خبریں/تبصرے

بلوچستان: کوئلے کی کانوں میں حادثات، ایک ہفتے میں 14 کان کن ہلاک

لاہور (جدوجہد رپورٹ) بلوچستان میں کوئلے کی نجی کانوں میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تین حادثات پیش آچکے ہیں جن میں مجموعی طور پر 14 کان کن ہلاک ہوئے ہیں۔ جمعرات کے روز کوئٹہ میں پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے زیر اہتمام کوئلے کی کانوں میں مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

دو روز قبل ہرنائی میں ایک نجی کوئلے کی کان میں حادثے کے نتیجے میں 7 کان کنوں کی ہلاکت ہوئی جبکہ اس سے قبل اسی ہفتہ میں دکی کی ایک نجی کان میں حادثہ کے نتیجے میں ایک کان کن کی ہلاکت ہوئی، کوئٹہ کے قریب مارواڑ کے علاقہ میں بھی ایک حادثہ اسی ہفتے پیش آیا جس میں 6 کان کن ہلاک ہوئے۔

مائنز لیبر فیڈریشن کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ ”رواں سال کے دوران بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں اب تک 60 سے زائد کان کن ہلاک ہو چکے ہیں۔“ لیبر فیڈریشن کے سربراہ لالہ سلطان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ”گزشتہ سال بھی پاکستان بھر میں کانوں میں 205 کان کن ہلاک ہوئے تھے جن میں سے 105 کا تعلق بلوچستان سے تھا۔ بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں صحت اور سلامتی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ٹھیکیداری نظام ہے۔ کان مالکان لیز اپنے نام الاٹ کرانے کے بعد زیادہ تر خود کام نہیں کرتے بلکہ وہ ان کو ٹھیکیداروں کے حوالے کر دیتے ہیں اور پھر بڑے ٹھیکیدار آگے پیٹی ٹھیکیداروں کو یہ کام دے دیتے ہیں۔“

انکا کہنا تھا کہ ”ٹھیکیدار کو کان کنوں کا خیال نہیں ہوتا بلکہ ان کی توجہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کے لیے زیادہ سے زیادہ کوئلہ نکالنے پر ہوتی ہے۔ ٹھیکیداری نظام کی وجہ سے حفاظتی انتظامات کو یقینی نہیں بنایا جاتا جس کی وجہ سے مزدوروں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ ٹھیکیدار با اثر لوگ ہوتے ہیں اس لیے ان کو سزا بھی نہیں ملتی ہے جب سزا کا تصور نہ ہو تو وہاں لوگ بہت زیادہ خیال نہیں رکھتے۔“