اداریہ

توہین مذہب کے نام پر تشدد کیوں بڑھ رہا ہے؟ محنت کش طبقہ کیسے متاثر ہوتا ہے؟

اداریہ جدوجہد

تین دن قبل لاہور میں ایک سکیورٹی گارڈ نے اپنے ایک ساتھی کو سوتے ہوئے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ مقتول حافظ قرآن تھا اور قاتل کی نظر میں توہین مذہب کا مرتکب۔ یہ ایک ماہ کے دوران توہین مذہب کے نام پر دوسرا ماورائے عدالت قتل ہے۔ لگ بھگ ایک ماہ قبل، پشاور کی عدالت میں توہین مذہب کے ایک ملزم کو ایک ایسے نوجوان نے گولی مار کر ہلاک کر دیا جس کی عمر بھی ابھی شائد اٹھارہ سال سے کم ہو۔

قتل کے ان دو واقعات کے دوران توہین مذہب کے نام پر ہی دو اور واقعات کا شور و غوغا رہا۔

پہلے لاہور کی مسجد وزیر خان میں معروف اداکارہ صبا قمر اور اداکار بلال سعید کی ویڈیو شوٹنگ کی وجہ سے ان پر توہین مذہب کا الزام لگایا گیا۔ ان پر مقدمہ بھی درج ہو چکا ہے۔

دوسرے واقعہ کی گونج سوشل میڈیا پر زیادہ سنائی دی: معروف سیاسی کارکن ماروی سرمد نے ایک ٹویٹ کیا جس پر انہیں توہین مذہب کے الزام کا سامنا ہے۔

مندرجہ بالا واقعات سے قبل ہم جون کے مہینے میں سندھ کے دو معروف دانشوروں اور اکیڈیمکس: عرفانہ ملاح اور پروفیسر ساجد سومرو کے خلاف توہین مذہب کی کمپئین بھی دیکھ چکے ہیں۔ پروفیسر سومرو کی گرفتاری ہوئی جبکہ ڈاکٹر عرفانہ ملاح کو سر عام معافی مانگنی پڑی۔

یہ واقعات بڑھتے کیوں جا رہے ہیں؟

عمومی طور پر ضیا آمریت کو مورد الزام ٹہرا کر بات ختم کر دی جاتی ہے۔ یہ تشریح ایسی غلط بھی نہیں۔ بلاشبہ یہ ضیا آمریت کا نظریاتی تسلسل ہے کہ معاشرے میں اس قدر فرقہ واریت، عدم برداشت اور تشدد پایا جاتا ہے۔ مگر توہین مذہب کے نام پر تشدد کیوں بڑھ رہا ہے؟ آخر دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد پر بھی تو کافی حد تک ریاست قابو پانے میں کامیاب ہو گئی ہے (گو فرقہ واریت کی سوچ اپنی جگہ موجود ہے اور دہشت گردی کے لئے معروضی حالات بھی موجود ہیں)؟

مندرجہ بالا سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے اورکسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے قبل تحقیق اور مباحثے کی ضرورت ہے البتہ مندرجہ ذیل خطوط پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے:

۱۔ ریاست اور حکمران طبقہ بوقت ِضرورت اور حسبِ ضرورت خود توہین مذہب کا کارڈ استعمال کرتے آئے ہیں۔ پچھلے چند سالوں کا ہی جائزہ لیجئے۔ گورنر سلمان تاثیر سے مسلم لیگ نواز خاصی تنگ تھی۔ جب گورنر تاثیر اپنے ہی محافظ کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تو ہم نے دیکھا کہ آرمی چیف اور صدر زرداری سے لے کر وزیر اعلیٰ شہباز شریف تک، کوئی بھی جنازے پر موجود نہیں تھا۔ مذہب کے سوال پر پیپلز پارٹی نے روایتی موقع پرستی کا مظاہرہ کیا اور مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی مخالف قوتوں نے صورت حال کا فائدہ اٹھایا۔

بعد ازاں، توہین مذہب کا کارڈ نواز شریف کی حکومت کو کمزور کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ تحریک لبیک سے دھرنا کرایا گیا (جس کی ایک ویڈیو میں ہم نے دیکھا کہ ایک فوجی افسر دھرنے میں شرکت کرنے والوں میں پیسے بانٹ رہا ہے)۔ ایک وزیر کو استعفیٰ دینا پڑا۔ ایک اور وزیر (احسن اقبال) پر دوران انتخابی مہم گولی چلائی گئی۔

جواب میں مسلم لیگ نواز نے بھی یہی کارڈ کھیلا۔ غالباً اس کا ایک اظہار موجودہ فوجی سربراہ کے بارے میں یہ افواہ تھی کہ وہ احمدی ہیں۔ ایک واضح اور افسوسناک ثبوت یہ تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر نے قومی اسمبلی کے فلور پر اپنی تقاریر میں اس کارڈ کو خوب استعمال کیا۔ مسلم لیگ چونکہ اسٹیبلشمنٹ سے کمزور تھی، لہٰذا اس خطر ناک کھیل میں ہار گئی۔

۲۔ تحریک لبیک نے (گاہے بگاہے ریاستی سرپرستی میں) توہین مذہب کے کارڈ کو ایک ہتھیار بنا لیا ہے۔ گورنر تاثیر کے بعد جس طرح ان کے قاتل ممتاز قادری کو ہیروآئز کیا گیا اور جو انتخابی نتائج اس جماعت نے دو سال قبل حاصل کئے اس کا نتیجہ ہے کہ ایک ماہ قبل پشاور میں ’غازی خالد‘ کو سیاسی طور پر کیش کرانے کے لئے جمعیت علمائے اسلام نے بہت بڑا جلوس نکالا۔ اگر ممتاز قادری کی مجاور تحریک لبیک بن گئی تھی تو اس بار جمعیت علمائے اسلام موقع کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔

یاد رہے یہ دوسرا نقطہ پہلے نقطے سے جڑا ہوا ہے۔

۳۔ ریاست چالیس سال سے جہادی تیار کر رہی ہے، انہیں پال رہی ہے، انہیں نجات دہندہ بنا کر پیش کر تی آ رہی ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ جو خود کش حملہ آور بیرونی محاذوں کے لئے تیار کئے گئے تھے، انہیں اب بیرونی محاذوں پر بھیجنا ممکن نہیں رہا۔ ایک کے بعد ایک بیرونی محاذ بند ہوتا چلا جا رہا ہے۔

اندریں حالات جنت کے متلاشی یہ جہادی…جنہیں مولانا طارق جمیل جیسے ’پر امن‘ مبلغین دن رات یہی سمجھاتے رہتے ہیں کہ سکون تو قبر میں ہے…اب اپنے ارد گرد کافروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ انہیں اب صرف ’اندرونی محاذ‘ ہی دستیاب ہے۔ نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف غصہ نکالا جا رہا ہے۔ مذہبی اقلیتیں اس قدر کم رہ گئی ہیں اور اس قدر دبک گئی ہیں کہ ’اندرونی جہاد‘ کے لئے سب کو موقع نہیں ملتا۔ اس لئے اب اکثریت کے کسی رکن پر توہین مذہب کا الزام لگا کر ’شوق جہاد‘ کی تسکین ہو رہی ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ توہین مذہب کے نام پر جن کوماورائے عدالت ہلاک کیا گیا، ان کی اکثریت مسلمان ہے۔ یا د رہے، اقلیتوں کے خلاف بنائے جانے والے قوانین کا اصل نشانہ اکثریت ہوتی ہے، اقلیت بہانہ ہوتی ہے (گو اقلیت کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے)۔

محنت کش طبقہ اس صورت حال سے کیسے متاثر ہوتا ہے؟

لاہور کے واقعے کی مثال ہی لے لیجئے۔ قاتل اور مقتول دونوں سکیورٹی گارڈ تھے۔ اس شعبے کے لوگ انتہائی کم تنخواہ پر کام کرتے ہیں اور ان کے اوقات ِکار شرمناک حد تک غیر انسانی ہیں۔ عام طور پر ان گارڈز کی تنخواہ پندرہ ہزار روپے تک ہوتی ہے جبکہ ساری ساری رات جاگ کر کام سر انجام دینا ہوتا ہے۔ دن کی ڈیوٹی بھی دیں تو اوقات کار بارہ بارہ گھنٹے سے کم نہیں ہوتے۔ گرمی ہے تو دھوپ میں کھڑے ہیں۔ سردی ہے تو نامناسب کپڑوں میں کھڑے انتہائی مشکل کام سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ ڈاکو آ جائے یا خود کش حملہ آور تو انکی جان پہلا نشانہ ہوتی ہے۔ عموماً نہ انشورنس ہوتی ہے نہ سوشل سکیورٹی اور پنشن۔ ٹریڈ یونین ہے نہیں۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ قاتل اور مقتول مل کر یونین بناتے اور اپنے معاشی حقوق یا اوقات کار میں بہتری کے لئے جدوجہد کرتے۔ اگر کوئی ٹریڈ یونین ہوتی تو ان کے حقوق بھی ملتے اور یونین ان کی نظریاتی تربیت بھی کرتی۔ ان کو بتاتی کہ ’مزدور مزدور بھائی بھائی‘ اور’ایک کا دکھ سب کا دکھ‘۔ جو سانحہ تین دن پہلے ہوا، نہ ہوا ہوتا۔ اب ایک خاندان اپنے نوجوان کی قبر پر عمر بھر پھول چڑھائے گا۔ دوسرا عدالت، کچہری، تھانے اور جیل کے چکر کاٹ کاٹ کر اور بھی مسائل کا شکار ہو جائے گا۔

یقین کیجئے حکمران طبقہ یہی چاہتا ہے کہ مزدور فرقوں، قومیتوں، ذاتوں اور اس طرح کے مسائل پر آپس میں لڑتے رہیں۔

نوجوانوں، طالب علموں اور محنت کش طبقے کے لئے سوچنے کا مقام ہے!