دنیا

بولیویا میں بغاوت: سوشلسٹ صدر ایوو مورالس نے استعفیٰ دیدیا!

فاروق سلہریا

عالمی سطح پر بائیں بازو کے لئے ایک زبردست دھچکا: اتوار کے روز بولیویا کی فوج اور پولیس نے بولیویا کے سوشلسٹ صدر ایو ومورالس کے علاوہ ان کے نائب صدر اور دیگر ایسے منتخب عہدیداروں سے استعفے لے لئے ہیں جو آئین کے مطابق ان کی جگہ صدر بن سکتے تھے۔

استعفیٰ دینے سے قبل صدر مورالس نے نئے انتخابات کا اعلان کیا تھا تا کہ دائیں بازو والی حزب ِمخالف کی جانب سے جاری پر تشدد ہنگاموں کا خاتمہ کیا جا سکے۔

20 اکتوبر کے انتخابات میں صدر مورالس نے واضح برتری حاصل کر لی تھی۔ ان کے انتخاب کے خلاف حزبِ اختلاف نے دھاندلی کے الزامات لگا کر پر تشدد مظاہرے اور کاروائیاں شروع کر دیں۔ مورالس کے حامیوں پر اور ان کے گھروں پربھی حملے کئے گئے۔

انتخابات سے قبل ہی یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ حزبِ اختلاف انتخابات ہارنے کی صورت میں وہی کچھ کرے گی جو اس سے قبل وینزویلا میں ہو چکا ہے (یا 1977ء میں پاکستان میں ہو چکا ہے) مگر وینزویلا میں فوج نے حکومت کا ساتھ دیا ہے کیونکہ فوج صدر مادورو کے ساتھ ہے۔ وینزویلا کی طرح بولیویا میں بھی حزبِ اختلاف کو پوری امریکی حمایت حاصل ہے۔ ہم لاطینی امریکہ میں دیکھ رہے ہیں کہ جمہوری قوتوں اور امریکہ کی حمایت یافتہ فوجوں کا کردار ابھی بھی اہم ہے۔

ادھر، دنیا بھر کے ترقی پسند رہنماؤں نے صدر مورالس سے اظہار یکجہتی کی ہے۔ میکسیکو کے ترقی پسند صدر نے کہا ہے کہ”اگر صدر مورالس کو سیاسی پناہ کی ضرورت پڑی تو میکسیکو کے دروازے کھلے ہیں“۔ کیوبا اور وینزویلا نے اس بغاوت کی شدید مذمت کی ہے۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔