خبریں/تبصرے

طالبان نے 3 ہزار ہزارہ خاندانوں کو دیہات خالی کرنے کا حکم دیدیا

لاہور (جدوجہد رپورٹ) افغانستان کے صوبہ دائیکندی میں طالبان کی جانب سے مبینہ طور پر 3 ہزار سے زائد ہزارہ خاندانوں کو اپنے گھر بار ہمیشہ کیلئے چھوڑنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔

’افغانستان فیکٹ چیک‘ نامی ایک ٹویٹر صارف نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”صوبہ دائیکندی کے ضلع پٹو گیزاب کے شیعہ ہزارہ باشندوں کو طالبان نے حکم دیا ہے کہ وہ 9 ایام کے اندر اندر اپنے گھر ہمیشہ کیلئے چھوڑ دیں ورنہ آپ کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اسکی شکایت نہ کیجئے گا۔“

انسانی حقوق کے کارکن سلیم جاوید نے بھی مذکورہ ویڈیو کو ٹویٹ کرتے ہوئے یہ اطلاع دی ہے کہ طالبان نے 3 ہزار ہزارہ خاندانوں کو 9 ایام کے اندر اندر گھروں کو چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ”طالبان کے ہاتھوں جبری بے دخلی، جبر ی نقل مکانی، لوٹ مار اور ٹارگٹ کلنگ جاری ہے اور یہ سب میڈیا پربھی رپورٹ نہیں ہو رہا ہے۔“

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز سے ہی دائیکندی صوبہ سے ہزارہ افراد کی طالبان کے ہاتھوں گرفتاریوں اور تشدد کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ 4 ستمبر کو بامیان ٹی وی کی جانب سے رپورٹ کیا گیا تھا کہ مزید 11 ہزارہ افراد کو طالبان کی جانب سے گرفتار کیا گیا ہے۔

یاد رہے، طالبان نے اپنے گذشتہ دور اقتدار میں بھی ہزارہ آبادی کا قتل عام کیا تھا۔