اداریہ

نصاب نہیں یکساں نظام تعلیم چاہئے: مدرسے اور پرائیویٹ سکول قومی ملکیت میں لئے جائیں

اداریہ جدوجہد

ملک بھر میں اس وقت یکساں قومی نصاب کی بحث چل رہی ہے۔ اس بحث کے دوران دو باتیں کھل کر سامنے آ چکی ہیں۔

اول یہ کہ یکساں قومی نصاب کا مقصد طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ نہیں ہے۔ یکساں قومی نصاب کا دفاع کرنے میں پیش پیش، لمز کی ڈاکٹر مریم چغتائی جو مجوزہ یکساں قومی نصاب بنانے والوں میں شامل ہیں، بھی اس بات کا اعتراف کر چکی ہیں کہ اس نصاب کا مقصد طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ نہیں۔ ویسے بھی پاکستان تحریک انصاف جو ملک کے اس سرمایہ دار طبقے کی نمائندہ ہے جس نے رئیل اسٹیٹ یا اسٹاک ایکسچینج کی سٹے بازی سے سرمایہ بنایا ہے اور جس کا ووٹ بینک عمومی طور پر شہری مڈل کلاس کی وہ پرتیں ہیں جو ”میرٹ“ کا شور مچاتی ہیں، اس تحریک انصاف سے یہ توقع کرنا کہ وہ طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کرے گی، سیاسی نابینا پن کے سوا کچھ نہیں۔ ویسے بھی جب اسکولوں کی بڑی بڑی پرائیویٹ چینز (Chains) کے سربراہ اس جماعت کی قیادت میں شامل ہوں تو طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے کا نعرہ زیادہ سے زیادہ منافقت ہی کہلا سکتا ہے۔

دوم، یہ بات بھی اب بالکل واضح ہے کہ مجوزہ یکساں قومی نصاب بنیادی طور پر تعلیمی نظام کی ملائزیشن (Mullahisation) کا نام ہے۔ جو کام جنرل ضیا الحق کی آمریت ادھورا چھوڑ گئی تھی، عمران خان کی حکومت اس کام کو مکمل کرنا چاہتی ہے۔

’جدوجہد‘ کا موقف ہے کہ تعلیم اور ریاست کو سیکولر ہونا چاہئے۔ اسی طرح، تعلیم مفت، معیاری اور غیر طبقاتی بنیادوں پر فراہم کی جانی چاہئے۔

یہ درست ہے کہ ایک طبقاتی نظام کا خاتمہ کئے بغیر حقیقی معنوں میں غیر طبقاتی نظام تعلیم ممکن نہیں۔ ایک غیر طبقاتی نظام تعلیم کے لئے ہماری جدوجہد جاری رہے گی مگر محنت کش اور سفید پوش طبقے سے پچھلی چار دہائیوں میں وہ حقوق بھی چھین لئے گئے ہیں جو انہیں موجودہ گلے سڑے نظام میں حاصل تھے۔ ان میں سے ایک حق مفت تعلیم کا تھا۔ اسی طرح مدرسوں اور نجی سکولوں کو پروان چڑھا کر ریاست نے محنت کش اور سفید پوش طبقے کے نوجوانوں سے انفرادی ترقی کا ہر موقع چھین لیا ہے۔

ایک بچے سے اس سے بڑی زیادتی نہیں ہو سکتی کہ اس سے تعلیم کا حق یا تو چھین لیا جائے یا یہ کہ اس کی تعلیم کا دارومدار حادثہ پیدائش پر ہو۔

اس لئے ہمارا مطالبہ ہے:

٭ تمام مدرسوں اور نجی سکولوں کو قومی ملکیت میں لے کر تین سطحی نظام تعلیم کا خاتمہ کیا جائے اور لازمی تعلیم کو یقینی بنایا جائے۔

٭ تمام سکولوں میں ایک جیسا معیار یقینی بنانے کے لئے تعلیمی بجٹ کے لئے کم از کم وفاقی اور صوبائی بجٹ کا دس فیصد صرف کیا جائے۔

٭ ہر سکول میں بچوں کو معیاری ناشتہ، کھانا، صحت اور کھیل کی سہولت فراہم کی جائے۔

٭ ہر سکول جانے والے بچے کو کم از کم ایک ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیا جائے۔

٭ جو والدین اپنے بچوں کو مذہبی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں، وہ سکول اوقات کے بعد اس کا بندوبست کریں جیسا کہ ماضی میں ہوتا تھا یا اب بھی کیا جاتا ہے۔

مندرجہ بالا بنیادی اقدامات کے بغیر ایک جدید، جمہوری، انسان دوست اور خوش حال معاشرے کی تعمیر ممکن نہیں۔ مندرجہ بالا اقدامات کئی ملکوں میں کئے جا چکے ہیں۔ تیسری دنیا کے ممالک میں بھی ایسے اقدامات کئے گئے ہیں لہٰذا یہ قابل عمل ہیں۔ انہیں یوٹوپیا کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔