خبریں/تبصرے

امریکی تاریخ کا سب سے مہنگا الیکشن، لاگت 14 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی

لاہور (جدوجہد رپورٹ) 2020ء کے امریکی انتخابات کی کل لاگت غیر معمولی طور پر 14 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ جس کے بعد موجودہ الیکشن امریکی تاریخ کا سب سے مہنگا اور گزشتہ صدارتی الیکشن سے دوگنا مہنگاالیکشن ثابت ہواہے۔

مرکز برائے رسپونسیو پولیٹکس کے مطابق موجودہ انتخابات کے مجموعی اخراجات 11 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان تھا لیکن آخری مہینوں میں سیاسی امداد کی غیر معمولی آمد، سپریم کورٹ میں چلنے والی لڑائی، وائٹ ہاؤس اور سینیٹ کیلئے کانٹے کے مقابلے ممکنہ اخراجات سے کہیں زیادہ کا موجب بنے۔

ٹیلی سور کی رپورٹ کے مطابق اخراجات کا زیادہ تر حصہ اشتہارات سے منسلک ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن انتخابی مہم کیلئے جمع کی جانیوالی رقم میں سب سے آگے ہیں۔

فیڈرل الیکشن کمیشن کے مطابق جو بائیڈن نے جھولی فنڈ کے ذریعے ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ رقم حاصل کی۔ مفاداتاتی گروپوں اور کاروباری افراد کی طرف سے دیئے گئے فنڈز اس کے علاوہ ہیں۔ جبکہ صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم میں اپنی طرف سے چھ سو ملین ڈالر استعمال کئے۔

پولیٹیکل ایکشن گروپس اور دوسرے بڑے گروپوں نے الیکشن مہم پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر خرچ کئے۔ خرچ کی جانیوالی اس رقم کا زیادہ تر حصہ بائیڈن کی الیکشن مہم کا فروغ دینے پر صرف ہوا۔

ڈیموکریٹس کی فنڈ ریزنگ مہم میں خواتین کی ایک بڑی تعداد نے بھی حصہ لیا۔ پندرہ لاکھ سے زیادہ خواتین نے وفاقی کمیٹیوں میں چندہ دیا۔ جو تمام تر ڈونرز کا 44 فیصد حصہ ہے۔ موجودہ انتخابات میں خواتین نے صرف اکتوبر کے وسط کے دوران 2.5 ارب ڈالر کا چندہ فراہم کیا۔ جبکہ 2016ء کے پورے انتخابات میں 1.3 ارب ڈالر چندہ دیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق دونوں جماعتوں نے چھوٹے عطیہ دہنگان سے بھی پہلے سے کہیں زیادہ فنڈز حاصل کئے۔ ڈیموکریٹس اس چندہ مہم میں ایک بڑے مارجن سے آگے رہے اور ری پبلکن کو ملنے والے ایک ارب ڈالر کی مقابلے میں ڈیموکریٹس نے 1.7 ارب ڈالر کا چندہ جمع کیا۔