی جان بخشی کی درخواست نہیں کروں گا۔

ہر کوئی مجھ سے چند الفاظ سننا چاہتا تھا۔ اس دوران جیل حکام ہمیں الگ کرنے کے لیے بے چین ہو رہے تھے۔ میں نے کہا کہ ’جب میں تنہا ہوتا ہوں تو زندگی کا خوف اور خود غرضی ہر طرف سے مجھ پر حملہ کرتی ہے، لیکن جب میں آپ کے ساتھ ہوں تو تمام خوف اور خود غرضی مجھ سے دور ہو جاتی ہے۔ میں بہادر بن جاتا ہوں اور خود کو انقلاب کے ساتھ پوری طاقت اور حوصلے سے دیکھ سکتا ہوں۔ تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پرعزم ایک ناقابل تسخیر سکون میرے اندر داخل ہوتا ہے۔ ہم اپنے الگ الگ وجود کی تنہائی کو قربان کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں میں اپنا حقیقی اظہار تلاش کرنا چاہتے ہیں…ہماری جدوجہد اسی کے لیے ہے۔‘

وہ سب ایک ایک کر کے الوداع کہہ کر رخصت ہو رہے ہیں۔ ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ ہم نے کافی عرصہ ایک ساتھ گزارا ہے۔ کون جانے ہم دوبارہ کب ملیں گے؟

صالحہ میرے ساتھ چلیں گی۔ بھائی جان اور انور کے اندر مجھے بے حد سکون محسوس ہوا لیکن میں انہیں جانتا ہوں۔ وہ یہ سب مجھے دکھانے کیلئے کر رہے ہیں۔ بلال کی آنکھوں میں عجیب سی چمک ہے۔ ایسا لگ رہا ہے، جسے آنسوؤں ان آنکھوں سے چھلکنے کو ہوں۔ جلیل، رب اور ضیا نے مجھے مضبوطی سے گلے لگایا۔ یہ وہ بندھن ہے جو ہمیں پوری قوم سے جوڑتا ہے۔ ایسا بندھن جسے کوئی توڑ نہیں سکتا۔

وہ سب چلے گئے ہیں۔ صالحہ اور میں ایک ساتھ باہر نکلے۔

وہ اپنے سیل میں جاتی ہے۔ جیسے ہی میں گزرتا ہوں، قیدی اور سیاسی نظربند اپنے بند سیلوں کے دروازوں اور کھڑکیوں کے پیچھے سے بے تاب نظروں سے باہر جھانکتے ہیں۔ متین صاحب، ٹیپو بسواس اور دیگر ہاتھ اٹھا کر وکٹری کا نشان بناتے ہیں۔

اس مقدمے نے انقلابیوں کو تقریباً ان کے علم میں لائے بغیر متحد کر دیا ہے۔ مجھے سیل نمبر 8 میں لے جایا گیا۔ یہ وہ سیل ہے جو ان قیدیوں کو تفویض کیا گیا ہے جنہیں پھانسی دی جانی ہے۔

سیل میں میرے علاوہ پھانسی کے پھندے کے لیے تین دیگر بھی منتظر ہیں۔ یہ ایک چھوٹا سا سیل ہے۔ بالکل صاف۔ یہ سب ٹھیک ہے۔

جب موت کے سامنے کھڑا ہوتا ہوں تو میں اپنی زندگی پر نظر ڈالتا ہوں اور کچھ بھی ایسا نظر نہیں آتا جس پر شرمندگی ہو۔

میں بہت سے ایسے واقعات دیکھتا ہوں جو مجھے اپنے لوگوں کے ساتھ اٹل کر دیتے ہیں۔ کیا میں اس سے بڑی کوئی اورخوشی حاصل کر سکتا ہوں؟

نیتو، جیشو، اور مشو…ہر کوئی میری یادوں میں امڈ آتا ہے۔ میں نے ان کے لیے کوئی دولت یا جائیداد نہیں چھوڑی، لیکن ہماری پوری قوم ان کے مستقبل کیلئے موجود ہے۔ ہم نے ہزاروں ننگے بچوں کو پیار و محبت سے محروم دیکھا ہے۔ ہم ان کے لیے گھر چاہتے تھے۔ کیا یہ صبح بنگالیوں کے لیے بہت دور ہے؟ نہیں، یہ زیادہ دور نہیں ہے۔ سورج طلوع ہونے والا ہے۔

میں نے اس ملک کی تعمیر کے لیے اپنا خون دیا ہے اور اب میں اپنی جان دوں گا۔ اس کو روشن کرنے دیں اور اس سے ہمارے لوگوں کی روحوں میں نئی طاقت پیدا کریں۔ اس سے بڑا انعام میرے لیے کیا ہو سکتا ہے۔

مجھے کوئی نہیں مار سکتا۔ میں عوام کے درمیان رہتا ہوں۔ میری نبض ان کی نبض میں دھڑکتی ہے۔ اگر مجھے قتل کرنا ہے تو تمام لوگوں کو بھی قتل کرنا ہو گا۔

کون سی طاقت ایسا کر سکتی ہے؟ کوئی نہیں۔

ابھی ابھی صبح کا اخبار آیا تھا، انہوں نے میری سزائے موت اور باقی سزاؤں کی خبر صفحہ اول پر شائع کی ہے۔ تاہم قانونی کارروائی کی جو تفصیل شائع ہوئی ہے وہ سراسر غلط ہے۔

مقدمے کی سماعت کے دوران ریاستی گواہوں کے شواہد کی بنیاد پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ 7 نومبر کا سپاہی انقلاب میری قیادت میں ہوا تھا۔ اس سے میں انکار نہیں کرتا۔ اس کے باوجود اخبارات میں اس کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی یہ کہ ضیا الرحمن کو میرے حکم پر رہا کیا گیا تھا۔ ہم نے ہی موجودہ حکومت کو اس کے اختیارات کی جگہ پر بٹھایا، صرف دھوکہ کھانے کیلئے۔ پورے مقدمے کے دوران قادر باہنی کا کوئی حوالہ نہیں تھا۔

مجھے امید ہے کہ ہمارے وکلا عطا الرحمن، ظلمت علی اور باقی جو بھی موجود تھے، وہ اس مقدمے کے راز کو بے نقاب کریں گے اور اس جھوٹے پروپیگنڈے پر احتجاج کریں گے۔ میں موت سے نہیں ڈرتا۔ ضیا غدار اور سازشی ہے اور اسے عوام کے سامنے مجھے بدنام کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لینا پڑا۔ عطا الرحمان اور دیگر کو بتائیں کہ سچ کو بے نقاب کرنا ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے اور اگر وہ اس فرض میں ناکام رہے تو تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔

میرا سب سے بڑا احترام، میری محبت اور میرا لازوال پیار آپ سب کے ساتھ ہو۔

طاہر
ڈھاکہ سینٹرل جیل
18 جولائی 1976ء