اداریہ

ٹی ایل پی کا احتجاج 12 جانیں لے چکا: ریاست لاپتہ

اداریہ جدوجہد

پاکستان کے تمام بڑے شہروں کی مرکزی شاہراہوں پر گزشتہ 2 روز سے ٹریفک کا نظام معطل ہے۔ پیر کی سہ پہر ایک مذہبی تنظیم ’تحریک لبیک پاکستان‘ (ٹی ایل پی)کے کارکنان نے ملک بھر میں ساڑھے 4 سو سے زائد مقامات پر احتجاجی دھرنے دیتے ہوئے ٹریفک کا سلسلہ معطل کر دیا۔ احتجاج کے دوران تشدد کے مختلف واقعات بھی سامنے آئے۔ منگل کے روز پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ 1 پولیس اہلکار کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ٹریفک کا سلسلہ معطل ہونے کی وجہ سے ایمبولینس میں موجود مریضوں کی ہلاکت کے واقعات بھی پیش آئے۔

مظاہرین نے سرکاری املاک، ایمبولینس، پرائیویٹ اور پولیس گاڑیوں کو بھی آگ لگائی، کئی ویڈیوز میں مظاہرین پولیس اہلکاران پر تشدد کرتے ہوئے نظر آئے اور کئی مقامات پر پولیس اہلکاران کو تشدد کے بعد دھرنے کے مقامات پر بٹھا کر نعرے لگواتے ہوئے بھی مظاہرین کی ویڈیوز سوشل میڈیا کی زینت بنیں۔ اس کے علاوہ مسلح افواج کے اہلکاران کھڑے مظاہرین کے ساتھ مل کر نعرے لگاتے ہوئے بھی ویڈیوز میں نظر آئے جبکہ مظاہرین کی جانب سے پاک فوج کے حق میں بھی نعرے بازی کی گئی۔ کچھ ویڈیوز میں پولیس والوں کو مظاہرین کی جانب سے یہودی قرار دیکر تشدد کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

احتجاج کا یہ سلسلہ ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کی لاہور سے گرفتاری کے بعد شروع ہوا۔ حکومت کی طرف سے گرفتاری کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی لیکن بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ 20 اپریل کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کو روکنے کیلئے یہ اقدام کیا گیا۔ یہ لانگ مارچ فرانس کے سفیر کی ملک بدری کے حکومتی وعدے وفا نہ کئے جانے کی صورت میں منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ تحریک لبیک پاکستان نسبتاً ایک نیا رجحان ہے جسے ریاست کے بالادست اور طاقتور حلقوں نے گزشتہ چند سال سے سیاسی میدان میں اتارا ہے۔ بالخصوص سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو پھانسی کی سزا دیئے جانے کے بعد شعلہ بیان مقرر اور اشتعال انگیز تقاریر کی وجہ سے شہرت رکھنے والے ’خادم حسین رضوی‘ کی قیادت میں اس رجحان کو پروان چڑھایا گیا۔ نومبر 2017ء میں اسلام آباد میں دھرنے کے بعد اس جماعت نے شہرت حاصل کی اور بعد ازاں 2018ء اور پھر 2020ء میں بھی دھرنے دیئے گئے۔ فیض آباد دھرنے کے انعقاد میں مبینہ معاونت پر سپریم کورٹ نے فوجی افسران کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دے رکھا ہے۔ موجودہ احتجاج نومبر 2020ء میں دیئے گئے احتجاجی دھرنے کے شرکا سے وفاقی وزیر داخلہ کی قیادت میں حکومتی وفد کی جانب سے کئے گئے معاہدے پرعملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے منعقد کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی تمام تر تاریخ مذہب کو استعمال کر کے بحران زدہ نظام میں اقتدار کو رواں رکھنے کی پالیسی سے بھری پڑی ہے۔ اس بحران زدہ نظام کو چلانے کیلئے جمہوریت اور آمریت کا کھیل تواتر سے کھیلا جا رہا ہے۔ حکومتیں بنانے اور گرانے کیلئے بھی مذہب کا استعمال پاکستان میں معمول رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف نے بھی گزشتہ الیکشن مہم کے دوران مذہبی کارڈ کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کو دباؤ میں رکھنے کیلئے بھی بالادست قوتوں کی ایما پر مذہب کو استعمال کرتے ہوئے کئی روز تک ملک میں کاروبار زندگی کو تہس نہس کر دیا گیا تھا۔ جہاں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور کسی بھی مذہب یا فرقہ سے متعلق گستاخانہ اقدامات قابل مذمت ہیں اور آزادی اظہار کے نام پر محنت کش طبقے کو تقسیم کرنے اور سامراجی مقاصد کے حصول کا ہتھکنڈہ ہیں، وہیں مذہب کو محنت کش طبقے کو تقسیم کرنے، محنت کش طبقے کے شعور کو زچ کرنے اور بحران زدہ نظام کی پھیلائی گئی تباہ کاریوں، بیروزگاری، مہنگائی، بھوک، ننگ، افلاس، لاعلاجی، جہالت اور فرسودگی کے حل کے حوالے سے احتجاج کا راستہ اختیار کرنے کے عمل سے توجہ ہٹانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ محنت کش طبقے کو حال میں جینے اور مسائل سے متعلق سوال اٹھانے کی بجائے ماضی میں پناہ لینے پر مجبور کرنے کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔

موجودہ احتجاج ریاستی دھڑے بندیوں اور ٹوٹ پھوٹ کا اظہار بھی کر رہا ہے۔ فوجی اہلکاران کی دھرنے کے شرکا کے ہمراہ نعرے بازی کی ویڈیوز ہوں یا فوجی اہلکاران کی احتجاج کے حق میں ویڈیو بیانات کی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پرگردش ہو، یہ سب ریاست کے سب سے طاقتور اور منظم سمجھے جانے والے ادارے کے بارے شکوک و شبہات کو بھی جنم دے رہا ہے۔ ملک بھر میں جتنے بھی مقامات پر سڑکیں بند کر کے دھرنے دیئے گئے تھے سوائے 1 یا 2 مقامات کے کہیں بھی ایک سو سے زائد افراد موجود نہیں تھے، اکثر مقامات پر چند درجن ڈنڈا بردار افراد نے ہزاروں مسافروں کا راستہ روک رکھا تھا اور ریاست اس سب کے سامنے بے بس نظر آ رہی تھی۔ اس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ایک مصنوعی طاقت کے غلبے کو محنت کش طبقے کے شعور پر مسلط کیا جانا بھی مقصود ہے۔ ماضی میں اسی جماعت کے احتجاج کو چند گھنٹوں میں ریاست اس طرح سے ختم کر چکی ہے کہ کئی ماہ تک دوبارہ کوئی احتجاج نظر نہیں آیا، پھر جب ریاست کی ضرورت ہوئی تو احتجاج کی یہ طاقت پہلے سے زیادہ شدید اور خوفناک صورت میں منظر عام پر آ گئی۔

ماضی میں جن مذہبی فرقوں کو بالادست قوتوں کی طرف سے استعمال کیا جاتا رہا وہ تعداد میں کم تھے، حالیہ عرصے میں سب سے زیادہ تعداد کے حامل نسبتاً پرامن سمجھے جانے والے فرقے کو پرتشدد مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ ریاستی پشت پناہی کے تحت مسلط کئے جانے والے بعض گروہوں کا جبر اور خوف اس وقت تک مسلط رہا ہے جب تک ریاستی پشت پناہی موجود رہی، جونہی طاقتور حلقوں نے ہاتھ کھینچا بعض بڑ ے بڑے ناموں کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ ماضی قریب میں دفاع پاکستان کونسل سمیت بے شمار ایسی طاقتیں رہی ہیں جن کی طاقت سے معاشرے پر ایک خوف مسلط کیا جاتا رہا ہے۔

معاشرے پر خوف اور جبر کو مسلط کر کے مسائل سے توجہ ہٹانے اور لوٹ مار اور اقتدار کا سلسلہ جاری رکھنے کا طریقہ آزمودہ ضرور ہے لیکن ہمیشہ کارآمد رہنے والا بھی نہیں ہے۔ وحشت کے ذریعے سے مسائل سے توجہ ہٹا کر جس نظام کو جاری رکھنے کی گزشتہ 72 سال سے کوشش کی جا رہی ہے اس کا بحران اس قدر گہرا ہو چکا ہے کہ ماضی میں جن اقدامات سے کئی ماہ یا کئی سال تک حکمرانی کے سلسلے کو طوالت دی جا سکتی تھی اب ان اقدامات سے چند دن بھی یہ سہولت حاصل نہیں کی جا سکتی ہے۔

سماج پر وحشت مسلط کرنے کیلئے بھی ایک کنٹرول درکار ہوتا ہے، اس طرح کی کیفیت کو لمبا کرنا خود بالادست طاقتوں کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایک وقت میں اس خوف کی کیفیت کا خاتمہ کرنا مجبوری ہو جائے گا۔ مسائل پھر سے موجود رہیں گے، آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کے ذریعے مسائل میں مزید اضافہ ہوتا جائے گا اور مسائل سے توجہ ہٹانے کے یہ عارضی ہتھکنڈے لمبے عرصے سے حکمران طبقات کیلئے کارگر نہیں رہنے والے ہیں۔ مسائل زدہ محنت کش طبقہ دکھوں سے نجات کیلئے تاریخ کے میدان میں ضرور اترے گا اور سماج پر مسلط ہر مصنوعی خوف اور ریاستی طاقت کو کہیں خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔