دنیا

ٹرمپ کے دورے پر مودی کی غریبی چھپاؤ دیوار

راجیو کھنہ

ترجمہ: ایف ایس

بشکریہ: دی سیٹزن

غربت کو چھپانے کے لئے دیوار تعمیر کرنا ان گنت ناکامیوں کی نشاندہی کرتا ہے لیکن سیاسی رہنماؤں کے لئے نہیں۔ جب دیواریں بنانے کی بات آتی ہے، چاہے دراندازی کو روکنے کے لئے میکسیکو سرحد پر امریکی دیوار ہو یا گجرات کی ماڈل ریاست میں بھارتی غریبوں کو چھپانے کے لئے بھارتی دیوار، یہ رجحان طبقاتی امتیاز ہی کو نمایاں کرتا ہے۔

گجرات کے سب سے بڑے شہر احمد آباد ایئرپورٹ اور اندرا پل کے درمیان دیوار، مبینہ طور پر اس ماہ کے آخر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا کے دورے کے پیشِ نظر تعمیر کی جا رہی ہے تاکہ امریکی جوڑے کی نظر غریبوں پر نہ پڑے۔ یہ دیوار بھارتی میڈیا کی شہ سرخیوں کا حصہ بن چکی ہے۔ سرکاری وضاحتوں میں بتایا گیا ہے کہ یہ 600 میٹر کی دیوار ”تجاوزات“ کی روک تھام کے لئے تعمیر کی جارہی ہے اور یہ شہرکے مرمتی کام کا حصہ ہے، لوگوں کو چھپانے کیلئے نہیں جو مودی حکومت کو دباؤ میں لانے کیلئے اعتراضات کر رہے ہیں۔ مودی 2014ء میں اسی گجرات کی وزارت اعلیٰ سے وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچے تھے۔

یہ دیوار طبقاتی تفریق کے تناظر میں دیکھی جارہی ہے جس پر اعتراض کیا جا رہا ہے کہ غربت کو چھپانے کے لئے اس طرح کی دیوار بنانا ترقی کے گجراتی ماڈل کا ڈھنڈورا پیٹنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ بھارتی سیاست پانچ دہائیوں بعد اندرا گاندھی کے دور کی ’غریبی ہٹاؤ‘ سے ’غریبی چھپاؤ‘ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ سنجیدگی سے دیکھا جائے تو دیوار کی تعمیر گجرات میں حکمران طبقے کی ناکامی کی علامت ہے، یہ ریاست معاشی طور پر خوشحال ریاستوں میں شامل رہی ہے۔

دیوار کے پیچھے کچی آبادی ہے جہاں شرانیہ کمیونٹی کے لوگ رہتے ہیں جنہیں حکام ٹرمپ کی نظروں سے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ لوگ جھاڑو بنانے کا کام کرتے ہیں۔ یہ خانہ بدوش تھے اور کچھ برسوں سے اس علاقے میں رہ رہے ہیں۔

ثقافتی اور سماجی کارکن ڈیکسن چھڑا جو نیم خانہ بدوشانہ چھڑا قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ”دیوار بناکر آپ یہ پیغام دے رہے ہیں کہ زندگی کی بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی کی حکومتی ناکامی پر آپ خود شرمندہ ہیں۔ آپ یہ بتا رہے ہیں کہ صرف امیر اور متوسط طبقہ ہی آپ کیلئے اہمیت رکھتا ہے۔ یہ شرم کی بات ہے کہ لوگ اس طرح کے حالات میں شرانیہ جیسی کچی آبادی میں رہتے ہیں، ایسی ماڈل ریاست میں جسے دوسری ریاستوں کیلئے نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ آپ تسلیم ہی نہیں کرنا چاہتے کہ گجرات میں غریب اور پسماندہ افراد رہتے ہیں۔ آپ دیوار بنانے پر جو خرچ کر رہے ہیں وہ غریبوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے پر خرچ کرنا چاہئے تھا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی ترجیحات کیا ہیں“۔

شاعر، ادیب اور سماجی تجزیہ نگار پریش ویاس دیوار کی تعمیر کو ایک سماجی اور تاریخی جہت دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ”احمد آباد کا دیواروں اور دروازوں سے پرانا تعلق ہے۔ دیواریں خارجیت کے بعد بندش کی علامت ہیں، جب کہ دروازے کھولنا شمولیت کیلئے تھا۔ شہر میں 12 دروازے ہیں۔ احمد آباد کی لوک داستانوں میں بہت ساری داستانیں موجود ہیں کہ جب بھی دولت مند اور طاقت ور لوگوں نے غریبوں اور پسماندہ افراد کو الگ کر کے دیواریں بنانے کی کوشش کی، عوامی بدامنی نے انہیں دروازے بنانے پر مجبور کردیا۔ ایک کہانی پندرھویں صدی کے معروف ہندو سادھو مانک ناتھ کے بارے میں مشہور ہے جس سے منسوب مانک چوک کی مشہور فوڈ اسٹریٹ رات گئے تک کھلی رہتی ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ جب بھی مانک ناتھ نے لحاف کی سلائی میں اضافہ کیا تو شہر کے چاروں طرف اس وقت کے حکمران کی تعمیر کردہ دیوار کا ایک حصہ ٹوٹ پڑے گا۔ دیواریں کھڑی کرنا اور غریبوں کو خارج کرنے کی کوششیں کسی دور میں بھی رک نہیں پائیں۔ ایک دہائی سے ذرا پہلے کی بات ہے جب حکام نے تاریخی کنکریا جھیل کے ارد گرد دیوار کھڑی کردی تھی اور اب ہر کسی کو اس ’خوبصورت کمپلیکس‘ میں داخل ہوکر جھیل کا نظارہ کرنے کے لئے ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے۔ کیا یہ غریبوں کا اخراج نہیں ہے؟“

لیکن حکمرانی کے ایسے ہی ماڈل کو فروغ دیا جارہا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں جب حکومت نے غریبوں کو غیرملکی معززین سے چھپانے کی کوشش کی ہو۔ ستمبر 2014ء میں چینی وزیر اعظم ژی جن پنگ کے دورہ احمد آباد کے دوران مہاتما گاندھی کے سبرمتی آشرم سے ملحقہ کچی آبادی کو پٹ سن کی فصل کی اوٹ میں چھپانے کی خبر سب سے پہلے اس رپورٹر نے دی تھی۔ تب ایک سرکاری اہلکار نے طنزیہ فقرہ بھی کسا تھا کہ”جب غریب دکھائی ہی نہیں دے گا تو غربت کہاں نظر آئے گی“۔

اپنے شہر اور اس کے تاریخی ورثے پر فخرکرنے والے احمد آباد کے شہری پچھلے سال ٹیکساس میں ہونے والے ’ہاؤڈی مودی‘ اجتماع کی طرز پر ٹرمپ کیلئے سجے موتیرا اسٹیڈیم میں ایسی ہی تقریب کی تیاریوں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت امریکی مہمانوں کو ایسے مقامات پر لے جانے کی خواہاں ہیں جو کم آبادی والے اور نئے احمد آباد کی محض سڑکوں اور عمارتوں پر مبنی علامتی جگہیں ہیں جبکہ احمد آباد کی اصل روح تاریخی جگہوں میں آباد ہے۔ احمد آباد کی وراثت بنیادی طور پر مسلم حکمرانوں کے تعمیر کردہ 12 دروازے ہیں، چونا پتھروں سے بنی قدیم جامع مسجد اور سرخیز کا روضہ۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی وراثت کی وجہ سے احمد آباد کو یونیسکو سے عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ حاصل ہوا لیکن ہندتوا کے نظریے سے وابستہ افراد مسلمانوں سے متعلق کسی بھی چیز سے نفرت کرتے ہیں۔ صورتحال اتنی خراب ہے کہ ہندتوا کے پرچارک احمدآباد کا نام لینے سے بھی پرہیز کرتے ہیں اور اسے کرناوتی کہتے ہیں۔

پریش ویاس کہتے ہیں کہ موتیرا سٹیڈیم احمد آباد کی میراث نہیں ہے۔ یہ درجہ سرخیز کے روضہ اور رانی سپری کی مسجد کو حاصل ہے جو مسجد نگینہ کے نام سے مشہور ہے۔ تجربہ کار سیاسی مبصر پرکاش شاہ نے اس رپورٹر کو بتایا کہ جب مودی اور ٹرمپ جیسے لوگ اقتدار میں ہوں تو ایسی دیواریں حیرت کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ کیا حکومت یہ سوچتی ہے کہ ٹرمپ کو دیوار کی تعمیر کا پتہ ہی نہیں ہوگا؟ یہ الگ بات ہے کہ شاہی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونے کے بعد وہ خوشی سے اسے نظرانداز کردیں۔ انہوں نے کہا کہ ان جیسے قائدین ایک ایسی دنیا میں زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں جہاں وہ غریبوں کے وجود کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔

ہو سکتا ہے مودی ٹرمپ کو مضحکہ خیز انداز میں کہہ ہی دیں ”میں نے آپ کو دیوار بنانے میں مات دیدی“۔ ان کے لئے صرف امیر اور متوسط طبقے ہی اہمیت رکھتے ہیں۔