خبریں/تبصرے

جنرل سلیمانی کے جنازوں میں لاکھوں لوگ کیوں شریک تھے؟

 لاہور (روزنامہ جدوجہد) گذشتہ ہفتے سے مشرقِ وسطیٰ بارود کا ڈھیر بنا ہوا ہے۔ پہلے بغداد میں امریکی سفارت خانے پر حملے اور محاصرے کی خبر آئی۔ پھر جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے عراقی ہم منصب ابو مہدی المھندس کی امریکی ڈرون میں ہلاکت عالمی میڈیا کی شہ سرخی بنی۔ بدھ کے روز عراق میں امریکی اہداف پر ایرانی میزائل برسائے گئے۔ ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسی سے زائد افراد اس حملے میں ہلاک ہوئے۔ امریکہ کی جانب سے اس کی تردید یا تصدیق تا دمِ تحریر سامنے نہیں آئی۔

گذشتہ تین دن سے قاسم سلیمانی کے جنازے اور ان میں لاکھوں افراد کی شرکت میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک نمایاں رجحان بنے رہے۔ ان کے جنازے تو آیت اللہ خمینی کے جنازے سے بھی بڑے تھے۔ اہم بات یہ کہ جنرل سلیمانی کے جنازے تین شہروں میں کروائے گئے۔

ایران سے تعلق رکھنے والی مریم رحیمی(جو ان کا اصل نام نہیں) ایک سیاسی کارکن اور سابق طالب علم رہنما ہیں۔ ”روزنامہ جدوجہد“ نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور ان کے جنازوں بارے مریم رحیمی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جو ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔

”ایک نہیں تین جنازے کرائے گئے۔ سب کے سب بہت بڑے اجتماعات تھے۔ ایرانی شہری ان جنازوں میں کیوں شریک ہوئے؟ مختلف وجوہات تھیں۔ کچھ تو ایسے لوگ تھے جو ایرانی حکومت کے حامی ہیں لیکن بعض لوگوں کے لئے جنرل قاسم سلیمانی کی شخصیت اہم نہیں تھی۔ وہ اس اجتماع میں شرکت کر کے ممکنہ امریکی حملے کے خلاف آواز اٹھانا چاہتے تھے۔

یہ درست ہے کہ بہت سے لوگ ایرانی حکومت کے خلاف ہیں مگر وہ امریکی حملہ بھی نہیں چاہتے۔ لوگ جنرل قاسم سلیمانی یا ایرانی حکومت کے لئے نہیں، ایران کے لئے باہر نکلے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ایران بھی شام یا عراق بن جائے۔

ٹرمپ کو ایران میں ایک ضدی، ہٹ دھرم اور جنونی حکمران کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یاد رہے ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ بھی ختم کر دیا ہے۔ اگر ایرانی لوگوں نے ٹرمپ اور آیت اللہ حضرات کے مابین کسی کا انتخاب کرنا ہے تو وہ کافی عقل مند ہیں اور انہیں پتہ ہے کہ کیا کرنا چاہئے۔

جنازے میں شریک‘میں ایک ایسے نوجوان کو جانتی ہوں جو صرف ایک ماہ قبل مظاہروں کے دوران ریاستی تشدد کا نشانہ بنا اورزخمی ہوا۔ اس کا کہنا تھا کہ جب امریکی خطرہ ٹل جائے گا تو ہم اپنی حکومت کے خلاف جدوجہد شروع کر دیں گے۔ قصہ مختصر، ہر سوچ کے ساتھ لوگ ان جنازوں میں شریک ہوئے۔

ایرانی میڈیا نے بھی لوگوں کے جذبات برانگیختہ کئے۔ پھر یہ بات بھی اہم ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی ایران کی اندرونی سیاست میں متحرک نہیں تھے۔ ماضی میں، جب صدر خاتمی کا دور تھا تو ایک بہت بڑی طلبہ تحریک نے جنم لیا۔ اس تحریک کے دوران، غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق، جنرل قاسم سلیمانی نے حکومت کو خط لکھا تھا: طلبہ کو روکو ورنہ ہم مداخلت کریں گے۔ اس خبر کی شاید کبھی تصدیق نہ ہو سکے۔ اگر ایسا ہوا بھی تھا تو پس ِپردہ ہوا۔ بظاہر وہ سیاست میں نظر نہیں آتے تھے لہٰذا ان کے خلاف وہ نفرت موجود نہیں جو ایرانی سیاستدانوں بارے پائی جاتی ہے۔

انہیں ایک قومی ہیرو کے طور پر بھی پیش کیا گیا جس نے داعش کو شکست دی۔ اب یہ بات کم ایرانیوں کو معلوم ہے کہ اسد رجیم کے ساتھ مل کر انہوں نے بے گناہ شامی شہریوں اور بچوں پر بم برسائے۔

ابھی میں ایک ایرانی دوست سے بات کر رہی تھی۔ میری دوست کاکہنا تھا کہ ایران کے چار اطراف چالیس سے زائد امریکی فوجی اڈے ہیں۔ ایسے میں ایران کیا کرے؟ گویا جتنے منہ اتنی باتیں۔

میرے خیال سے اس وقت سب سے اہم مسئلہ اس جنگ کو ٹالنا ہے۔“