خبریں/تبصرے

اسرائیل سے جلد تعلقات قائم کرنیوالے ممالک میں پاکستان شامل نہیں

لاہور (جدوجہد رپورٹ) اسرائیل نے پاکستان کے ساتھ تعلقات قائم ہونے کا امکان رد کر دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی رخصت سے قبل خلیج کے ایک ملک اور مشرق کے ایک بڑے مسلم ملک کے ساتھ تعلقات قائم کئے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ ممالک پاکستان اور سعودی عرب نہیں ہونگے۔

اسرائیلی وزیر کا کہنا ہے کہ مزید ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لئے کھڑے ہیں لیکن ان میں پاکستان شامل نہیں ہے۔ حالیہ مہینوں میں ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش کے تعلقات قائم کروانے میں اہم کردار ادا کیا جس کے بعد ان ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لئے ہیں۔

اسرائیل کے علاقائی تعاون کے وزیر آفیرا کونیس نے بدھ کے روز ایک نجی ٹی وی کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اگلے ماہ وائٹ ہاؤس سے رخصت ہونے سے قبل اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کیلئے مزید دو ممالک صف میں شامل ہیں۔ انہوں نے ان ممالک کا نام نہیں لیا۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ ایک ملک خلیج میں ہے لیکن سعودی عرب نہیں ہے۔ انکا کہنا تھا کہ دوسرا ملک مشرق کی سمت میں بڑا مسلم ملک ہے جو تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے لیکن وہ پاکستان نہیں ہے۔

رواں ہفتے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمد قریشی نے کہا تھا کہ جب تک اسرائیل اور فلسطین تنازعہ حل نہیں ہوتا تب تک اسلام آباد اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا۔ پاکستان نے اسرائیلی میڈیا میں چلنے والی اندرون خانہ تعلقات سے متعلق خبروں کی تردیدی کر رکھی ہے۔

اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور خلیجی ریاستوں کے مبینہ باؤ سے متعلق اطلاعات کے حوالے سے بھی وزیر خارجہ شاہ محمد قریشی نے متحدہ عرب امارات کے ہم منصب کو فلسطین اور کشمیر کے بارے میں پاکستانیوں کے جذبات اور احساسات کی وضاحت کی تھی۔

دریں اثنا سب سے زیادہ آبادی والے مسلمان ملک انڈونیشیا نے بھی گزشتہ ہفتے وضاحت کی تھی کہ وہ فلسطینی ریاست کے مطالبے کی منظوری تک اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں کرے گا، ملائشیا کی پالیسی بھی ایسی ہی ہے۔

بنگلہ دیشی وزارت خارجہ نے بھی وضاحت کی ہے کہ بنگلہ دیش اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے۔ تاہم عمان نے امریکی ایما پر چلنے والی اس سفارتی مہم کی تعریف کی ہے لیکن انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔