پاکستان

آئی ایم ایف کی کڑی شرائط، عمران خان گھبرا گئے: فنانشل ٹائمز

لاہور (جدوجہد رپورٹ) وزیراعظم پاکستان کے معاشی کٹوتیوں کے غیر مقبول اقدامات لینے سے مبینہ انکار کے بعد 6 ارب ڈالر قرض کا پروگرام دوبارہ شروع کرنے کیلئے پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین بات چیت رک گئی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے قرض کی مزید رقم طلب کئے جانیکا خدشہ حکومت کیلئے مزید دباؤ کا باعث بن چکا ہے۔ اس بات کا دعویٰ معروف عالمی اخبار فنانشل ٹائمز نے کیا ہے۔

بین الاقوامی جریدے فنانشل ٹائمز کے مطابق حکومت کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ قرض سے منسلک معاشی اصلاحات سے متاثر ہونے والے درمیانے طبقے کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آسکتا ہے۔

ایک حکومتی عہدیدار نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم کا گزشتہ ماہ اکتوبر میں اسلام آباد کا دورہ متوقع تھا لیکن وہ ابھی تک نہیں پہنچا، کیونکہ آئی ایم ایف حکومت کی جانب سے مالی خسارے کم کرنے کیلئے دیگر شرائط پوری کرنے کی حامی بھرنے کا منتظر ہے۔ پاکستان نومبر کے آخر تک اس بات چیت کی بحالی کی امید کر رہا ہے لیکن آئی ایم ایف کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اس سال کرونا وائرس کی وجہ سے ہماری معیشت کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے اور ٹیکس آمدن میں کمی ہوئی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے تین ارب ڈالر کے قرض سے ایک ارب ڈالر واپس لینے اور تین ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے ادھارتیل کی سہولت کو منجمد کرنے کے بعد پاکستان پر مزید دباؤ ہے اور سرکاری عہدیداروں کے مطابق خدشات ہیں کہ سعودی عرب مزید قرض کی رقم بھی واپس مانگ سکتا ہے، جس کے باعث پاکستان چین سے مزید قرض لینے پر مجبور ہو گا۔

آئی ایم ایف پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کیلئے بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے، ٹیکس وصول کے اہداف بڑھانے کیلئے نئے ٹیکسوں کا نفاذ کی شرائط پر رضامندی ضروری ہے، اس کے علاوہ شرح سود میں اضافے کی شرط بھی پوری کرنی ہو گی جو رواں سال میں 13.25 فیصد سے کم ہو کر 7 فیصد کر لی گئی تھی۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان کی معیشت کو وبائی مرض کے دوران پڑوسی ملک بھارت کی نسبت کم نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ 2020ء میں پاکستانی معیشت 0.4 فیصد تک سکڑ جائے گی لیکن آئندہ سال دو فیصد تک ترقی کا امکان ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی بدھ کو جاری ہونیوالی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا بیرونی قرض اور واجبات 2018ء میں 95 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2020ء میں 113 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔

لاہور میں قائم ایک تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ برائے پالیسی ریفارمز نے کہا کہ ”ہم قرضوں کے جال میں ہیں جو پوری طرح سے ہماری اپنی تشکیل ہے، یہ ہماری قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔“

سابق مشیر خزانہ ثقیب شیرانی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کی وجہ سے عمران حکومت کیلئے غیر مقبول اقدامات اپنانا مزید مشکل بنا دیا ہے۔ سخت اصلاحات ہمیشہ تکلیف دہ ہوتی ہیں اور ابھی تکلیف دہ اقدامات کیلئے اچھا وقت نہیں ہے۔