Day: اپریل 16، 2022

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔


جموں کشمیر: اسمبلی اجلاس کی کارروائی پر عدالتی جنگ شروع

روز مرہ ضروریات کے حصول کی تگ و دو میں غرق اس خطے کے محنت کش اور نوجوان حکمرانوں کی اس سیاست سے نہ صرف لاتعلق اور بدظن ہو رہے ہیں بلکہ وہ وقت بھی دور نہیں جب وہ اس سیاست اور اقتدار پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے مقدر اپنے ہاتھوں میں لینے پر مجبور ہونگے۔

منٹو، چچا سام اور قوم یوتھ کی ’سامراج دشمنی‘

فوجی امداد کا مقصد جہاں تک میں سمجھتا ہوں ان ملاؤں کو مسلح کرنا ہے۔ میں آپ کا پاکستانی بھتیجا ہوں، مگر آپ کی سب رمزیں سمجھتا ہوں، لیکن عقل کی یہ ارزانی آپ ہی کی سیاسیات کی عطا کردہ ہے (خدا اسے نظر بد سے بچائے)۔ ملاؤں کا یہ فرقہ امریکی اسٹائل میں مسلح ہو گیا تو سویٹ روس کو یہاں سے اپنا پاندان اٹھانا ہی پڑے گا جس کی کلیوں تک میں کمیونزم اور سوشلزم گھلے ہوتے ہیں۔ امریکی اوزاروں سے کتری ہوئی لبیں ہوں گی۔ امریکی مشینوں سے سلے ہوئے شرعی پیجامے ہوں گے۔ امریکی مٹی کے ”ان ٹچڈ بائی ہینڈ“ قسم کے ڈھیلے ہوں گے، امریکی رحلیں اور امریکی جائے نمازیں ہوں گی…بس آپ دیکھئے گا چاروں طرف آپ ہی کے نام کے تسبیح خواں ہوں گے۔