پاکستان

’پاکستانی میں بنیاد پرستوں کو ووٹ نہیں ملتے، پاکستان ہندوستان سے زیادہ سیکولر ہے‘

فاروق سلہریا

چند روز قبل ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں چند طالب علم ڈاکٹر عبدالسلام کی تصویر پر کالک ملتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ بلاشبہ یہ چند طالب علموں کا فعل تھا۔ ممکن ہے پاکستان کی اکثریت اس عمل کے خلاف ہو۔ جس نام نہاد سائنس کالج میں یہ واقعہ پیش آیا، ممکن ہے وہاں بھی طالب علموں یا اساتذہ کی اکثریت نے اس حرکت کو پسند نہ کیا ہو۔ ایک بات بہر حال طے ہے کہ نہ تو کسی استاد کو جرات ہوئی ہو گی کہ ان طالب علموں کو روکتا نہ ہی کسی مختلف الخیال طالب علم گروہ کی یہ ہمت تھی کہ انہیں روک کر دکھا دے۔ کالج کے پرنسپل میں بھی یہ جرات کبھی نہیں ہو گی کہ ان طالب علموں کے خلاف اس بنیاد پر کسی قسم کی کوئی کاروائی کرے۔ پرنسپل تو کیا وزیر اعظم عمران خان بھی اس واقعہ کا نوٹس نہیں لیں گے۔

وجہ ہم سب کو معلوم ہے۔

یہ طالب علم تعداد میں مٹھی بھر سہی لیکن ان کی پشت پناہی کرنے والی قوتیں اس قدر طاقت ور ہیں کہ جب جنرل باجوہ کے مسلک بارے کچھ افواہیں پھیلیں تو ہم نے دیکھا کہ ان کے گھر بھی میلاد کی محفلیں سجنے لگیں۔ یہی وہ مٹھی بھر لوگ تھے جنہوں نے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سب سے مقبول رہنما نواز شریف کو گھر بھجوا نے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس لئے جب بعض مطالعہ پاکستان کے کنوئیں میں ڈبکیاں لگانے والے دانشور پاکستان کی امیج بلڈنگ کے چکر میں اسے لبرل بنا کر پیش کرتے ہیں تو بتایا جاتا ہے کہ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کو کبھی بھی اکثریت نے ووٹ نہیں دیا۔

بعض اوقات اکیڈیمکس اور ملکی و غیر ملکی صحافی بھی اس قسم کا موقف اختیار کرتے ہیں۔ انڈیا کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے۔ اعلان کیا جاتا ہے: ’پاکستانی میں بنیادپرستوں کو ووٹ نہیں ملتے اس لئے پاکستان ہندوستان سے زیادہ سیکولر ہے‘۔

عرض یہ ہے کہ اؤل تو پاکستان کی مذہبی جماعتوں کے پاس اس قدر طاقت ہے کہ وہ، جنرل ضیا کے دور سے، فوج کی بی ٹیم بن کر حکومت میں ہیں۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں چلا گیا ہے لیکن حافظ سعید پر آنچ نہیں آنے دی۔ انہیں ووٹوں کی ضرورت ہی نہیں۔ پاکستان اگر عسکری ریاست ہے تو بنیادپرست اس معسکر کے پیادہ دستے ہیں۔

دوم، مذہبی جنونی قوتوں نے سیاست کو اس قدر رائٹ ونگ اور مذہبی بنا دیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف، پی پی پی، مسلم لیگ یا جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے سیاسی، سماجی، معاشی، ثقافتی ایجنڈے اور بیانئے میں کوئی فرق نظر آئے تو ضرور اطلاع دیجئے گا۔

اور تو اور اے این پی کے مرکزی رہنما حاجی غلام احمد بلور کے ایسے بیانات بھی ریکارڈ پر ہیں جس کے بعد تحریک لبیک اور اے این پی کا فرق بھی مٹ جاتا ہے۔

مزدور تحریک کے لئے ضروری ہے کہ مذہبی بنیاد پرستی کو اچھی طرح سمجھے۔ قومی شاونزم، فرقہ واریت، مذہبی بنیادپرستی: یہ وہ سیاسی مظاہر ہیں جو مزدور طبقے کو تقسیم اور طبقاتی جدوجہد کو کند کر دیتے ہیں۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لئے پہلے انہیں سمجھنا ضروری ہے۔ اسی طرح ان کی طاقت کا صحیح اندازہ لگانا اہم ہے۔ اس لئے مندرجہ ذیل نکات کسی بھی تجزئیے کے لئے اہم ہیں:

یہی نہیں کہ بنیاد پرست سیاسی جماعتیں اور گروہ انتہائی طاقت ور ہیں بلکہ ان کے پاس مدرسہ نیٹ ورک کی وجہ سے زبردست سٹریٹ پاور اور کیڈر بھی موجود ہے۔

حساب کتاب بہت سادہ سا ہے۔ 35 ہزار مدرسوں میں اس وقت 15 لاکھ طالبان ہیں۔ ہر سال کئی لاکھ طالبان معاشرے کا حصہ بن رہے ہیں۔ آنے والے کئی سالوں تک بنتے رہیں گے۔ غربت، پیٹرو ڈالرز اور نیو لبرلزم کے ہوتے ہوئے مدرسوں میں اضافہ تو ہوتا رہے گا، کمی نہیں آئے گی۔

اور اگر جدلیاتی مادیت کا یہ اصول درست ہے کہ مقدار معیار میں تبدیل ہونے لگتی ہے تو وہ دن بھی دور نہیں جب بی جے پی کی طرح جمعیت علمائے اسلام کو تیس چالیس فیصد ووٹ بھی ملنے لگیں گے۔

نعرے بازی نہیں، سوچنے کا مقام ہے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔