دنیا

جنوبی ایشیا یا غائبستان

قیصرعباس

امریکی کانگریس کے رکن بریڈ شرمین نے کہاہے کہ انہوں نے جولائی میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے ان کے امریکی دورے کے موقع پر جبری گمشدگی کے مسئلے پر بات کی تھی۔ پاکستان میں جبری گمشدگیوں پراظہارِ تشویش کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک اہم ملک ہے لیکن وہاں جبری گمشدگی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے مزید یاد دلایا کہ امریکہ نے پاکستان کو 30 ملین ڈالر کی امداد دی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں 2000 افراد جبری گمشدگی کا شکارہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہاکہ وہ کانگریس میں ایشیا سب کمیٹی کے چیئرمین ہیں اور عنقریب سب کمیٹی کی ’Public  Hearing‘کا اہتمام کیا جارہاہے جس میں انسانی حقوق کے مسائل بھی زیر بحث آئیں گے۔

یہ باتیں انہوں نے انسانی حقوق کی کئی تنظیموں کے زیر اہتمام ’جبری گمشدگی‘ کے موضوع پر ایک مذاکرے سے خطاب کے دوران کیں جو جمعہ کو نیشنل پریس کلب واشنگٹن ڈی سی میں منعقد کیاگیاتھا۔ ہر سال 30 اگست کے دن جبری گمشدیوں کی مذمت میں عالمی دن منایا جاتا ہے اور اس مذاکرے کااہتمام بھی اسی موقع کی مناسبت سے کیا گیاتھا۔

انہوں نے کہاکہ ایک اندازے کے مطابق سری لنکا میں 200,000 افراد جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔ چین میں بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو حراست میں لیاگیاہے جو تعلیم کے نام پر کیمپوں میں مقید ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا انسانی المیہ ہے اور کانگریس میں اس مسئلے پر ایک بل بھی پیش کیاجارہاہے۔

سندھی فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر صوفی لغاری نے مذاکرے کی نظامت کرتے ہوئے کہاکہ”ہم لوگوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جابر حکومتیں کس طرح مخالف رائے عامہ کو خاموش رکھنے کے لئے لوگوں کو غائب کرادیتی ہیں اور دنیابھر میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعدادمیں لوگ گمشدہ ہیں جن کا کوئی اتاپتہ نہیں ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ گمشدہ افراد کی بازیابی میں ذرائع ابلاغ اور منتخب نمائندے ہماری مدد کریں اور ہم باشعور لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔“

تشدد کے خاتمے اور متاثرہ افراد کی مدد کی تنظیم’TASSC‘کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر لیونس بیمانہ نے کہاکہ”گمشدہ افراد کے پسماندگان ساری عمر اپنے پیاروں کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور میں ایک نفسیاتی معالج کی حیثیت سے یہ کہہ سکتاہوں کہ یہ ایک انتہائی بدترین قسم کا ذہنی تشدد ہے۔ یوگنڈا اور اریٹریا سمیت افریقہ کے کئی ملکوں میں جبری گمشدگی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں جبری گمشدگیوں میں اضافہ ہورہاہے جب کہ حکومت اسے ایک مسئلہ تسلیم کرنے سے بھی انکارکرتی ہے۔ نیپال میں گزشتہ دس سال کے دوران سیاسی تشدد میں 3100لوگ غائب ہوئے ہیں جن کا آج تک کوئی سراغ نہیں ملا۔“

واضح رہے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھی لگ بھگ دس ہزار افراد نوے کی دہائی سے لاپتہ ہیں۔ ایسے ہی لاپتہ افراد کی ماؤں نے ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس پیریڈ پرسنز (اے پی ڈی پی) بنا کر عوامی چوکوں پر مظاہروں کا ایک سلسلہ سالہا سال سے شروع کر رکھا ہے۔ اس تنظیم کی رہنما پروینہ آہنگر اس حوالے سے ایک عالمی علامت بنتی جا رہی ہیں۔البتہ اس مذاکرے میں کشمیر کی کوئی نمائندگی نہیں تھی۔

ورلڈ وہیگر کانگریس (World Uyeghaur Congress) کی رابعہ قدیر نے بتایاکہ”چین میں ایک اندازے کے مطابق دو ملین سے زیادہ افراد کیمپوں میں زیر حراست ہیں لیکن غیر سرکا ری اطلاعات کے مطابق ان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ انہیں اپنے عزیزوں سے ملاقات کی اجازت تک نہیں دی جاتی اور اپنا مذہب تبدیل کرنے پر بھی مجبور کیا جاتاہے۔“

پروگرام میں سری لنکا کی ٹرانسنیشنل گورنمنٹ آف تامل ایلام اور امریکن کرد انفارمیشن نیٹ ورک کے نمائندوں نے بھی اپنے ملکوں میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جبری گمشدگی کے واقعات کی تفصیل بیان کی۔ اس مذاکرے کا اہتمام سندھی فاونڈیشن، تشدد کے خاتمے اور متاثرہ افراد کی مدد کی تنظیم ’TASSC‘، ٹرانسنیشنل گورنمنٹ آف تامل ایلام (TGTE) اور امیریکن کرد انفارمیشن نیٹ ورک نے مشترکہ طورپر کیاتھا۔

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔