خبریں/تبصرے

گلگت بلتستان: حکومت پی ٹی آئی کی ہی بنے گی

راولا کوٹ (نامہ نگار) پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے علاقے گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ وفاق میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف 10 نشستیں لیکن الیکشن جیتنے میں کامیاب ہو گئی ہے، 7 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، پیپلز پارٹی 3، مسلم لیگ ن 2 اور مجلس وحدت المسلمین ایک نشست حاصل کر سکی ہے۔

مجموعی طور پر چوبیس نشستیں میں سے تیئس نشستوں پر انتخاب ہوا ہے۔ ایک نشست پر حکمران جماعت تحریک انصاف کے امیدوار اسمبلی کی موت کی وجہ سے انتخاب ملتوی کر دیاگیا تھا، جہاں اب انتخاب بائیس نومبر کو منعقد ہو گا۔ گلگت بلتستان اسمبلی کی کل 33 نشستیں ہیں، جن میں سے 24 پر براہ راست انتخاب ہوتا ہے، جبکہ 6 خواتین کیلئے مخصوص نشستیں ہوتی ہیں اور 3 نشستیں ٹیکنوکریٹس کیلئے مختص ہوتی ہیں۔ مجموعی طور پر حکومت سازی کیلئے 17 نشستیں حاصل کرنا ضروری ہوتاہے۔

15 نومبر کو ہونے والے الیکشن میں کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائی ہے۔ تاہم تحریک انصاف کیلئے حکومت سازی کے روشن امکانات موجود ہیں۔ سات آزاد امیدواروں میں سے چھ امیدواروں سے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مذہبی جماعت مجلس وحدت المسلمین بھی تحریک انصاف کی اتحادی جماعت کے طور پر مجبور ہے، جس کی ایک نشست حکومت سازی میں شمار کی جائیگی۔

اس طرح واضح اکثریت حاصل نہ کر پانے والی تحریک انصاف دو تہائی اکثریت والی حکومت قائم کرنے میں بھی کامیاب ہو سکتی ہے۔ پیپلزپارٹی اپنی مزید ایک نشست سے محروم ہو سکتی ہے، جس کے بعد اپوزیشن محض پانچ نشستوں پرمبنی ہی رہ سکتی ہے اور ٹیکنوکریٹ اور خواتین کی مخصوص نشستوں پر بھی اپوزیشن اپنے امیدواران کو کامیاب کروانے میں شاید کامیاب نہ ہو پائے۔

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دھاندلی، جعل سازی اور حکومتی مداخلت کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے کارکنان نے مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ رات گئے تک حلقہ جی بی اے 2 گلگت سے پیپلزپارٹی کے امیدوار 6694 ووٹ لیکر کامیاب قرار دیئے جا رہے تھے جبکہ انکے مد مقابل امیدوار 6096 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر تھے، 16 نومبر کو دھاندلی کے ذریعے حکومتی جماعت پی ٹی آئی کے امیدوار کو دو ووٹ سے کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ن اور جے یو آئی سمیت دیگر چند جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی دھاندلی کے الزامات عائد کئے ہیں۔

گلگت بلتستان سمیت وفاق کے زیر انتظام دیگر علاقوں بالخصوص پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں عموماً وہی جماعت کامیابی حاصل کرتی ہے جس کی حکومت وفاق میں موجود ہوتی ہے۔ ماسوائے چند کے ایک ہی چہرے ہوتے ہیں جو ہر اسمبلی میں اپوزیشن یا حکومتی بنچوں پر بیٹھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر تجزیہ نگار پہلے سے ہی پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی کیلئے پر امید نظر آتے تھے۔

پاکستان کی حکمران جماعت تحریک انصاف کو گلگت بلتستان کے گزشتہ الیکشن میں صرف ایک نشست مل سکی تھی جبکہ 2009ء کے انتخابات میں تحریک انصاف کا گلگت بلتستان میں کوئی وجود ہی موجود نہیں تھا۔ اسی طرح اگر ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو 2009ء میں مسلم لیگ ن محض دو نشستیں لینے میں کامیاب ہو سکی تھی، لیکن 2015ء کے انتخابات میں مسلم لیگ ن نے براہ راست انتخاب میں 16 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ 2009ء کے انتخابات میں چوبیس میں سے بیس نشستوں پر کامیابی حاصل کرنیوالی پاکستان پیپلزپارٹی 2015ء میں ایک نشست تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔