دنیا

مسئلہ کشمیر: آزادی کی کنجی خود کشمیری عوام کی جیب میں ہے!

نثار شاہ

جموں کشمیر عوامی ورکرز پارٹی کا اپنے قیام سے ہی بہت واضح موقف رہا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے مسئلے کا حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ریاست جموں کشمیر کے عوام کو اس مسئلے کا بنیادی فریق سمجھ کر مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔ پارٹی کا موقف ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے عوام کو بنیادی فریق تسلیم کرانے میں سب سے اہم کردار پاکستان اختیار کر سکتا ہے۔

پاکستان اپنے زیر انتظام علاقوں کو جموں کشمیر کے آزاد و خودمختار علاقے تسلیم کرتے ہوئے اپنے دارالحکومت میں ان کا سفارتخانہ کھولے اور دوست ممالک کو بھی اس حکومت کو تسلیم کرنے پر قائل کرے۔ اس طرح پاکستان اور دیگر ملکوں کی مداخلت سے آزادکشمیر اقوام متحدہ کی رکن ریاست بن سکتی ہے۔ جموں کشمیر کے علاقے پر ہی قائم پاکستان سمیت مختلف ممالک سے تسلیم شدہ ایک آزاد حکومت دنیا کے سامنے براہ راست پورے جموں کشمیر کے عوام کا مسئلہ لے جاسکتی ہے۔ عالمی قوانین کے مطابق پاکستان کے زیر کنٹرول علاقے ایک آزاد و خودمختار ریاست کے قیام کے تمام بنیادی تقاضے پورے کرتے ہیں۔

مسئلہ کشمیر کو عالمی برادری کے سامنے رکھنے کا حق صرف کشمیری عوام کو حاصل ہونا چاہیے نہ کہ انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں کو۔ گو کہ مہاراجہ ہری سنگھ کے ہندوستان کے ساتھ الحاق اور ہندوستان ہی کی طرف سے یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں لے جانے کی وجہ سے انڈیا اس مسئلے کا براہ راست فریق بن چکا تھا۔

جبکہ پاکستان کی طرف سے 1947ء میں کی جانے والی مداخلت کو تسلیم نہیں کیا گیا تھا یہی وجہ ہے کہ رائے شماری کے لئے طے کیے جانے والے اصول میں سب سے پہلے پاکستان کو اپنی افواج بشمول سویلین باہر نکالنے کو کہا گیا تھا۔ جبکہ انڈیا کی فوج کے ایک حصے نے کشمیر میں ہی رہنا تھا۔ پاکستان کی طرف سے اس کے زیر تسلط علاقوں کو عالمی قوانین کے مطابق آزاد و خودمختار تسلیم نہ کیے جانے کی وجہ سے انڈیا آزادکشمیر اور گلگت بلتستان پر دعو یدار ہے۔

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے دو مرتبہ رائے شماری کمیشن بھیجا گیا تا کہ افواج کے انخلا کے بعد رائے شماری کے لئے حالات سازگار کیے جا سکیں لیکن حکومت پاکستان کی طرف سے افواج کے انخلا کی یہ شرط رکھی گئی کہ پہلے انڈیا اپنی فوج نکالے۔

انڈیا نے پاکستان کا یہ مطالبہ ماننے سے انکار کر تے ہوئے اسے طے شدہ اصول کے بر عکس قرار دے دیا اس طرح یہ مسئلہ لٹکا رہا۔

انڈیا نے اپنے زیر کنڑول علاقے کو مہاراجہ ہری سنگھ کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے اور شیخ محمد عبداللہ کی نیشنل کانفرنس کے مطالبات کی روشنی میں بااختیار کر دیا تھا۔ آرٹیکل 370 اور 35 اے کے تحت دفاع، کرنسی اور خارجہ معاملات کے علاوہ تمام امور ریاست کو دے دئیے گئے۔ لیکن یہ خصوصی حیثیت 5 اگست 2019ء کو ختم کر دی گئی۔

دوسری طرف پاکستان نے 28 اپریل 1949ء کو معاہدہ کراچی کے ذریعے گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر سے کاٹ کر پاکستان کے کنڑول میں لے لیا اور ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بیوروکریسی مسلط کر دی گئی۔

1970ء میں آزاد جموں کشمیر انٹرم آئینی ایکٹ نافذ کیا گیا جس کے تحت تمام معاشی، سیاسی اور قانونی کنڑول کشمیر کونسل کے ذریعے ریاست پاکستان کے پاس ہی رہا جبکہ اعلیٰ سطح کی تمام بیوروکریسی پاکستان سے بھیجی جاتی ہے۔

گلگت بلتستان میں پہلی مرتبہ 2009ء میں جو گلگت بلتستان سیلف گورننس آرڈیننس نافذ کیا گیا وہ بھی آزاد کشمیر کی طرح ایک بے اختیار اسمبلی ہے۔ انڈین کشمیر میں اسٹیٹ سبجیکٹ کے خاتمے پر احتجاج کرنے والوں نے اپنے زیر انتظام گلگت بلتستان میں اسٹیٹ سبجیکٹ 1970ء کی دہائی میں ہی ختم کر دیا تھا۔ اس کی بحالی کا مطالبہ کرنے والے گلگت بلتستان کے سیاسی کارکنان آج بھی ریاستی تشدد کا شکار ہیں۔ اس قانون کے یکطرفہ خاتمے کی وجہ سے مقامی عوام کا اپنے وسائل پر اختیار کا حق ختم ہو چکا ہے۔

کئی سالوں سے جیل میں قید کامریڈ بابا جان، افتخار حسین اور دیگر ساتھی مقامی وسائل پر مقامی لوگوں کے حق کو تسلیم کرانے کی جدوجہد میں پابند سلاسل ہیں جبکہ اس قید کا جواز جھوٹے الزامات کو بنایا گیا ہے۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگوں اور مسلسل کشیدگی کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پر پیش رفت کیلئے شملہ معاہدے سے قبل تک اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی مداخلت کا جواز موجود تھا۔ لیکن شملہ معاہدے کی صورت میں اپنی 90 ہزار فوج کی رہائی کے بدلے میں مسئلہ کشمیر کو عالمی ایشو سے نکال کر دو ملکوں کا ایشو بنا دیا گیا۔ اقوام متحدہ کی طرف سے بنائی گئی سیز فائر لائن کو کنڑول لائن بنا کر کشمیر کی مستقل تقسیم کی راہ ہموار کی گئی۔

1988ء میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ذریعے مسلح حملوں کا آغاز کرایا گیا۔ یہ کام کسی پاکستان نواز تنظیم کیلئے اس لئے ممکن نہ تھا کیونکہ ایسی کسی بھی تنظیم کی بنیادیں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں موجود نہ تھیں۔

لبریشن فرنٹ سے قبل لبریشن لیگ کو بھی یہ آفر دی گئی تھی لیکن کے ایچ خورشید کی دانشمند قیادت نے پراکسی بننے سے انکار کرتے ہوئے اپنی شرائط پر تحریک چلانے کیلئے آمادگی ظاہر کی جسے تسلیم نہ کیا گیا۔

دو سال کی بھرپور مسلح سرگرمیوں کے نتیجے میں جب خودمختار کشمیر کے نظریات پاپولر ہونے لگے تو ریاست نے لبریشن فرنٹ کی لگام کھینچ کر مذہبی نظریات کے حامل مسلح جہادی گروہوں کی پشت پناہی شروع کر دی۔

1990ء میں سوویت یونین کے خاتمے کے نتیجے میں افغانستان سے بے روزگار ہونے والے جہادی گروہوں کو بھی کشمیر کے جہاد کے نام پر نیا کاروبار مل گیا۔

اس سارے عرصے میں گلگت بلتستان کی مخصوص جغرافیائی صورتحال کی وجہ سے تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ ریاست کی مستقل تقسیم کے فارمولوں پر بھی غور ہوا۔ لیکن ایک فریق نے اپنی قانونی و تاریخی پوزیشن سے دستبردار ہوئے بغیر معاہدے پر آمادگی ظاہر کی اور چناب فارمولا تقریباً طے پاچکا تھا جو مشرف حکومت کے خاتمے کی وجہ سے پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔

گزشتہ 73 سال کی تاریخ کے تمام واقعات اور حقائق اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ریاست جموں کشمیر کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کی طرف نرم گوشہ رکھا حالانکہ ریاست کے دو بڑے حصوں پر پاکستان کا براہ راست کنٹرول ہے۔

پاکستان دنیا کے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر پر اپنی غیر جانبداری ثابت کر کے عالمی حمایت حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا موجودہ مارچ ہو یا اس سے پہلے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی خواہش کے مطابق نکلنے والی بڑی بڑی ریلیاں‘یہ سفارتی ناکامیوں اور یو ٹرن کو چھپانے کی کوششیں ہیں۔

مسئلہ کشمیر کا درست سائنسی تجزیہ کیے بغیر جو لوگ عوامی جذبات کا غلط استعمال کر رہے ہیں وہ بھی قومی مجرم ہیں۔ روسی انقلاب کے معمار لینن نے کہا تھا کہ”بے شعور عوام کا ہجوم دشمن کی فوج ہوتی ہے“۔ عوام کو کنڑول لائن کراس کرا کے سر ینگر لے جانے کا خواب صرف اسلام آباد کی ناکامی چھپانے کے لئے دکھایا گیا تھا۔ عوام نے بھی اب دیکھ لیا ہے کہ یہ کیا کھیل ہو رہا ہے۔ آزاد کشمیر کی پولیس کے قدموں میں دھرنا دینے سے مسئلہ کشمیر کو کیا فائدہ پہنچا ہے ہماری ناقص عقل شاید یہ سمجھنے سے عاری ہے۔

ہاں اگر تھوڑا سا بھی سیاسی شعور استعمال کیا جائے تو اتنی بات تو کم از کم واضح ہو گئی ہے کہ ایک غلام علاقے کے لوگ دوسرے غلام علاقے کو آزاد نہیں کرا سکتے۔ ہر ایک کو اپنی آزادی کی لڑائی خود ہی لڑنی پڑے گی۔

جموں کشمیر کے عوام کی آزادی کی کنجی ان کی اپنی ہی جیب میں ہے صرف اسے درست استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ کنڑول لائن کی طرف مارچ کرنے کی بجائے اگر کشمیری عوام کا کیس خود عالمی برادری کے سامنے لے جانے کا حق ہی حاصل کر لیا جائے تو یہ وحدت کشمیر کی بحالی اور ریاست جموں کشمیر کی آزادی کی طرف پہلا قدم ہو گا۔

منزل اگر مشرق کی طرف ہو تو مغرب کی جانب سفر کرنے سے کبھی بھی منزل پر نہیں پہنچا جا سکتا۔ اتنی قربانیاں دینے اور دھوکے کھانے کے بعد اب ریاست جموں کشمیر کے عوام کو سمجھ آجانی چاہیے کہ کوئی تو وجہ ہے جو ان کی قربانیوں کا ثمر حاصل کرنے کے راستے میں رکاوٹ ہے۔

جموں کشمیر پیپلز نیشنل الائنس نے 21 اکتوبر کو مظفرآباد کی طرف مارچ کر کے اپنے مطالبات پیش کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے اسے ایک درست قدم کہا جا سکتا ہے۔

نثار شاہ عوامی ورکرز پارٹی جموں کشمیر کے چیئرمین ہیں اور ہائی کورٹ وکیل کے طور پر مفاد عامہ کے مقدمات لڑنے میں جانا پہچانا نام ہیں۔