فن و ثقافت

داخلی استعمار اور سرائیکی شاعری کے احتجاجی استعارے

قیصرعباس

امید تو یہی تھی کہ آزادی کاسورج طلوع ہونے کے بعد برصغیر کی نئی ریاستوں میں ایک نیا دورجنم لے گا اور سامراجی عہد کے تمام نقوش تاریخ کا حصہ بن جائیں گے مگر ایسا ہوا نہیں۔ بٹوارے کے ستر سال بعد بھی لگ بھگ سب جنوب ایشیائی ریاستوں میں حکمران خودکو آقا اور عوام کو غلام سمجھتے ہیں اور خطے میں آج بھی سامراجی اور نوآبادیاتی نظام پوری طرح مسلط ہے۔

پاکستان سمیت برصغیر کے بیشتر ملکوں میں ایک ایسا سیاسی، قانونی، عدالتی اور انتظامی ڈھانچہ موجود ہے جسے  داخلی استعمار بھی کہاجاسکتاہے۔ یہاں داخلی استعمار کا نظام سماجی اور معاشی طورپرچھوٹے صوبوں اوراقلیتوں کو کمزور رکھنے میں سرگرم ہے لیکن جب استحصال بڑھتاہے تو اس کے خلاف احتجاج کی شدت بھی بڑھ کر مزاحمتی تحریک کی شکل اختیار کرجاتی ہے۔ جنوبی پنجاب کے سرائیکی علاقوں میں گزشتہ کچھ عشروں سے یہ احتجاج سیاسی اور ثقافتی محاذوں پر بہت واضح نظر آرہاہے جو نہ صرف سرائیکی صوبے کی تحریک بن کرابھرا ہے بلکہ سرائیکی شاعری میں بھی اس کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔

ایک قدیم ثقافت کاحصہ ہونے کی حیثیت سے سرائیکی زبان کاایک معتبر ادبی اور تاریخی ورثہ موجودہے اور علاقے کے باسی اسے شمالی پنجاب سے ایک الگ ثقافتی پہچان سمجھتے ہیں۔

آزادی کے بعد سرائیکی زبان و ثقافت کا استحصال مختلف سطحوں پر کیا گیا۔ پہلے تو یہ کہ سرائیکی زبان کو پنپنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا اور اس کی نشونما پر وہ توجہ نہیں دی گئی جو دوسری زبانوں کو دی گئی۔ اس کے علاوہ قومی سطح پر اردو اور انگریزی کے بعد دیگر صوبائی زبانوں کے مقابلے میںاسے تیسرے درجے کی زبان قراردیاگیا۔ایک اور سطح پرسرائیکی تہذیب کو اس کے اپنے جاگیرداروں اورطاقتور پیروں کی گرفت نے بھی ابھرنے نہیں دیا اور ان لوگوں نے ہمیشہ طاقتور مرکز کی تابعداری کی۔

ان پالیسیوں کے ردعمل کے طور پرگزشتہ چند عشروں سے سرائیکی صوبے کی تحریک زور پکڑگئی ہے اور کئی ادوار سے گزرکر یہ تحریک اب سرائیکی صوبے کے قیام کی منزل سے قریب تر آچکی ہے۔ پنجاب اور ملکی سطح پر اب اس مطالبے کو تسلیم تو کیا جاچکاہے لیکن سیاسی شعبدہ بازی میں ماہر اشرافیہ اور نوکرشاہی ابھی تک گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ سرائیکی صوبے کو آئین کا حصہ بنانے کے لئے قانون پارلیمان میں پیش نہیں کیا جاسکا حالانکہ پنجاب اسمبلی میں سرائیکی صوبے کی قرارداد منظور ہوئے بھی ایک عرصہ ہوچکاہے۔

اس تحریک کا اثراب سیاسی تحریک سے ادبی سرگرمیوں تک آچکاہے جہاں نثر اور نظم دونوں میدانوں میں صوبائی اور ریاستی استحصال کا دکھ احتجاج کے مختلف استعاروں کی شکل میں نمایاں ہے۔ سرائیکی تحریک کے رہنما مرحوم تاج محمد لنگاہ کی صاحبزادی نخبہ لنگاہ کے مطابق ”سرائیکی زبان کی نوے فیصد شاعری مزاحمتی شاعری ہے ۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس خطے کے باسی جو گزشتہ پانچ ہزارسال سے غلامی کی زندگی بسر کررہے ہیں نہ صرف شاعری بلکہ نثرمیں بھی حکمرانوں کے جبر اور اپنی بے بسی کا اظہار کرتے آرہے ہیں۔“ (دی نیوز، 2015ء)
اس مقالے میں چا ر سرائیکی شعرا (سائیں عاشق بزدار، عابد عمیق، محسن نقوی اور محمد ایوب) کے کلام کا تجزیہ شامل ہے جو اپنی شاعری کے مخصوص رنگوں کو نکھارتے ہوئے اپنی دھرتی کے دکھ دردسمیٹ کر ایک یکساں تصورمیںبھی بندھے نظر آتے ہیں۔

اس ادبی اور سیاسی پس منظر میں وہ شعرا جو سرائیکی صوبے کی تحریک سے کسی نہ کسی حوالے سے وابستہ ہیں عوام الناس میں بہت مقبول ہیں۔ ان میں سائیں عاشق بزدار کانام سرفہرست ہے جوخود بھی تحریک کا حصہ ہیں۔ ان کی مقبول عام نظم ”اساں قیدی تخت لہوردے“ (ہم تخت لاہور کے قیدی)نے پنجاب کے صدرمقام لاہورکو ایک استحصالی نظام کا جانا پہچانا استعارہ بنا دیا ہے۔ نظم میں دھرتی سے محبت اور اس سے ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف احتجاج ایک ہی تصویر کے دورخ دکھائی دے رہے ہیں۔

ہم بیٹے دیس سرائیکی کے
یہ دھرتی ماں لکھ پال
دھرتی پر سندھ کی لہریں
اور پانی دودھ کی دھار
ہے روحی روح ہماری
ہرکوہ ہے کوہِ طور
ان ٹیلوں، صحرا ، جنگل پر
لاکھوں شہر نثار

نظم کے آخری حصے میں وطن کی محبت کا یہی گیت دھرتی ماں پر ہونے والے امتیازی سلوک کے خلاف بھرپور احتجاج کا استعارہ بن جاتاہے۔

پر آج یہ ماں پرنم ہے
ہررگ میں سو سو تیر
سب اترے زیور ، چھلےّ
سب ٹوٹے کنگھن ،ہار
ہر دل میں دکھ کے ڈیرے
ہر لب پرجبر کے تالے
سرہے پنجاب کی ٹھوکر میں
درّوں کے زخم ہزار
ہیں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں
اورآنکھوں میں ہیں نیِر
ہم قیدی تخت لاہورکے
ہم قیدی تخت لاہورکے

عاشق بزدار کی شاعری اپنی مٹی سے بے لوث محبت کا اظہار اور دوسری جانب لگی لپٹی رکھے بغیر باغیانہ انداز میں حکمرانوں کے استحصالی رویّوں کو چیلنج کرتی ہے لیکن اس مقصد کے حصول کے لئے وہ شاعری کو اپنے سیاسی پیغام کاذریعہ ہی نہیں بناتے بلکہ اس کے شاعرانہ حسن، جمالیاتی پرتواور علاقائی لب ولہجے کوبھی قائم رکھتے ہیں۔

عاشق بزدار

عابد عمیق سرائیکی شاعر کی حیثیت سے ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انگریزی کے استاد ہیں اور جنرل ضیا الحق کے آمرانہ دور میں جبر کے خلاف آوازِحق بلند کرنے کی پاداش میں اسیر بھی رہ چکے ہیں۔ محموداعوان کے بقول”عمیق اپنی شاعری میں ایک عام فہم مکالمے کے ذریعے جس خوبصورتی کے ساتھ اپنا مقصد بیان کرتے ہیں وہ صرف انہی کا خاصا ہے۔“ (دی نیوز، 2014ء)

اس نظم میں عمیق مادر وطن سے ہونے والی ناانصافیوں پر اظہار رنج تو کرتے ہیں لیکن براہ راست احتجاج کے بجائے ایک طنزیہ کاٹ کے ساتھ ۔

خشک ہیں ہمارے پانیوں کے
تمام سوتے
تباہی کی تصویر ہیں
ہمارے سب مال واسباب
آو¿! تصویرکشی کرو
اور لکھو کہ روحی
جنت نظیرہے؟
دکھاو کہ
ہمارے گلی کوچے
سرکس میں تبدیل ہوچکے ہیں۔

عمیق کا شاعرانہ تخیل ان کی زبان پر پوری دسترس اور خیال کااچھوتا پن ہے جسے وہ سادہ اور عام فہم انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ان کی شاعری طنزیہ لہجے کے چبھتے ہوئے نشتر اس طرح چلاتی ہے کہ اس خطے کا دکھ اور بھی گہرا ہوکرذہن میںایک ا نمٹ نقش چھوڑجاتاہے۔

سرائیکی کے ایک اور شاعر محسن نقوی اردو کے بھی مقبول شاعرتھے جو اپنے غزلیہ مزاج اور پراثر انداز سخن کے لئے مشہورتھے۔ ان کی سرائیکی شاعری بھی اپنے اطراف پھیلے ہوئے اندھیروں کے خلاف ایک مسلسل احتجاجی استعارہ ہے۔ ان کے کلام میں اکثر خوف کے ختم نہ ہونے والے سائے اور کسی ان دیکھے المیے کے اشارے بھی ملتے ہیں جیسے وہ اپنے اردگرد کی خاموشیوں میںتاریکیوں کے لامتناہی حصار کا عندیہ دے رہے ہوں۔ شاید انہیں معلوم تھاکہ ایک دن وہ خود بھی اسی مذہبی جنون کی بھینٹ چڑھ جائیں گے اور ہوا بھی یہی۔

رہزن میرے گھر کی چھت میں
سوراخ کررہے ہیں
میرے مکان کی بنیادیں
حروف کے خنجر پہ بیٹھی
دودھ کی طرح سفید فاختہ سے
پوچھتی ہیں
بتاو کہ اب کیا ہونے والا ہے؟

محسن کے یہاں زندگی کاکرب اور اس کے رنج والم اس شدت سے موجود ہیں کہ قاری ان کا ا ثر محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ان کی اردو اور سرائیکی شاعری ان کے انفرادی درد کی داستانیں سناتی ہے جو قاری کا درد بن کر اس کی بھی ہمراز بن جاتی ہے۔

ان جانے پہچانے شعرا کے علاوہ کچھ نئے چہرے بھی جدید سرائیکی شاعری کی پہچان بن رہے ہیں ۔ محمد ایوب ایک نوجوان شاعر ہیں جو اب کینیڈا میں مقیم ہیں اور سرائیکی شاعری کے مجموعوںکے خالق بھی ہیں۔ ان کی خوبصورت نظم ”نذیر عباسی کے لئے“ اس شہید کا مرثیہ سنارہی ہے جو آمریت کے ہاتھوں تختہ دارکی بھینٹ چڑھ گیا۔

دار و رسن!
ذراخیال رکھنا
کہ ہمارے یہ سپوت
نازونعم کے پالے ہوئے ہیں!
جنہوں نے کبھی
دکھوں کی رات نہیں دیکھی
مگر پھربھی
جب دنیا ابھرتے ہوئے سورج
کے آگے سرجھکائے کھڑی تھی
وہ اپنے ہاتھوں کی چھاو¿ں لئے
جبر کے خلاف
سینہ تانے کھڑے تھے
دارو رسن
خیال رکھنا!

ایوب اپنے کلام میں تخیل کے جس اوج کمال تک پہنچے ہیں اسے اپنی تہذیبی روایات تک رسائی اورشاعرانہ باریکیوں کے ادراک کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتاہے۔دیار غیر میں رہتے ہوئے وہ اکثر پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں اور ایک بے یقینی کی کیفیت میں واپس ہوتے ہیں کہ جہاں ان کی زندگی کے اوّلین ایام گزرے شاید یہ وہ جگہ نہیں۔ دھرتی سے دوری کے دکھ، جبر کے سائے اور حکمرانوں کے استحصالی رویے ان کی شاعری کے لازوال استعارے ہیں۔

ان چاروں شعرا نے الگ الگ احتجاجی روّیوں کو اس انداز میں برتاہے کہ وہ ایک ہی زنجیر میں بندھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ عاشق بزدار کے یہاں احتجاج کھل کر مزاحمتی رنگ اختیار کرلیتاہے جہاں وہ ارباب اختیار سے براہ راست مخاطب ہوکر اپنی سرزمین اور اس کے باسیوں سے ہونے والے امتیازی سلوک پر نالاں ہیں۔ احتجاج کایہی رویہ جب عابد عمیق کی نظم کا حصہ بنتاہے تو ایک چبھتے ہوئے لہجے کی کاٹ بن کر احتجاجی استعارہ بن جاتا ہے۔

محسن نقوی کا احتجاج اگرچہ سیاسی رنگ کا مکمل پرتو تو نہیں ہے مگر ان کی ذات کے اردگرد پھیلے ہوئے دکھوں کو اپنی شاعری کا حوالہ بنا دیتاہے جو دراصل سرائیکی سماج ہی کے مشترکہ کرب کی نمائندگی کررہاہے۔

محمد ایوب اپنے کلام کے ذریعے وطن سے دور بیٹھ کراس کی حالتِ زار پر آنسو تو نہیں بہاتے لیکن اسے بھلابھی نہیں سکتے۔ ان کی جدید نظم بھی اپنے ہم عصرشعرا کی طرح کبھی سماجی تضادات افشا کرکے اور کبھی پیچھے رہ جانے والے ہم زبانوں پر گزرنے والے ستم کا نوحہ بن کر اپنے سماج کا احتجاجی استعارہ بن جاتی ہے۔

آزادی کے بعد اربابِ اقتدار اس خام خیالی کے ساتھ کمزور علاقوں کی ثقافتی خودمختاری کو سلب کرتے رہے کہ ریاست کو ایک زبان اور ایک مذہب کی بنیاد پر متحد رکھ سکیں گے لیکن گزشتہ ستر سال میں یہی حکمت عملیاںداخلی استعمار کی ایسی صورت اختیار کرگئیں جہاں انگریزی دور کے استحصالی نظام اور آج کے جبرمیں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ ان ہی حکمت عملیوں کانتیجہ نہ صرف ملک کو دو ٹکڑوں کی تقسیم میں نکلا بلکہ پس ماندہ طبقوں اور اقلیتوں میں سماجی اور معاشی عدم مساوات کے خلاف مزاحمت بھی بڑھتی گئی۔ آج کی سرائیکی شاعری بھی ان ہی سماجی تضادات کے ان گنت استعاروں کا عکس پیش کرتی ہے۔

طاہر تونسوی نے کہا تھا کہ مجموعی طورپر سرائیکی شاعری میں بے شمار مزاحمتی پہلو پائے جاتے ہیں جن میں لسانی استحصال، اقتصادی نا انصافی، خطے کے قدرتی ذرائع اور زمین کا ناجائز استعمال، ریاستی استبداد، سیاسی منافقت اور جاگیردارانہ جبرشامل ہیں۔ (طاہر تونسوی، 1995ء)

آج کی سرائیکی شاعری بھی اپنے بکھرتے ہوئے ثقافتی ورثے کی تلاش اور اس کے تحفظ کی تگ ودو میں سرگرداں ہے لیکن سیاسی جدوجہد اور ثقافتی و سیاسی محاذوں تک پھیلا ہوا یہی احتجاج اب اس مقام تک آپہنچاہے جہاں سرائیکی صوبے کی منزل اب پہلے سے کچھ ا ور قریب نظرآرہی ہے۔

کتابیات

عابد عمیق، (مجموعہ کلام) تل وطنی، سچت گھر، شرکت پریس، لاہور۔
افتخارعارف اور خوا جہ وقاص ، 2001ء، پاکستان کی جدید شاعری ، ڈالکی پریس، لندن۔
طاہر تونسوی، 1995ء، سرائیکی اچ مزاحمتی شاعری، سرائیکی لٹریری بورڈ، ملتان۔
نخبہ تاج لنگاہ، 2012ء، شاعری اور مزاحمت: پاکستان میں ٓزادی کے بعد اسلام اور نسلی بیانیہ، رٹلج، نئی دہلی۔
محمدایوب اعوان، 1994ء، (مجموعہ کلام) کیڑی دا آٹا، سچت گھر، لاہور۔
عاشق بزدار، 1986ء، قیدی تخت لہوردے، (مجموعہ کلام) سرائیکی لوک سانجھ، ضلع راجن پور۔
دی نیوز، 2015ء، مزاحمتی ادب۔
دی نیوز، 2014 ء، آزادی کا ایک استعارہ۔

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔