پاکستان

جموں کشمیر: 25 جولائی کو الیکشن کے نام پر سلیکشن ہو گی

حارث قدیر

مقامی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ الیکشن شیڈول کے مطابق پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کیلئے 25 جولائی کو ایک ہی روز میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔

قانون ساز اسمبلی کی 53 نشستوں میں سے 45 نشستوں پر براہ راست انتخابات کے ذریعے ممبران اسمبلی کا انتخاب کیا جائیگا۔ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے 10 اضلاع میں کل 33 نشستوں پر انتخابات ہونگے جبکہ 12 نشستیں مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کیلئے مختص کی گئی ہیں۔ ان 12 نشستوں میں سے 6 نشستیں مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان صوبہ ویلی (کشمیر) اور 6 نشستیں مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان صوبہ جموں کیلئے مختص کی گئی ہیں۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے الیکشن کمیشن کے زیر اہتمام ہونے والے ان انتخابات میں مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کے انتخابی حلقے انتہائی پیچیدہ ہونے کے باوجود سب سے آسان بھی گردانے جاتے ہیں۔ مہاجرین جموں کشمیر پاکستان کے چاروں صوبوں کے مختلف شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ 4 لاکھ سے زائد ووٹرز کو رائے دہی کا حق حاصل ہوتا ہے اور مقامی ڈپٹی کمشنر صاحبان ان انتخابات کے انعقاد کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے 33 انتخابی حلقوں میں کل 28 لاکھ سے زائد خواتین و مرد ووٹرز حق رائے دہی کا استعمال کرینگے۔

قانون ساز اسمبلی میں 8 مخصوص نشستیں ہیں جنہیں ممبران اسمبلی کے ووٹوں کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے۔ مخصوص نشستوں میں سے 5 نشستیں خواتین کیلئے، 1 ٹیکنوکریٹ، 1 علما مشائخ اور 1 نشست اوورسیز کشمیریوں کی نمائندگی کیلئے مختص کی گئی ہے۔

یہ انتخابات پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے عبوری آئین 1974ء کے الیکشن رولز کے تحت منعقد کروائے جاتے ہیں۔

اس خطے کے انتخابات میں مہاجرین جموں کشمیر کی 12 نشستیں ہمیشہ اہم کردار کی حامل رہی ہیں۔ ان نشستوں سے منتخب ہونے والے نمائندوں کو ترقیاتی بجٹ فراہم نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے متبادل کے طورپر مہاجرین کے متعلقہ امور سرانجام دینے والے محکمہ بحالیات کی مختلف سکیمیں فراہم کی جاتی ہیں۔ تاہم ان نشستوں میں سے کچھ ایسی بھی نشستیں ہیں جن میں چند سو ووٹ حاصل کرنے والا ممبر اسمبلی منتخب ہو جاتا ہے۔ ان 12 نشستوں میں سے اکثریتی اور بعض اوقات پوری ہی نشستیں پاکستانی وفاق میں برسراقتدار پارٹی حاصل کر لیتی ہے، جبکہ مقامی حکومت کو گرانے،ان ہاؤس تبدیلی لانے میں ان نشستوں کا ہمیشہ کلیدی کردار رہا ہے۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں بھی عمومی طور پر وہی پارٹی کامیاب ہوتی ہے جس کو پاکستانی وفاق میں برسراقتدار پارٹی کی حمایت حاصل ہو یا اس پارٹی کی مقامی شاخ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کی مقامی شاخ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ ماضی میں پاکستانی وفاق میں برسراقتدار پارٹی کی حمایت کی وجہ سے کوئی بھی شخص ماسوائے چند حلقوں کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر لیتا تھا۔ تاہم اب یہاں بھی الیکٹیبلز کی روایت زور پکڑنا شروع ہو گئی ہے اور ممبران اسمبلی اور وزرا انتخابات سے قبل پارٹیاں تبدیل کرنے کی دوڑ میں شامل نظر آتے ہیں۔

اس خطے میں سیاسی پارٹی قائم کرنے، انتخابات میں حصہ لینے سمیت معمولی سی ملازمت کے حصول کیلئے بھی ’نظریہ الحاق پاکستان‘ (جموں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق)، پاکستان کی سالمیت، مسلح افواج، دفاعی اداروں اور دین اسلام کے خلاف بات نہ کرنے کا ’بیان حلفی‘ جمع کروانا پڑتا ہے۔ الحاق پاکستان کے نظریہ پر یقین رکھنے کی ’شق‘ کو قبول کئے بغیر انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ جموں کشمیر کی مکمل آزادی کیلئے جدوجہد کی علمبردار سیاسی جماعتیں ایک لمبے عرصے تک انتخابات میں حصہ لینے کی بجائے بائیکاٹ کرنے پر ہی زور دیتی رہی ہیں۔

اب قوم پرست تنظیمیں بھی انتخابات کے معاملے پر 2 حصوں میں تقسیم ہو چکی ہیں، کچھ پارٹیوں نے الحاق پاکستان کی شق کو ’کڑوی گولی‘ قرار دیکر انتخابات میں جانے کا اعلان کر دیا ہے اور چند حلقوں سے امیدواران بھی میدان میں اتارے گئے ہیں جبکہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے تمام دھڑے ابھی بھی الیکشن کے بائیکاٹ پر زور دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ انتخابات کے خلاف بھی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے احتجاجی تحریک اور لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔ پاکستان نواز سیاسی جماعتیں انتخابات میں بھرپور حصہ لیتی ہیں لیکن آئینی اور سیاسی اختیارات نہ ملنے پر دبے لفظوں میں احتجاج کرتے بھی دکھائی دیتی ہیں۔

اس خطے کو عملی طور پر پاکستانی وفاق کے زیر انتظام علاقوں کے طور پر ہی گردانا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وفاق کی جانب سے نافذ کردہ ’ایکٹ‘ کے ذریعے اس خطے کے نظام حکومت کو چلایا جاتا ہے۔ پارلیمانی انتخابات کا سلسلہ’ایکٹ 1974ء‘کے نفاذ کے بعد شروع ہوا تھا، جسے پاکستان کی گزشتہ حکومت کے آخری ایام میں ترمیم کے بعد ’عبوری آئین 1974ء‘ قرار دیا گیا ہے۔

عبوری آئین کے مطابق دفاع، خارجہ امور، کرنسی، مواصلات کے علاوہ اہم نوعیت کی تمام تر قانون سازی کا اختیار وزیراعظم پاکستان کو حاصل ہے۔ قانون ساز اسمبلی جن امور پر قانون سازی کر سکتی ہے اس کیلئے بھی وزیراعظم پاکستان سے مشاورت کی جانا ضروری ہے۔ یہاں تک کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کی حتمی منظوری بھی وزیراعظم پاکستان ہی بطور چیئرمین جموں کشمیر کونسل دیتے ہیں۔

انتظامی امور چلانے کیلئے حکومت پاکستان کی طرف سے ’لینٹ افسران‘ تعینات کئے جاتے ہیں۔ عملی طور پر اس خطے میں حکومت انہی لینٹ افسران کی ہوتی ہے، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری مالیات کی مرضی کے بغیر کسی بھی کیڈر کی آسامیاں تخلیق کرنے یا بجٹ مختص کرنے کا اختیار بھی مقامی حکومت کو حاصل نہیں ہوتا۔ اس طرح انتخابات کے ذریعے منتخب ہونے والی حکومتیں عملی طورپر بلدیاتی ادارے کے متبادل کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ترقیاتی بجٹ میں سے کرپشن اور لوٹ مار کے علاوہ اس خطے کے وسائل کو لوٹنے اور قیمتی جنگلات اور جڑی بوٹیوں کے کاروبار سمیت ٹھیکوں میں کمیشن کے ذریعے مال کمانے کو ہی ترجیح دی جاتی ہے۔

انتخابات سے کئی ماہ قبل ہی وفاق میں برسراقتدار پارٹی وفاقی وزیرامور کشمیر، دیگر وفاقی وزرا اور لینٹ افسران کی مدد سے اپنی من پسند حکومت قائم کرنے کیلئے راہ ہموار کر لیتی ہے۔ تاہم اس مرتبہ تحریک انصاف اس طرح سے تیاری کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات کو 2 ماہ کیلئے ملتوی کرنے کی کوشش کی گئی جس میں وفاقی حکومت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اب عجلت میں محض چند ایک ہی الیکٹیبلز کو تحریک انصاف میں شامل کروایا جا سکا ہے، اس وجہ سے تحریک انصاف کو بڑی اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیابی شاید اس طرح سے نہ مل سکے۔

ماضی کے تمام تر انتخابات کی طرح موجودہ انتخابات میں بھی دائیں و بائیں بازو کی پاکستان نواز یا قوم پرست پارٹیوں کے پاس کوئی واضح منشور اور پروگرام موجود نہیں ہے، تمام پارٹیاں اور شخصیات اس بات پر تکیہ کئے ہوئے ہیں کہ وفاق کی جانب سے جس کو حمایت ملے گی وہی کامیاب ہو گا۔ اس کیلئے منشور اور پروگرام کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ متبادل کے دعویداروں کے پاس بھی نہ تو عوامی بنیادی موجود ہیں اور نہ ہی اس خطے کے عوام کو درپیش مسائل کے حوالے سے ان کے پاس کوئی پروگرام موجود ہے۔

اس نظام کے اندر رہتے ہوئے انتخابات محض سرمائے کی آمریت کے سوا کچھ نہیں ہیں، کروڑوں روپے اخراجات کرنے کی اہلیت کے بغیر انتخابات میں حصہ لینا ہی ممکن نہیں ہے۔ نہ ہی انتخابات کے ذریعے سے منتخب ہونے والے کسی بھی طور کی فیصلہ سازی کرتے ہوئے محنت کش طبقے کے دکھوں کا مداوا کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، تعلیم، صحت، روزگار اور انفراسٹرکچر جیسے مسائل کا شکار اس خطے کے محنت کشوں کے دکھوں کا مداوا کرنے کیلئے اس نظام میں اب گنجائش ہی موجود نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی اکثریت ان انتخابات اور حکمرانوں سے بیگانہ اور مایوس نظر آتی ہے۔ ابھی تک کی تیاریوں سے نظر آرہا ہے کہ موجودہ انتخابات اس خطے کے محنت کشوں کیلئے انتہائی غیر اہم ہیں اور وہ عملی طور پر اس تمام تر سیاست سے لاتعلق نظر آتے ہیں۔ یہ صورتحال ہمیشہ برقرار نہیں رہے گی، محنت کش طبقہ بار بار ووٹ دیکر حکمرانوں کو آزماتا ہے، ووٹ نہ دیکر بھی آزماتا ہے اور تاریخ میں ایسے لمحے بھی آتے ہیں جب محنت کش عوام ہاتھوں کی بجائے پیروں سے ووٹ ڈالنے کیلئے تاریخ کے میدان میں اترتے ہیں اور حکمران طبقات کو انکے نظام کے ساتھ بہا لے جاتے ہیں۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔