فن و ثقافت

مارکس از منٹو

سعادت حسن منٹو
 
آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہونے کے بعد سعادت حسن منٹو نے ریڈیائی ڈرامے لکھے جو کافی مقبول ہوئے۔ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ ڈرامہ نویسی کی یہ صنف منٹو کو خود بھی بہت پسند آئی۔ شائد اسی لئے منٹو نے اپنے روایتی انداز میں اعلان کیا کہ اگر کسی نے یہ سیکھنا ہو کہ ریڈیائی ڈرامے کیسے لکھے جاتے ہیں تو اسے میرے ڈرامے پڑھنے چاہئیں۔
 
اردو کے اس عظیم ترین ادیب نے عصر جدید کے عظیم ترین فلسفی کارل مارکس بارے بھی ریڈیائی کھیل تحریر کیا جس سے منٹو کے نظریاتی رجحان کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
 
یہ دلچسپ ڈرامہ زیل میں پڑھا جا سکتا ہے:

 

آں کلیمِ بے تجلّی آں مسیحِ بے صلیب

نیست پیغمبر و لیکن دربغل دارد کتاب

(اقبال)

تمام دنیا کی نگاہیں آج کل رُوس پر جمی رہتی ہیں۔ آج سے پہلے بھی جمی رہتی تھیں مگر ان نگاہوں میں تمسخر کی ایک جھلک تھی۔ ایک قسم کا استہزا تھا۔ یورپ میں سیاست کی ٹیڑھی ٹوپی پہننے والے بانکے، روس کے مزدوروں کی جدوجہد دیکھتے تھے اور زیر لب مسکراتے تھے۔۔۔۔۔۔ روس میں صدیوں کے غلاموں نے جب اپنی زنجیروں کا لوہا گلا گلا کر ایک نئی سلطنت کی بنیادوں کو پلانا شروع کیا تو آزاد قوموں نے کئی بار ان کا مضحکہ اُڑایا۔۔۔۔۔۔ اپنا گھر درست کرنے کے لیئیجب ان لوگوں نے گرم جوشی کا اظہار کیا تو بنے بنائے اور سجے سجائے گھروں میں رہنے والے کھکھلا کر ہنستے رہے۔ وہ کوشش جو کبھی دیوانگی پر محمول کی جاتی تھی۔ وہ سعی جو کبھی ناممکن اور بے ثمر یقین کی جاتی تھی۔۔۔۔۔۔ وہ سلطنت جو کبھی مزدوروں کا ایک خیال خام سمجھتی جاتی تھی۔ معرض وجود میں آئی۔۔۔۔۔۔ سیاست کی ٹیڑھی ٹوپی پہننے والوں، مذہب کا لمبا جُبّہزیب تن کرنے والوں، آزاد اور غلام قوموں، شکستہ جھونپڑوں اور مرمریں محلوں میں رہنے والوں نے دیکھا۔۔۔۔۔۔ وہ معجزہ اپنی آنکھوں سے دیکھا جس کو’’سوویٹ روس‘‘ کہتے ہیں۔

سوویٹ روس اب خواب نہیں۔ خیالِ عام نہیں۔ دیوانہ پن نہیں۔۔۔۔۔۔ ایک ٹھوس حقیقت ہے۔۔۔۔۔۔ وہ ٹھوس حقیقت جو ہٹلر کے فولادی ارادوں سے کئی ہزار میل لمبے جنگی میدانوں میں ٹکرائی اور جس نے فاشیت۔۔۔۔۔۔ آہن پوش فاشیت کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے۔۔۔۔۔۔ وہ اشتراکیت جو کبھی سر پھرے لونڈوں کا کھیل سمجھا جاتا تھا۔ وہ اشتراکیت جو کبھی دل بہلاوے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔۔۔۔۔۔ وہی اشتراکیت جو ننگ دین اور ننگ انسانیت یقین کی جاتی تھی۔ آج روس کے وسیع و عریض میدانوں میں بیمار انسانیت کے لیئے اُمید کی ایک کرن بن کر چمک رہی ہے۔ یہ وہی اشتراکیت ہے جس کا نقشہ آج سے تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے کارل مارکس نے تیار کیا۔۔۔۔۔۔ قابل احترام ہے یہ انسان جس نے اپنی ذات کے لیئے نہیں، اپنی قوم کے لیئے نہیں، اپنے ملک کے لئے نہیں بلکہ ساری دنیا کے لیئے، ساری انسانیت کے لیئے، مساوات اور اخوت کا ایک ذریعہ تلاش کیا۔

جس طرح کیچڑ میں کنول پیدا ہوتا ہے اسی طرح سرمایہ پرست یہودیوں کے ایک گھرانے میں سرمایہ شکن کارل مارکس پیدا ہوا۔۔۔۔۔۔ پانچ مئی سن اٹھارہ سو اٹھارہ کو۔۔۔۔۔۔ ابھی بچہ ہی تھا کہ اس کے متعلق باپ نے یہ رائے قائم کی کہ یہ بڑا ہو کر شیطان نکلے گا۔۔۔۔۔۔کارل مارکس بڑا ہو کر شیطان نکلا یا فرشتہ۔ اس کا کچھ اندازہ تو ہماری موجودہ نسلیں کر چکی ہیں۔ قطعی فیصلہ آنے والی نسلوں کے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔۔۔ اس مختصر فیچر میں جو اب آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔ ہم اس شیطان یا فرشتے کے مختصر سوانح حیات نیم سوانح حیات نیم ڈرامائی شکل میں پیش کریں گے۔

باپ: خُدا ہمارے حال پر رحم کرئے۔۔۔۔۔۔ تمہارے اس لڑکے نے میری ناک میں دم کر رکھا ہے۔

ماں: جیسا میرا ہے ویسا آپ کا ہے۔ یہ آپ ہر وقت مجھے ہی کیوں طعنے دیتے رہتے ہیں۔

باپ: بھئی! میں بڑا پریشان ہوگیا ہوں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں۔۔۔۔۔۔ غبی ہوتا، کند ذہن ہوتا تو میں خاموش ہو کے بیٹھ جاتا مگر کم بخت ذہین ہے۔۔۔۔۔۔ بلا کا ذہین ہے۔ چاہے تو سب کچھ سیکھ سکتا ہے۔

ماں: مگر اس کا دل بھی کسی طرف لگے؟

باپ: اسی بات کا تو رونا ہے۔ سکول میں بھی اس کے یہی چلن تھے۔ اب کالج میں داخل ہو کر تو اور بھی زیادہ آوارہ گرد ہوگیا ہے۔ تعلیم کی طرف دھیان ہی نہیں دیتا۔ بڑی بے فکری اور بے پرواہی سے یہ زمانہ جو اس کی زندگی میں بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے، گزار رہا ہے۔ ہزار بار سمجھا چکا ہوں مگر صاحبزادے کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔۔۔۔۔۔ وہ خاص مضمون یعنی قانون جو میں نے اس کے لیئے منتخب کیا تھا اُس کی طرف سنتا ہوں، کچھ توجہ ہی نہیں دیتا۔ میں اس کا یہ لااُبالی پن کب تک برداشت کرتا رہوں گا۔صبر کی ایک حد ہوتی ہے۔

ماں: تازہ خط میں اس نے آپ کو کیا لکھا ہے؟

باپ: (تمسخر کے ساتھ) ذہنی الجھنوں اور روحانی پریشانیوں کے باعث آپ کی طبیعت خراب ہوگئی تھی اس لیئے کچھ دن ہسپتال میں رہے۔ وہاں سے واپس آکر بھی جب آپ کی روحانی کشمکش ختم نہ ہوئی تو مجھے لکھتے ہیں۔’’ابا جی! میرے ذہن میں ایک زبردست انقلاب پیدا ہورہا ہے۔۔۔۔۔۔ اس انقلاب کی پوری تفصیل حاضر خدمت ہو کر ہی عرض کرسکتا ہوں۔ اجازت عنایت ہو تاکہ میں اپنی رُوح کا بوجھ ہلکا کرسکوں۔‘‘۔۔۔۔۔۔ یہ لکھا ہے آپ نے۔۔۔۔۔۔(ہنستا ہے) اپنی رُوح کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیئے برخوردار یہاں آنا چاہتے ہیں اور اس کے لیئے اجازت مانگتے ہیں۔

ماں: یہُ روح کا بوجھ کیا ہوسکتا ہے؟۔

باپ: کوئی نیا عشق لڑایا ہوگا آپ نے۔ یا وہی پرانا ہوگا اور ہسپتال میں جا کر عود کر آیا ہوگا۔

ماں: سچ مچ یہ اس کو کیا خبط سمایا جو اس جینی سے عمر میں اس سے چار سال بڑی ہے۔ شادی کرنے پرتُلا ہوا ہے۔

باپ: اسی کو تو روحانی بیماری کہتے ہیں چونکہ اس کا علاج ہسپتال میں نہیں ہوسکا۔ اس لیئے یہاں تشریف لانا چاہتے ہیں جیسے میں اجازت دے دُوں گا کہ جاؤ میاں اپنے سے دگنی عمر کی لڑکی سے شادی کرلو۔

ماں: مگر آپ تو اسے جینی سے شادی کرنے کی اجازت دے چُکے ہیں۔

باپ: یہ جھک میں نے صرف اس لیئے ماری تھی کہ وہ جینی سے خط و کتابت کرنے میں اپنا وقت ضائع نہ کرئے۔ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اس نے کالج کا پہلا سال شعر و شاعری میں گزارا ہے۔ تین کاپیوں میں ڈیڑھ ہزار شعر دیکھ چکا ہوں جو اس نے اس ناشدنی جینی کے نام منسوب کیئے ہیں۔ میں نے اس کو اجازت دی تھی تاکہ یہ عشقیہ شعر و شاعری اور خط و کتابت کا خاتمہ ہو جائے مگر اب میں سمجھتا ہوں کہ وہ نئی مراعات چاہتا ہے۔

ماں: آپ نے خط کا جواب لکھ دیا۔

باپ: ہاں لکھ دیا۔ تو تم بھی سُن لو۔۔۔۔۔۔(خط پڑھتا ہے)۔۔۔۔۔۔’’ خدا تمہارے حال پر رحم کرئے۔۔۔۔۔۔ تم دلجمعی سے بالکل کام نہیں لیتے اور علم کے مختلف شعبوں میں آوارہ گردی کرتے پھرتے ہو۔ بے ربط غور و فکر ہمیشہ بے نتیجہ رہتا ہے۔ بے ربط علمی مشاغل سے وقت اسی طرح ضائع ہوتا ہے جس طرح بادہ و ساغر سے۔۔۔۔۔۔ والدین کی خوشنودی کی طرف تم نے کبھی توجہ نہیں دی اس لیئے کہ تم اسے بالکل مہمل سمجھتے ہو۔ میں تمہیں اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ جینی کے محبت بھرے خطوط اور ایک نیک نیت اور شفیق باپ کی چٹھیوں سے تم اپنا پائپ سُلگاتے ہوگے۔خیر یہ بھیب بُرا نہیں کیوں کہ اس طرح یہ خطوط غیر لوگوں کے ہاتھوں میں پڑنے سے تو بچ جائیں گے کیوں کہ تمہارے پھوہڑ پن سے تو یہی امید ہے کہ جلائے نہ جائیں گے تو دوسروں تک ضرور پہنچ جائیں گے۔ اگرچہ امیر سے امیر لڑکا بھی کالج میں پانسو تھیلر خرچ کرتا ہے لیکن تم ایسے ہو کہ سات سو تھیلر چٹ کر جاتے ہو اور ڈکار تک نہیں لیتے۔ تم شاید سمجھتے ہو کہ میں سونے کا بنا ہوں۔ گھر آنا فضول ہے اگر مجھے معلوم ہے کہ تمہارے نزدیک کالج کے لیکچروں کی کوئی اہمیت نہیں لیکن کلاس میں جو تم رسمی طور پر چلے جاتے ہو۔اگر یہی جاری رہے تو غینمت ہے۔‘‘

[باپ کے اس خط کا یہ اثر ہوا کہ ایسٹر کی چھٹیوں میں کارل مارکس کالج ہی میں رہا۔ ماں کو رنج ہوا لیکن باپ خوش تھا۔ مارکس کی خوش قسمتی کہیے یا بدقسمتی کہ اس کے والد تھوڑے ہی عرصے کے بعد بیمار پڑے اور10 مئی1938ء کو فوت ہوگئے۔ والد کی وفات کے بعد مارکس کی تعلیم بصد خرابی جار ی رہی۔ آخر کار ایک فلسفیانہ مضمون لکھنے پر اسے’’جینا یونیورسٹی‘‘ سے پی۔ ایچ۔ڈی کی سند مل گئی۔ چونکہ مارکس کے عقیدے کے بموجب علم و عمل ایک ہی شے کے دو رخ تھے۔ اس لیئے تعلیم سے فارغ ہوتے ہی اس نے فوراً سیاسی میدان میں جدوجہد شروع کردی۔ زیٹانگ نامی ایک اخبار کا مدیر بنا اور حکومت کی پالیسی پر اس شدت سے تنقید کی کہ اخبار ضبط کرلیا گیا۔]

مارکس: روگی! میرے دوست ضبط کے اس حکم پر مجھے قطعاً تعجب نہیں ہوا۔ افسوس بھی کچھ زیادہ نہیں ہوا۔

روگی: کیوں؟

مارکس: ضبطی کا حکم اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ عوام میں سیاسی بیداری بڑھ رہی ہے۔ جب کسی قوم میں سیاسی بیداری کے آثار پیدا ہونے لگیں تو تحریر و تقریر پر اسی طرح پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ تمہیں معلوم ہے’’زیٹانگ‘‘ بند ہونے پر سنسر افسر نے کیا لکھا تھا؟

روگی: کیا لکھا تھا؟

مارکس: میں خوش ہوں کہ مارکس کے دست بردار ہو جانے کا یہ اثر ہوا ہے کہ آج میں نے اپنا تمام کام ایک چوتھائی وقت میں ختم کرلیا۔

روگی: تم نے ادارت سے استعفیٰ کیوں دیا؟

مارکس: اور کیا کرتا۔ بھائی ایسے ماحول میں جہاں قدم قدم پر غُلامی ہو۔ مجھ سے کام نہیں ہوسکتا۔ میرا دم گُھٹنے لگتا ہے۔ آزادی کیلیئے سوئیوں سے لڑنا مجھے پسند نہیں۔میں حاکم طبقے کی بے رحمی اور بے وقوفی اور اپنے ہم عصروں کی جی حضوری۔ چاپلوسی۔ بہانہ سازی اور بے کار کے بحث مباحثے سے تنگ آگیا ہوں۔ جرمنی میں رہ کر میں کچھ نہیں کرسکتا۔۔۔خدا کی قسّم! کچھ نہیں کرسکتا، اس ملک میں رہنا اپنی توہین ہے، ذِلّت ہے۔

روگی: تو اب تم کیا کرنا چاہتے ہو؟

مارکس: سوچ رہا ہوں کہ کوئی رستہ نکل آئے۔ آج کل مفت کی پریشانی اور خواہ مخواہ کی بحثوں میں وقت ضائع ہورہا ہے۔ ادھر میرے کنبے والے بے کار میری شادی کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کررہے ہیں۔ کوئی انہیں سمجھائے تو کیسے سمجھائے؟۔۔۔۔۔۔ عشقیہ جذبات برطرف۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ مجھے اپنی ہونے والی بیوی سے بے پناہ محبت ہے۔ آج منگنی ہوئے سات برس ہو چکے ہیں۔ وہ بے چاری اپنے اور میرے عزیزوں کو راضی کرنے کی کوشش کررہی ہیں مگر وہ ایسے خر دماغ ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔

روگی: جینی کے رشتہ دار اس شادی کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟

مارکس: تم یہ بھی نہیں سمجھتے بھائی! وہ لوگ برلن کی حکومت کی اسی قدر عزت کرتے ہیں جتنی اپنے آسمانی باپ کی۔ اور میں حکومت کا بیری۔ بہت بڑا دشمن ٹھہرا اس ڈھونگ کا۔ رہے میرے عزیز تو وہ بھی اپنے انفرادی مُفاد کے پیشِ نظر اس رشتے کے خلاف ہیں۔ کئی برسوں سے میرے اور جینی کی شادی کے معاملے میں اپنے سے تگنی عمر والوں سے بحث کررہے ہیں لیکن بڈھوں کی اس دلیل کا کیا کیا جائے جو وہ ہر بات میں عُمرکا تفاوت سامنے لے آتے ہیں۔

’’یہ ہماری زندگی کا تجربہ ہے۔ جب تم ہماری عمر کو پہنچو گے، اس وقت سمجھو گے۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں ان کی عمر تک پہنچ کر جینی سے شادی کروں۔

روگی: میں سوچ رہا ہوں کہ یہاں سے ایک اخبار جاری کروں۔ اگر یہ سکیم پوری ہوگئی تو میں سمجھتا ہوں کہ تمہاری بہت سی مشکلات کا خاتمہ ہو جائے گا۔

مارکس کے دوست روگی کی سکیم نے عملی جامہ پہن لیا۔ اس نے ایک اور اخبار نکالا اور مارکس کو پانسو تھیلر ماہانہ پر اس کا ایڈیٹر مقرر کردیا۔ فکرِ معاش سے آزادی ہوئی تو مارکس نے انیس جولائی اٹھارہ سو تینتالیس میں جینی سے شادی کرلی اور پیرس چلا گیا۔ یہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی۔مارکس نے دن گزارنے کے لیئے ایک اخبار کے ادارے میں کام کرنا شروع کردیا۔ یہاں اس کی ملاقات مشہور شاعر ہائنے سے ہوئی۔ ہائنے اگرچہ جرمن تھا لیکن فرانسیسی اس کو اپنا قومی شاعر مانتے تھے جب شاعر نے پروشا کی حکومت کے ظلم و ستم کے خلاف متواتر گیارہ نظمیں شائع کرائیں تو حکومت پروشا نے فرانس پر اثر ڈال کر اخبار کے مدیروں کے خلاف جن میں مارکس بھی شامل تھا۔ جلا وطنی کا حکم صادر کرادیا۔ مارکس اپنی بیوی سمیت برسلز چلا گیا۔

بیوی: اب یہاں گزارے کی کیا صورت ہوگی۔ یہ لوگ ہمیں کہیں بھی چین نہیں لینے دیتے۔

مارکس: کچھ فکر نہ کرو۔ اللہ میاں نے بندوبست کردیا ہے۔۔۔۔۔۔دیکھو،ابھی ابھی میرے شفیق دوست فریڈرک اینجلز کا خط آیا ہے۔

بیوی: (خوش ہو کر) کیا لکھتے ہیں۔

مارکس: (خط کھولتا ہے) چندہ جمع کرکے اس نے کچھ روپیہ بھیجا ہے۔ معلوم نہیں کتنا، آج یا کل مل جائے گا۔۔۔۔۔۔ ہاں تو خط میں لکھتا ہے۔۔۔۔۔۔ ’’معلوم نہیں یہ رقم برسلز میں تمہارے گزارے کے لیئے کافی بھی ہوگی یا نہیں۔ لیکن تم کچھ فکر نہ کرو۔ میری انگریزی تصنیف کا جو معاوضہ بھی ملے گا۔ میں تمہیں فوراً روانہ کردُوں گا۔ مجھے خرچ کی مطلق ضرورت نہیں اور اگر ہوئی بھی تو یہاں سے روپیہ ملتا رہے گا۔ دراصل میں نہیں چاہتا کہ تمہارے دشمن اس بات سے خوش ہوں کہ مالی مشکلات سے تمہیں پریشانی ہو۔‘‘

بیوی: خدا آپ کے اس مشفق دوست کو رہتی دنیا تک سلامت رکھے۔ آپ کی کتنی خبر گیری کرتا ہے۔

مارکس: بیگم! اینجلز کو صرف میرا دوست کہنا اس کی اور میری دونوں کی توہین ہے۔ ہم دونوں ایک ہیں۔ ہماری زندگی ایک دوسرے سے اس درجہ وابستہ ہو چکی ہے کہ ہم دونوں روحانی طور پر ایک ہو چکے ہیں۔اینجلز میرا اور میں اس کا ہمراز ہوں۔

بیوی: اُن سے آپ کی پہلی ملاقات شاید زیٹانگ اخبار کے دفتر میں ہوئی تھی؟

مارکس: تم ٹھیک کہتی ہو لیکن ہماری دوستی کا آغاز اُس وقت ہوا جب اینجلز نے اپنی کتاب لکھی اور میں نے اس کی بہت تعریف کی۔ سچ تو یہ ہے کہ اقتصادی میدان میں اینجلز کی نظر بہت وسیع ہے حالانکہ وہ ہمیشہ یہی کہتا ہے کہ مارکس بہ نسبت میرے زیادہ دُور۔ زیادہ گہرا اور زیادہ جلدی دیکھتا ہے۔ یہ اس کی کسرِ نفسی ہے۔

[اینجلز اور مارکس کی زندگی واقعی ایک دوسرے سے غایت درجہ وابستہ تھی۔ باوجود اینجلز کی کسرِ نفسی کے یہ ماننا پڑتا ہے اور جیسا کہ خود مارکس تسلیم کرتا ہے۔ ابتداء میں اقتصادی میدان اینجلز نے دیا اور کارل مارکس نے لیا۔ دونوں ایک جان دو قالب تھے۔ خیر، بروسلز اس زمانے میں بین الاقوامی بورژوائی رجحانات کا مرکز تھا اور اس لیئے کمیونزم کی نشر و اشاعت کے لیئے بہترین جگہ تھی۔یہاں مارکس نے اپنا کام شروع ہی کیا تھا کہ24 فروری1848ء کو فرانس میں انقلاب ہوگیا۔ بادشاہِ فرانس کو جو حادثات پیش آئے۔ انہوں نے یورپ کے تاجداروں کو ڈرا دیا۔ چنانچہ بلجیم کے بادشاہ کے حکم سے مارکس اور اس کی بیوی کو گرفتار کرلیا گیا۔ دوسرے دن رہائی ملی تو جلا وطنی کا حکم صادر ہوگیا۔ مارکس نے پھر پیرس کا رخ کیا اور اپنے چند انقلابی دوستوں کی مدد سے اخبار نکالا۔ جس سے اس کی شہرت عام ہوگئی مگر اس طوفان میں یہ چراغ کب تک روشن رہ سکتا ہے۔ فو راً ہی حکومت کا تشدد شروع ہوگیا۔ اخبار کے حصہ داروں نے ڈر کے مارے مالی امداد سے انکار کردیا لیکن ان مشکلات کے باوجود مارکس نے اخبار بند نہ کیا۔ باپ سے ترکے میں جو سات ہزار تھیلر ملے تھے۔ اس پر لگا دیئے لیکن دو چار دن ہی میں اخراج کا حکم آگیا۔19 مئی کو مارکس نے آخری انقلاب نمبر نکالا اور اخبار بند کردیا۔]

مارکس: ہمیں ستانے کے لیئے حکومت بہانے کیوں تراشتی ہے۔جھوٹ اور افترا کے پُل کیوں باندھتی ہے۔ ہم تو خود جلّاد ہیں اس لیئے دوسروں سے رحم کی امید نہیں رکھتے۔ جب ہمارے دن پھریں گے تو ہم اپنے تشدد کے بہانے اور حیلے نہیں تراشیں گے۔

دوست: اخبار بند ہونا تھا، سو ہوگیا۔ اب آپ کا ارادہ کیا ہے؟

مارکس: ارادہ کیا ہے۔ دماغ مختل ہے۔ ہوش و حواس قائم نہیں۔ قرض خواہوں سے چھٹکارا ملے تو کچھ سوچوں بھی۔مزدوروں اور کلرکوں کی تنخواہیں ادا کرتے کرتے میرا کچومر نکل گیا ہے۔ بیوی کے پاس کچھ زیور رہ گئے تھے۔ ان کو گروی رکھ کر اتنے دن گزارا کیا ہے۔ ایک دوست کو مالی امداد کے لیئے لکھا ہے۔ اس نے چندہ جمع کرنا شروع کردیاہے۔

دوست: تو کیا ہوا۔روپیہ کسی طرح تو آنا چاہیئے۔

مارکس: نہیں بھائی! مجھے یہ طریقہ منظور نہیں۔میں ہر عُسرت برداشت کرنے کے لیئے تیار ہوں لیکن عوام سے بھیک مانگنا کسی طرح بھی گوارا نہیں ہوسکتا۔ جب سے میں نے یہ سُنا ہے کہ وہ میری خاطر چندہ جمع کررہا ہے تو خدا کی قسم! مجھے بہت دُکھ ہوا۔ میں نے فوراً لکھا کہ ایسی امداد مجھے نہیں چاہیئے۔ میں نے اس سے مانگا تھا۔ دوسروں سے مانگنے کے لیئے نہیں کہا تھا۔

دوست: کیا پیرس میں رہنے کا ارادہ ہے؟

مارکس: نہیں مطلق نہیں۔ جونہی زادِراہ کا بندوبست ہوا۔ میں یہاں سے لندن چلا جاؤں گا۔

23 اگست کو مارکس نے فرانس کو الوداع کہی اور لندن چلا آیا۔ یہاں اس کے لڑکا پیدا ہوا جو مفلسی کے باعث ایک سال کے اندر اندر مرگیا۔ چاروں طرف مصائب ہی مصائب تھے لیکن ان کی موجودگی میں بھی مارکس نے اپنے علمی مشاغل جاری رکھے۔ صبح نو بجے لندن کی لائبریری میں چلا جاتا تھا اور شام کے سات بجے لوٹتا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ اپنی مشہور کتاب’’اقتصادات پر تنقید‘‘ لکھ رہا تھا، اس زمانے میں تقدیر کچھ مسکرائی تو ایک دوست کے توسط سے امریکہ کے ایک اخبار کی رپورٹری مل گئی اور کچھ معاوضہ ملنے لگا۔ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد مارکس سخت بیمار ہوا۔

مارکس: کسی بیماری نے مجھے اتنا کمزور نہیں کیا جتنا کہ اس نامراد بیماری نے کیا ہے۔ مرتا مرتا بچا ہوں۔

دوست: اب آپ کے حالات کیسے ہیں؟

مارکس: (مسکرا کر) حالات اب ایسی تسلی بخش منزل پر پہنچ گئے ہیں کہ نہ باہر جا سکتا ہوں کیوں کہ سب کپڑے گروی پڑے ہیں۔ نہ گوشت کھا سکتا ہوں کیوں کہ جو رہی سہی ساکھ تھی، وہ اس بیماری نے ختم کردی ہے۔

دوست: چھوٹی لڑکی کا کیا حال ہے؟

مارکس: بے چاری کئ دن سے کھانسی اور بخار میں مبتلا ہے۔ بہت کمزور ہوگئی ہے شاید ہی بچے۔ کیوں کہ دوا دارو کے لیئے ایک پیسہ بھی پاس نہیں۔

دوست: اللہ رحم کرئے۔

مارکس: ہاں اللہ ہی رحم کرئے۔۔۔۔۔۔ بیوی بیمار، بیٹی بیمار، لڑکے کو بخار، رو پیہ پیسہ پاس نہیں ہفتے بھر سے صرف روٹی اور آلو پر گزارا کررہا ہوں۔ شاید اب یہ بھی نہ ملے اور فاقے کرنے پڑیں۔ کاغذ خریدنے کے لیئے پیسے نہیں کہ مضمون لکھ کر اخبار کو روانہ کرسکوں۔ اب صرف یہ ہونا باقی ہے کہ مالک مکان گھر سے نکال دے کیوں کہ اس کے بائیس پونڈ میری طرف نکلتے ہیں۔

دوست: اگر اس نے واقعی نکال دیا؟

مارکس: تو بہت ہی اچھا ہو گا۔ ان بائیس پونڈوں کا بوجھ تو میرے سینے سے اُترے گا۔۔۔۔۔۔ لیکن مالک مکان یہ عنایت مجھ پر کیوں کرنے لگا۔ روٹی والے، دودھ والے، سبزی والے، قصائی، پرچون والے، ان سب کا قرضہ الگ رہا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ مصیبتیں کب ختم ہوں گی۔بڑے شرم کی بات ہے مگر چند روز سے مزدوروں سے قرض لے لے کر گزارا کررہا ہوں۔ کیا کروں، ان سے بھی نہ مانگوں تو بھوکا مر جاؤں۔

دوست: آپ ہی کی ہمت ہے کہ مشکلات کے ان ہجوم میں بھی اپنا کام کیئے جارہے ہو۔

مارکس: بورژ وائی طبقہ مجھے میرے مقصد سے ہٹا کر سونا کمانے کی ترغیب دینا چاہتا ہے۔ میں ان کو بتا چکا ہوں کہ وہ مجھے کبھی سِکّے بنانے کی مشین میں تبدیل نہیں کرسکیں گے۔ میں ہر مصیبت میں اپنا کام کرتا رہوں گا۔

دوست: مگر روپیہ کمانا بھی تو ضروری ہے۔

مارکس: روپیہ کمانا چا ہیئے کہ ہم زندہ رہیں اور کچھ لکھ سکیں لیکن روپیہ کمانے کے لیئے ہمیں زندہ رہنا اور لکھنا ہرگز نہیں چاہیئے۔

[مفلسی کا یہ عالم۔ لیکن اپنے پیش نظر مقصد سے ایک لمحے کے لیئے بھی مارکس کی نظر نہ ہٹی۔ وہ ایک بندہ مومن کی طرح اعلان حق میں لگا رہا۔ کڑے سے کڑے امتحانوں میں سے گزرنا پڑا مگر وہ ثابت قدم رہا۔ اس کی جان و دل سے پیاری بچی سامنے دم توڑ رہی تھی۔ خود فاقوں سے نڈھال تھا مگر مجال ہے کہ اس کے پائے استقلال میں ذرا سی بھی لغزش آئی ہو۔]

بیوی: (وحشت زدہ ہو کر)۔۔۔۔۔۔ ننھی نے دم توڑ دیا۔

مارکس: مر گئی بے چاری؟

بیوی: تین روز تک ظالم موت سے لڑتی رہی۔ننھی سی جان تھی کب تک مقا بلہ کرتی۔۔۔۔۔۔ مجھ سے تو رویا بھی نہیں جاتا۔ آنکھوں میں آنسو بھی نہیں آتے مجھے کیا ہوگیا ہے؟ کیا واقعی ننھی مر گئی ہے؟ تم جاکے دیکھو، شاید زندہ ہو۔!

مارکس: صبر کرو میری جان! مشیتِ ایزدی یہی تھی۔ میں یہاں زمین پر بستر کردیتا ہوں۔ تم لیٹ جاؤ، تمہاری صحت اچھی نہیں۔ اپنی جان ہلکان نہ کرو جو ہونا تھا، سو ہوگیا۔ ہر حالت میں اللہ کا شکر بجا لاناچاہیئے۔

بیوی: ہائے میری حورکس طرح ٹھنڈی اور ساکت لیٹی ہوئی ہے۔مجھے یقین نہیں آتا۔۔۔۔۔۔ مجھے بالکل یقین نہیں آتا(پھوٹ پھوٹ کے رونا شروع کردیتی ہے)

مارکس: خدا کا واسطہ ہمت سے کام لو۔ تم اس طرح رؤو گی تو میرا کیا حال ہوگا۔صبر کرو۔ اتنے دکھ برداشت کیئے ہیں۔ ایک یہ بھی سہی۔

بیوی: ماں ہوں۔ کیسے اپنا دل پتھر کرلوں۔۔۔۔۔۔میری ننھی۔۔۔۔۔۔!

مارکس: اب اس کے کفن دفن کی کچھ فکر کرنی چاہیئے۔ ہمارے پاس تو زہر کھانے کو بھی کچھ نہیں۔(ٹھنڈی سانس لیتا ہے) بے چاری۔۔۔۔۔۔ مر گئی۔۔۔۔۔۔ ہاں تو اب کیا کرنا چاہیئے۔۔۔۔۔۔(توقف کے بعد) میت اُٹھا کر دوسرے کمرے میں رکھ دیتا ہوں اور خود اس جلا وطن فرانسیسی کے پاس جاتا ہوں جو ہمارے پاس پڑوس میں رہتا ہے۔ ایک دو بار اس سے ملاقات ہوئی تھی تو وہ بڑی خوش اخلاقی سے پیش آیا تھا۔ ضرورت کا اظہار کروں گا تو کفن دفن کے لیئے شاید کچھ دے دے۔

بیوی: جب بے چاری پیدا ہوئی تھی۔ اس وقت بھی اس کو کوئی گہوارہ نصیب نہ ہوا۔ آج رخصت ہورہی ہے تو تابوت نہیں۔۔۔۔۔۔

ایسے کئی چرکے مارکس نے سہے مگر ثابت قدم رہا۔ لندن کے دوران قیام میں کچھ سکون پیدا ہونا شروع ہوا تھا کہ اس کا اکلوتا لڑکا فوت ہوگیا۔ اس کا داغِ مفارقت دے جانا قیامت تھا۔ مارکس کو اس سے بہت محبت تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس لڑکے کی وفات پر پہلی بار اس کو محسوس ہوا کہ صدمہ کیا ہوتا ہے۔ اس حادثے کے بارے میں اس نے اپنے ایک دوست کو خط لکھا اور کہا’’ہیگو کہتا ہے کہ دنیا میں جو واقعی بڑے آدمی ہوتے ہیں۔ وہ حقیقت کی جستجو میں اس قدر منہمک ہوتے ہیں کہ کوئی ذاتی نقصان یا صدمہ انہیں متاثر نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔۔ مجھے افسوس ہے کہ میں اس قسم کا بڑا آدمی نہیں ہوں۔ لڑکے کی موت نے میری رُوح اور میرے جسم کو ہلا ہلا دیا ہے۔‘‘ جسم اور روح متزلزل ہونے کے باوجود اس نے اپنی تصنیف کا کام جاری رکھا۔ وہ ایک بہت بڑی حقیقت کو بے نقاب کرنا چاہتا تھا۔ اس کا دل سیاسی ہنگاموں سے اُکتا گیا تھا۔ وہ اپنے اقتصادی نظریات کو کتابی صورت میں پیش کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔ یہ کتاب مکمل ہوئی تو مارکس کی مفلسی آخری حد کو پہنچ چکی تھی۔ اکیس جنوری سن اٹھارہ تو انسٹھ کو ’’اقتصادیات پر تنقید‘‘ کا مسوّدہ بالکل تیار تھا مگر۔۔۔۔۔۔

مارکس: امریکہ کے اقتصادی آشوب کا بہت ہی بُرا اثر پڑا ہے۔ پہلے یہ ٹریبون اخبار دو مضمون لیتا تھا۔ اب کم بخت ایک ہی لیتا ہے۔

بیوی: وہ روپیہ جو امی جان کے انتقال کے بعد میسر آیا تھا۔ ایک برس کے اندر اندر ہی ختم ہوگیا۔

مارکس: بھئی بے شمار قرضے ادا کرنے تھے۔ آدھا تو ان ہی میں اُٹھ گیا ہوگا۔ خیر مگر اب سوچنا یہ ہے کہ اس مسودے کا کیا کیا جائے۔

بیوی: کوئی نہ کوئی چھاپ دے گا آپ کیوں اتنی فکر کرتے ہیں؟

مارکس: فکر اس لیئے کرتا ہوں کہ مسوّدہ بھیجنے کے لیئے پیسے کہاں ہیں۔ ٹکٹ بغیر بھیج دوں۔

بیوی: (ہنستی ہے) میں ٹکٹوں کا بھول ہی گئی تھی۔

مارکس: ایک ٹکٹ کہیں سے مل گیا تھا۔ سو اینجلز کو خط لکھا ہے اور اس سے کہا ہے کہ بھائی مسودہ روانہ کرنے کے لیئے ٹکٹ چاہئیں۔ کچھ روانہ کردو تاکہ یہ کام اٹکا نہ رہے( ہنستا ہے) حد ہوگئی ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا مصنف ہوگا جس نے دولت پر کتاب لکھی ہو اور وہ خود دولت سے محروم رہا ہو۔۔۔۔۔۔ اس کتاب کی طباعت کا انتظام ہو جائے تو ارادہ ہے کہ انگریزی ریلوے کمپنی میں ملازم ہو جاؤں۔

بیوی: آپ سے یہ ملازمت نہ ہوسکے گی۔

مارکس: تو ایک صورت اور ہے۔ وہ یہ کہ اپنے آپ کو دیوالیہ اعلان کردوں۔ دو لڑکیاں ہیں۔ انہیں تم کسی امیر کے بچوں کو کھلانے کا کام دلوا دو اور ہم تم دونوں کسی’’ ورک ہاؤس‘‘ میں چلے جائیں۔

بیوی: یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟

مارکس: کیا کہہ رہا ہوں۔’’ ورک ہاؤس‘‘ ہم جیسے نادار انسانوں ہی کے لیئے بنائے گئے ہیں اور مارکس کی لڑکیوں اور ان کے کھلائیوں میں کیا فرق ہے۔ جو کئی متمول گھرانوں میں نظر آتی ہیں۔

’’ورک ہاؤس‘‘ میں جانے اور لڑکیوں کو کھلائی بنانے کی نوبت نہ آئی کیوں کہ سن اٹھارہ سو ساٹھ میں اینجلز کے باپ کا انتقال ہوگیا۔ وصیت کی رو سے وہ اپنے باپ کی فرم کا مالک بن گیا اور اس قابل ہوگیا کہ اپنے دوست مارکس کو زیادہ سے زیادہ مدد دے سکے۔۔۔۔۔۔ اس دوران میں مارکس کی ماں کا انتقال ہوگیا۔ اس نے بھی مارکس کے لیئے کچھ چھوڑا۔ غرض یہ کہ مفلسی کا دور تھوڑے ہی عرصہ کے لیئے ختم ہوا۔ اب فارغ البالی ہوئی تو اس نے1868ء میں انٹرنیشنل کی بنیاد ڈالی۔ تمام دنیا کے مزدوروں کی تنظیم سازی آسان کام نہ تھا۔ مارکس کو اس سلسلے میں بہت سر دردی کرنی پڑی۔ چونکہ اس کام میں پڑ کر وہ آمدنی کی طرف سے بالکل غافل ہوگیا تھا۔ اس لیئے مفلسی اور بیماری نے اس کے دروازے پر پھر دستک دی۔

بیوی: مجھے آپ کے دوست اینجلز سے پورا پورا اتفاق ہے۔ان کا یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ یہ کم بخت کتاب ’’سرمایہ‘‘ ہی تمام آفتوں کا موجب ہوئی ہے۔

مارکس: مگر اب تو میں اسے ختم کرچکا ہوں۔ مجھے پوری پوری امید ہے کہ سال کے آخر تک میری مالی حالت بہتر ہو جائے گی۔ میں اپنے پیروں پر کھڑا ہو جاؤں گا۔ مجھے دراصل افسوس اس بات کا ہے کہ میری وجہ سے بے چارہ اینجلز بہت پریشان رہا۔ میری خاطر اسے کاروباری دنیا میں بہت تندہی سے کام کرنا پڑا۔ سچ تو یہ ہے بیگم۔ اینجلز امداد نہ کرتا تو یہ کتاب میں کبھی نہ لکھ سکتا۔

بیوی: اب آپ نے پھر ان کو تکلیف دی ہے۔

مارکس: یقین جانو۔ اگر از حد ضرورت نہ ہوتی تو میں اسے کبھی تکلیف نہ دیتا۔ اپنی انگلیاں قلم کردیتا جنہوں نے اس کو یہ خط لکھا اور امداد چاہی۔ دوسروں کو تکلیف دے کر زندگی کے دن پورے کرتے رہنا واقعی بہت بڑی ذلت ہے لیکن یہ خیال اس ذِلّت کو دُور کردیتا ہے کہ اینجلز اور میں دونوں ایک کام میں برابر کے شریک ہیں۔

بیوی: آپ نے ایک بار کہا تھا کہ مزدور کی سی طرز رہائش اختیار کرلیں گے۔

مارکس: میں نے اس پر بہت غور کیا۔ تم خود اب میری اس رائے سے اتفاق کرو گی، بالکل مزدوروں کی سی طرز رہائش ہمارے موجودہ حالات میں مصلحت کے خلاف ہے۔۔۔۔۔۔ اگر دو جوان لڑکیوں کی بجائے دو لڑکے ہوتے تو بخدا مجھے ایسی رہائش اختیار کرنے میں کوئی پس و پیش نہ ہوتا۔

بیوی: آپ کی صحت خراب ہوگئی ہے۔

مارکس: نہیں تو۔

بیوی: نہیں تو کیا۔۔۔۔۔۔ کئی بار آپ کہہ چکے ہیں کہ ٹانگوں میں بہت کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ ڈاکٹر بھی آپ سے یہی کہہ چکے ہیں کہ آپ کی صحت بہت گر گئی ہے، اب خُدا کے لیئے رات کا کام بند کردیجئے۔

مارکس: رات کا کام بند کردُوں تو کھاؤں کہاں سے؟

بیوی: یہی تو آفت ہے بغیر کام کیئے ایک پیسہ بھی نہیں مل سکتا۔

مارکس: کتاب چھپ جائے تو میرے دکھ درد دُور ہو جائیں گے۔ اس صورت میں جب کہ مسودہ گھر میں پڑا ہے۔ میں موت کی خواہش بھی تو نہیں کرسکتا۔

بیوی: کیسی باتیں منہ سے نکالتے ہو؟

مارکس: وہ کتاب جس کے لیئے میں نے اپنی صحت، اپنی خوشی اور اپنے بیوی بچوں تک کو قربان کردیا۔ اگر میری موت کے بعد شائع ہو تو کیا مجھے افسوس نہ ہوگا۔ تم مجھے اچھی طرح جانتی ہو ۔ بہت سے آدمی جو اپنے آپ کو عملی کہتے ہیں۔ میری اس علمی مشغولیت کو بے ثمر اور بے کار کہتے رہے ہیں۔ میں ان کی اس بے وقوفی پر ہنستا رہا ہوں۔یہ میری ہنسی صرف اسی صورت میں کامیاب ہوگی اگر یہ کتاب چھپ گئی۔

بیوی: اصل میں یہی لوگ جو خود کو عملی آدمی کہتے ہیں۔ بہت بڑے بے عمل ہیں۔

مارکس: اگر میں’’سرمایہ‘‘ کو مرتب کیئے بغیر مر جاتا تو اپنے آپ کو انہی بے عمل آدمیوں کے زمرے میں شمار کرتا۔ لیکن مجھ ایسے حساس انسان کے لیئے ناممکن تھا کہ انسانیت کی چیخ سنتا اور خاموش رہتا۔ صرف وہی انسان دوسرے انسانوں کے دُکھ درد سے بے پرواہ رہ سکتا ہے جس کی کھال موٹی ہو۔

بیماری سے نجات حاصل ہوئی تو1867ء میں کارل مارکس خود اپنی تصنیف’’ سرمایہ‘‘ کا مسوّدہ لے کر ہمبرگ گیا۔16 اگست کو’’سرمایہ‘‘ کی کاپیوں کی تصحیح کا کام ختم ہوا۔ پہلی جلد نکل آئی۔ دوسری اور تیسری جلد میں ترمیم و تنسیخ کا کام ہوتا رہا مگر کارل مارکس کے ہاتھوں سے قدرت کو جو کام کرانا تھا۔ قریب قریب ختم ہوگیا تھا۔ اب اس کی دنیا میں ضرورت نہیں رہی تھی۔ چنانچہ پہلے اس کی رفیقۂ حیات کا2 دسمبر کو انتقال ہوا اور وہ خود14 مارچ1883ء کو بوقت سہہ پہر اس جہان سے رخصت ہوا۔17 مارچ کو اسے دفن کیا گیا۔ اینجلز نے اس کی قبر پر تقریر کرتے ہوئے کہا۔

اینجلز: 14 مارچ سہہ پہر کو پونے تین بجے دنیا کا سب سے بڑا دماغ اُٹھ گیا۔ اس کی موت سے پرولتا ر یہ کی جدوجہد اور تاریخ کے نظریۂ واقعیت کو جو صدمہ پہنچا ہے۔ اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ ڈارون نے اگر قدرت کے ارتقاء کا قانون دریافت کیا ہے تو مارکس نے سماج کے ارتقاء کا قانون دریافت کیا ہے۔ اس نے موجودہ سرمایہ دارانہ اور بورژوائی سماج کے محرکات بتائے ہیں۔ اس نے ہمیں سمجھایا ہے کہ انسان کو سیاست، علم، فن اور مذہب کی طرف اپنی توجہ مبذول کرنے سے پہلے کھانے، پینے، پہننے اور رہنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر ملک کے دستورِ علوم و فنون۔ اصول و قانون اور ایک حد تک اس کے باشندوں کی شریعت کے بنیادی اصول اس کے سماج کے اقتصادی حالات میں مضمر ہوتے ہیں اور اگر کسی ملک کے آئین قوانین اور مذہبی خیالات کی بابت معلوم کرنا ہو کہ وہ کیوں اور کس طرح پیدا ہوئے تو اس ملک کی اقتصادی تاریخ پر نظر ڈالنی چاہیئے کیوں کہ زمانے کے اقتصادی حالات ہی ان خیالات کا سرچشمہ ہوتے ہیں۔