خبریں/تبصرے

سائنس کالج لاہور میں جمعیت کا تشدد: طالبعلم کو چھت سے نیچے پھینک دیا، 3 زخمی

لاہور (جدوجہد رپورٹ) پاکستان کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے گورنمنٹ سائنس کالج میں اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے 3 روز قبل ہاسٹل پر حملے اور ہنگامی آرائی کے دوران 3 طلبہ زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 2 کی حالت بدستور تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

’نیوز 24‘ کے مطابق جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے گورنمنٹ سائنس کالج وحدت روڈ لاہور میں ہنگامہ آرائی کی گئی اور طلبہ تنظیم کے کارکنوں نے کالج کے ہاسٹل میں طلبہ پر تشدد کیا، جس کے نتیجے میں 3 طلبہ زخمی ہوئے ہیں۔

شعبہ کیمسٹری کے طالبعلم محمد دلاور کو جمعیت کے کارکنوں نے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ہاسٹل کی چھت سے نیچے گرا دیا جس کی وجہ سے اسکی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے، تشدد کی وجہ سے ایک طالبعلم کا مثانہ بھی پھٹ گیا ہے۔ زخمی طالبعلم کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان مسلح تھے اور کالج پرنسپل کی بد انتظامی کے باعث طلبہ کو اس طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

طلبہ ذرائع کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ نے ہاسٹل میں یہ حملہ اور ہنگامہ طالبعلموں کی جانب سے تنظیم کی رکنیت نہ کئے جانے کی وجہ سے کیا گیا۔

دوسری طرف طلبہ تنظیموں جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن، پروگریسو سٹوڈنٹس کلیکٹیو، پروگریسو سٹوڈنٹس فیڈریشن، ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ اور دیگر نے جمعیت کی غنڈہ گردی کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فی الفور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

آر ایس ایف کے مرکزی آرگنائزر اویس قرنی نے کہا کہ جمعیت کی فسطائیت بے زور اور کھوکھلی ہو چکی ہے جس کو تشدد کی بنیاد پر بحال کرنے کی ناکام کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے جمعیت کی غنڈہ گردی کی مذمت کرتے ہوئے پرنسپل سائنس کالج سمیت انتظامیہ و ریاستی اداروں میں جمعیت کی پشت پنہائی کرنے والوں کی فوری معطلی کا مطالبہ کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جمعیت جیسے ناسور کو صرف طلبہ یونین بحالی سے ہی حتمی شکست دی جا سکتی ہے۔