دنیا

خدا حافظ صدر ٹرمپ؟ پیش گوئیاں یا خوش فہمیاں!

قیصر عباس

امریکہ میں انتخابات کی گہما گہمی اب عروج پر پہنچ چکی ہے۔ انتخابات میں اب صرف ایک ہفتہ باقی ہے اور ذرائع ابلاغ میں صبح شام یہ بحث جاری ہے کہ تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں کون سرخرو ہوگا، لبرل نظریات رکھنے والی ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن یا رجعت پسندرپبلکن پارٹی کے ڈونلڈ ٹرمپ؟

ٹی وی اور اخبارات کی خبروں میں آج کل قبل از وقت ووٹ دینے والوں کے ایگزٹ پولز، تحقیقی اداروں کے جائزے اور یونیور سٹیز کے سروے بھی انتخابات پر روشنی ڈال رہے ہیں لیکن اب بھی یہ کہناقبل از وقت معلوم ہو تاہے کہ انتخابات کے نتائج کے بارے میں ماہرین کے تبصروں کی بنیاد ان کی صحیح پیشگوئیاں ہیں یا سیاسی خوش فہمیاں؟

اب لوگ ایگزٹ پولز (ووٹنگ کے بعد لوگوں کی رائے) پر اعتما د کم کر رہے ہیں کیوں کہ ان کی پیش گوئی ٹر مپ اور ہیلری کے درمیان چار سال پہلے صدارتی انتخابات میں صحیح ثابت نہیں ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ووٹنگ کے بعد کئے جانے والے پولزکے نتائج کوایک خاص وقت کے لئے ہی درست جاننا چاہئے لیکن ان سے دور رس نتائج اخذ کرنا صحیح نہیں ہے۔

دوسری جانب جدید تحقیقی طریقہ کار کے مطابق کئے گئے سروے زیادہ درست ثابت ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی آف وسکانسن، میڈیسن کے الیکشن ریسرچ سنٹرنے حال ہی میں وسکانسن، مشیگن اور پنسلوینیا کی ریاستوں میں ووٹرز کا ایک سروے کیا ہے۔ یہ تین ریاستیں انتخاب میں انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں جہاں دونوں پارٹیوں کے درمیان انتخابی مقابلہ سخت ہوتاہے۔

سروے کے مطابق ان ریاستوں میں ووٹرز کی اکثر یت جو بائیڈن کے حق میں ہے۔ مشیگن میں باون فیصد بائیڈن کو اور بیالیس فیصد ٹرمپ کو ووٹ دے رہے ہیں۔ پنسلوینیا میں جہاں اکثریت ٹرمپ کی حامی سمجھی جاتی رہی ہے اب باون فیصد بائیڈن کو اور چوالیس فیصد ٹرپ کے حامی ہیں۔ وسکانسن میں بھی یہ تناسب بائیڈن کے حق میں ترپن اور چوالیس فیصدہے۔

ان ریاستوں میں دونوں امیدواروں میں مرد ووٹرز کا تناسب ٹرمپ کے حق میں ہے لیکن کم فرق کے ساتھ جب کہ ستاون فیصد خواتین بائیڈن کو اور سینتیس فیصد ٹرمپ کو ووٹ دے رہی ہیں۔ رنگ و نسل کی بنیادپر بھی بائیڈن کا پلہ بھاری نظر آتاہے جہاں اسی فیصدسیاہ فام، پینسٹھ فیصد لاطینی اور انسٹھ فیصد دوسری اقلیتیں جو بائیڈن کو ووٹ دینے جا رہی ہیں۔ سروے کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ووٹرز میں جو بائیڈن اور کم تعلیم یافتہ طبقوں میں ٹرمپ زیادہ مقبول ہیں۔

ایک اور قابل اعتماد ادارے پیو ریسرچ سنٹر نے بھی مجموعی طور پر تقریباً ان ہی نتائج کی تصدیق کی ہے۔ اکتوبر میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق بائیڈن کے حق میں باون اور ٹرمپ کے حق میں بیالیس فیصد ووٹوں کی امید کی جا رہی ہے۔

اس سروے میں مسائل کی بنیاد پر امیدواروں کی مقبولیت کا بھی اندازہ لگایا گیا ہے جس میں بھی اقتصادی امور کے علاوہ، جن میں ٹرمپ کو فوقیت حاصل ہے، دیگر مسائل میں بائیڈن کو سبقت حاصل ہے۔

کرونا وائرس اور صحت عامہ میں ستاون فیصد ووٹرز بائیڈن کوقابل اعتماد سمجھتے ہیں۔ اسی طرح عدالتی انصاف اور قانون کی بالا دستی، سپریم کورٹ کے ججوں کی نامزدگی، امور خارجہ اور ملک کو متحد کرنے کے پہلوؤں پر بھی بائیڈن اپنے حریف کے مقابلے میں ذیادہ مقبول نظر آتے ہیں۔

روائتی طور پر سمجھا جاتا ہے کی سات آٹھ ریاستوں کے نتائج ہی صدارتی امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں جنہیں سوِنگ ریاستیں (Swing States)  کہا جاتا ہے۔ ان میں فلوریڈا، پنسلوینیا، اوہایو، مشیگن، نارتھ کیرولائنا، ایریزونا، وسکانسن اور آیووا کی ریاستیں شامل ہیں۔ رائے عامہ کے مطابق اب تک اوہاؤ اور آیووا کی ریاستوں میں ٹرمپ اور دوسری ریاستوں میں بائیڈن کو سبقت حاصل ہے۔ ماہرین کے مطابق ان اعداد و شمار سے صرف انتخابی رویوں کی نشاندہی ضرور ہوتی ہے، حتمی نتائج اخذنہیں کئے جا سکتے۔

لیکن امریکہ میں صدارتی انتخاب کا دار و مدار ملک کے مجموعی نتائج کے بجائے الیکٹرورل کالج پر ہوتا ہے جو ہر ریاست میں آبادی کے تناسب کی بنیاد پر منتخب ہوتے ہیں اور ان کے انتخابی نتائج ملک میں مجموعی ووٹنگ کے نتائج سے مختلف بھی ہو سکتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ صدارتی انتخاباب میں ملکی سطح پر ہیلری کلنٹن نے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے لیکن ٹرمپ نے الیکٹرورل کالج کی بنیاد پر یہ مقابلہ جیت لیا تھا۔

اس کے باوجود یاستوں کی سطح پر انتخابات کے نتائج اس سال سینٹ کی پینتیس سیٹوں کے انتخابات کے لئے انتہائی اہم ہیں جہاں اب رپبلکن پارٹی کی اکژیت ہے۔ بائیڈن اگر صدر منتخب ہو بھی جائیں توصحت عامہ، اقتصادی ترقی اور کرونا وائرس جیسے اہم فیصلوں پر عمل درآمد کے لئے ضروری ہے کہ انہیں سینٹ میں بھی اکثریت حاصل ہو۔

ان نتخابات میں ووٹرز گزشتہ چار سال میں صدر ٹرمپ کی داخلی اور بین الاقوامی کارکردگی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خارجہ امور پر صدر ٹرمپ کی پالیسوں نے امریکہ کو دنیا میں تنہا کر دیا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی امور میں نہ صرف یورپ بلکہ دیگر ممالک سے بھی الگ تھلگ کر دیا ہے۔ صدر نے نیٹو کی اقتصادی مدد سے مسلسل انکار کیا اور موسمیاتی تبدیلوں پر پیرس معاہدے سے لاتعلقی کا اظہار کیا جس سے بیشتر یورپی ممالک اب ان پر اعتماد کرنے پر تیار نہیں ہیں۔

صدر ٹرمپ کے دور میں مشرق وسطیٰ میں خطے کے مسائل حل ہونے کے بجائے نئی پیچیدگیوں میں گھرے نظر آرہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے ایران سے ایٹمی معاہدہ ختم کر کے اسے اس شعبے میں آگے بڑھنے کی کھلی چھٹی دے دی جس کی بنیاد پر ایران کم عرصے میں ایٹمی طاقت بن سکتا ہے اگرچہ اقتصادی پابندیوں نے اس کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ مشرقِ وسطی اور ایران کے درمیان سیاسی کشیدگی کو صدر کی پالیسیوں سے مہمیز ملی ہے۔ خلیجی ریاستیں امریکی اسلحہ کی سب سے بڑی خریدار بن گئی ہیں اور اب امارات سمیت چار عرب ممالک نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بھی قائم کرلئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ اور دوسرے مسلمان ملکوں کی رائے عامہ اسے فلسطینیوں کے انسانی حقوق سے روگردانی سمجھتی ہے کیوں کہ ان معاہدوں سے علاقے میں اسرائیل کی دفاعی کوششوں کو مزید تقویت ملی ہے لیکن فلسطینی باشندو ں کے مستقبل کے بارے میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔

صدر نے اپنے چار سالہ صدارتی دور میں اگرچہ عراق، شام اور افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی پر زور دیا ہے لیکن افغانستان کے علاوہ جہاں امریکی انخلا کی تیاریاں کی جارہی ہیں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجوں کے انخلا کے کوئی امکانات نظر نہیں آ رہے اور مقامی طورپر ان کی مخالفت میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

داخلی امور میں امریکی صدرنے سماجی طور پر امریکہ کو متحد کرنے کے بجائے تقسیم کرنے کی پالیسیوں پر شروع ہی سے عمل کرنا شروع کر دیا تھا۔ مسلمان تارکین وطن پر پابندیوں اورتارکین وطن سے متعلق ان کے رویے غیر انسانی اور تعصبانہ رہے ہیں باوجود اس کے کہ امریکہ میں ہمیشہ ہی سے تاریکین وطن کو خوش آمدید کہا گیا ہے ان کی گوناگوں صلاحیتیں ملک کی ترقی کا ایک اہم ستون سمجھی جاتی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ملک کو نسلی بنیادوں پر بھی تقسیم کرنے کی کوشش کی۔ افریقی امریکیوں پر پولیس کے تشدد اور ہلاکتوں پر ان کا رویہ ہمیشہ ناقبل فہم رہا۔ انہوں نے ان زیادتیوں پر ہونے والے احتجاج کو نہ صرف سختی سے دبانے کی کوشش کی بلکہ سفید فام لوگوں سے لاتعلقی سے انکار بھی کیا۔

اس صورت حال کے پس منظر میں امریکہ کے بیشتر ذرائع ابلاغ نے صدر کی ان پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے۔ سی این این کے ہفتہ وار ٹاک شو کے اینکر فرید زکریا نے صدر کی کارگردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اتوارکو اپنے پروگرام میں پیش گوئی کی کہ ان انتخابات میں صدر ٹرمپ کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کچھ مبصرین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس سال امریکہ میں صدارتی انتخابات کا فیصلہ بین الاقوامی امور کے بجائے ملکی سطح پر صدر ٹرمپ کی چارسالہ کاردگی پر ہوگا جن میں سب سے نمایاں کرونا وائرس سے تحفظ کی حکمت عملی، بے روزگاری، اقتصادی ترقی، امیگریشن اور نسلی تعصبات کے مسائل ہیں۔

سیاسی پنڈتوں کا کہنا تو یہی ہے کہ امریکی قوم تین نومبر کو ہونے والے انتخابات میں صدر ٹرمپ کو خدا حافظ کہہ سکتی ہے لیکن کون جانے کہ آنے والاہفتہ کیا نئے گُل کھلانے والا ہے؟

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔