خبریں/تبصرے

پی ٹی ایم کا پشاور جلسہ: علی وزیر سمیت گرفتار کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ

حارث قدیر

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) نے صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں منعقدہ جلسہ میں لاپتہ افراد کو عدالتوں کے سامنے لانے اور اپنے گرفتار دوستوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

رواں ماہ 7 فروری کو پشاور میں منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی ایم سربراہ منظور پشتین نے کہا کہ پاکستان حکومت کی اصلیت کو معلوم کرنے کیلئے ایک بین الاقوامی کمیشن تشکیل دیا جانا چاہیے تا کہ پشتونوں پر مسلط کی گئی جنگوں کی اصلیت واضح ہو سکے۔ دہشت گردی کا شکار ہونے والے اور دہشت گردی سے فائدہ اٹھانے والوں کو واضح کیا جانا چاہیے۔

انکا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم کے ممبران عدم تشدد کے حامی ہیں اور پر امن طریقے سے احتجاج کر رہے ہیں اس لئے انہیں پر امن احتجاج سے روکنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے۔

منظور پشتین نے پشتو میں کی گئی اپنی تقریر کے دوران اردو میں گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان، سندھ، گلگت بلتستان اور کشمیر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بھی ریاست جبر اور استبداد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، اس جبر اور ذلت کے خلاف ہمیں مل کر جدوجہد کرنا ہو گی تب ہی ہمیں فتح ملے گی۔ انہوں نے انگریزی میں گفتگو کرتے ہوئے بین الاقوامی شہریوں سے مطالبہ کیا کہ وہ پشتونوں کے حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لیں اور انکا ساتھ دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے تمام گرفتار ساتھیوں کو رہا کیا جائے اور لاپتہ افراد کو بازیابی کیا جائے۔

پی ٹی ایم نے ارمان لونی کی دوسری برسی کے موقع پر پشاور میں یہ اجتماع منعقد کیا تھا۔ دو سال قبل بلوچستان میں ایک مظاہرے کے دوران انکی ہلاکت ہوئی تھی۔ اس وقت پولیس کا کہنا تھا کہ انہیں دل کا دورہ پڑا تھا لیکن پشتون تحفظ موومنٹ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پولیس تشدد کے ذریعے انہیں ہلاک کیا گیا۔

جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ثنا اعجاز اور دیگر نے ارمان لونی کے قتل میں پولیس کو ملوث قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا۔ انکا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم پاکستانی آئین کے تحت انسانی حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کر رہی ہے، لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش کرنے، مسلح افواج کے کارروائیوں کا خاتمہ، اپنے وسائل پر اختیار کا مطالبہ کر رہی ہے۔

پی ٹی ایم رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ وہ آئین کے تحت اپنے حقوق چاہتے ہیں لیکن پھر بھی ان کے دوست گرفتار ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ کے پی کے پولیس نے پشتون تحفظ موومنٹ کے اس اجتماع کر روکنے کیلئے راستے بند کئے اور لوگوں کو گرفتار کیا لیکن پھر بھی لوگ جلسے میں آئے اور پر امن طریقے سے اپنے مطالبات پیش کئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت فی الفور پشتون تحفظ موومنٹ کے ممبران کو رہا کرے۔ کراچی میں ہمارے متعدد رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ”ہم جنگوں کا احتساب چاہتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کے وہ ٹرتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن بنانے سے کیوں ڈرتے ہیں۔ کمیشن قائم کیا جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کس نے کیا غلطی کی“۔

انہوں نے کہا کہ علی وزیر کا قصور یہ ہے کہ اس نے سچ بولا ہے، ظلم اور نا انصافی کرنے والوں کے خلاف بات کی ہے۔ کراچی میں ہمارے دیگر ساتھیوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ لیکن اس جبر اور تشدد کے ذریعے ہمیں سچ کہنے سے روکا نہیں جا سکتا۔

پی ٹی ایم رہنما سید عالم محسود نے خطاب کے دوران علی وزیر کی گرفتاری کے محرکات پر بات کی اور علی وزیر کو فوری طورپر رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔

قبل ازیں ایک پریس کانفرنس کے دوران علی وزیر کی تصاویر اور نام لکھے بغیر دیگر ساتھیوں کے ناموں اور تصاویر پر مبنی بینر آویزاں کر کے انکی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس پر علی وزیر کے ساتھیوں اور ہمدردوں کی طرف سے شدید تنقید کی گئی تھی اور مختلف سوالات بھی اٹھائے گئے تھے۔

علی وزیر جو پی ٹی ایم کے اہم رہنماؤں میں سے ایک ہیں اور پی ٹی ایم کے بڑے جلسوں کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کرنے کے علاوہ ریاست جبر اور استبداد کے خلاف علی وزیر نے سب سے جرات مندانہ کردار ادا کیا ہے۔ وہ وزیرستان سے بھاری اکثریت سے ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ اس وقت وہ کراچی کے مقام پر دو ماہ قبل پی ٹی ایم کا جلسہ منعقد کرنے اور ریاستی اداروں کے خلاف تقریر کرنے کے الزام میں گرفتار ہیں۔ ان کے ساتھ گرفتار دیگر ساتھیوں کی ضمانتیں منظور ہوگئی ہیں لیکن علی وزیر کی درخواست ضمانت مسترد ہو چکی ہے۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔