خبریں/تبصرے

’نیا افغانستان‘: خوراک کیلئے شہری گھریلو سامان فروخت کرنے پر مجبور

لاہور (جدوجہد رپورٹ) افغانستان میں نقدی کی کمی، بیرونی امداد کے خاتمے اور روزگار کی بندش کی وجہ سے شہری خوراک کے حصول کیلئے گھریلو سامان فروخت کرنے پر مجبورہو گئے ہیں۔ عالمی اداروں نے افغانستان میں بھوک اور غربت میں اضافے کے خدشات کا اظہار کر دیا ہے جبکہ آئندہ سال کے وسط تک 97 فیصد افغان شہریوں کے خط غربت سے نیچے گر جانے کے خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے۔

’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق کابل کے چمن حضوری محلے کا علاقہ ریفریجریٹرز، کشن، پنکھے، تکیے، کمبل، چاندی کے برتن، پردے، بستر، گدے اوردیگر گھریلو قیمتی ساز سامان سے بھرا ہوا ہے، یہ سامان شہری یہاں فروخت کرنے کیلئے لے آتے ہیں تاکہ وہ اپنے خاندانوں کیلئے خوراک حاصل کر سکیں۔

افغان دارالحکومت کابل میں گزشتہ 20 سال کے دوران خاندانوں کی طرف سے تعمیر و حاصل کی گئی ہر شے کو آج خوراک کے حصول کیلئے ارزاں نرخوں فروخت کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک شہری 48 ہزار میں خرید کئے گئے قالین محض 5 ہزار افغانی میں فروخت کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔

طالبان کی جانب سے افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے افغان شہریوں کو نقدی کے بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عالمی بینک، آئی ایم ایف اور امریکی مرکزی بینک نے افغانستان کی بین الاقوامی فنڈز تک رسائی ختم کر دی ہے۔ پورے افغانستان میں بینک بند تھے اور اے ٹی ایم مشینوں سے نقدی نہیں مل رہی تھی۔

تاہم اب بہت سے بینک تو کھل چکے ہیں لیکن ہفتہ میں 20 ہزار افغانی کی حد مقرر کی گئی ہے۔ سیکڑوں مرد و خواتین اپنی ہی رقوم نکلوانے کیلئے دن بھر بینکوں کے باہر قطار میں کھڑے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

تاہم اکثریت ایسے خاندانوں کی ہے جن کے پاس مالیاتی اداروں کے باہر انتظار کا کوئی آپشن نہیں ہے۔ شکراللہ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ایک ہی گھر میں جمع ہونے والے ان کے خاندان کے 33 افراد کیلئے آٹا، چاول اور تیل خریدنا ہے اور اس کیلئے گھریلو اشیا کی فروخت کے علاوہ کوئی راستہ موجود نہیں ہے، لیکن یہ کب تک اسی طرح چلے گا اس سے متعلق سوچتے ہوئے بھی خوف آتاہے۔

دوسری طرف اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں غربت میں مزید 25 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئندہ سال کے وسط تک 97 فیصد سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے جا سکتی ہے۔

گھریلو سامان کی خریدو فروخت کیلئے فٹ پاتھ پر عارضی دکانیں قائم ہو چکی ہیں۔ خوراک اور ادویات کی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے گھر میں موجود ہر شے کو اونے پونے داموں فروخت کرنے کا چلن عام ہو رہا ہے۔

وزارتیں اور دفاتر بند ہیں، بے روزگاری بڑھ گئی اور قیمتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ دوسری طرف لوگ جب اپنا سامان فروخت کرتے ہیں تو اس میں انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔