تاریخ

طالبان کے ہاتھوں میرے والد کا بہیمانہ قتل، امریکہ نے مدد کی اپیل نظر انداز کی

مسکا نجیب اللہ

(مسکا نجیب اللہ افغانستان کے سابق صدر ڈاکٹر نجیب اللہ کی صاحبزادی ہیں۔ ڈاکٹر نجیب اللہ کی برسی کے موقع پر انہوں نے یہ مضمون ’گارڈین‘ میں لکھا ہے، جسے ’جدوجہد‘ کے قارئین کیلئے ترجمہ کیا گیا ہے)

27 ستمبر 1996ء کی رات ہمیشہ کے لئے ایک لمبی رات ہونے جا رہی تھی۔ میں مڈ ٹرم امتحانات کی تیاری کیلئے جاگ رہی تھی۔ میری والدہ نے یہ خبر سنی کہ میرے والد کو کابل میں اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ سے باہر نکال دیا گیا ہے۔

پہلے تو میں خوش ہوئی کہ میرے والد، افغانستان کے سابق صدر نجیب اللہ بالآخر اپنے خاندان کے ساتھ دوبارہ ملیں گے۔ وہ میرے چچا کے ہمراہ 16 اپریل 1992ء کو انکی حکومت کی فورسز کی شکست کے بعد سے اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ میں پناہ لئے ہوئے تھے۔ ان کا استعفیٰ اور روانگی اقوام متحدہ کی منصوبہ بندی کا حصہ تھا، جس کا مقصد سول وار ختم کرنا اور امن پسند اتحادی حکومت کے قیام کے لئے راہ ہموار کرنا تھا، لیکن اس اقدام کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خلا نے افغانستان کو انتشار اور افراتفری میں دھکیل دیا۔

4 سال تک میری ماں، بہنیں اور میں اپنے والد کا انتظار کرتے رہے اور اب وہ گروہ، جو طالبان کے طور پر جانا جاتا ہے، افغان دارالحکومت کے قریب پہنچ چکا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ میرے خاندان کا دوبارہ اکٹھے ہونا بس کچھ ہی دن دور تھا۔ جب میں والد کیلئے اپنی بچگانہ محبت کی وجہ سے مثبت سوچ رہی تھی تب میری والدہ افق پر چھائی تلخ حقیقت کو محسوس کر رہی تھیں۔ وہ ساری رات خبریں دیکھتی رہیں، انکی آنکھوں میں ایک خوف تھا اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ ”میری چھٹی حس کہہ رہی ہے کہ وہ نہیں آئیں گے۔“

انٹرنیٹ کی وجہ سے دنیا کے جڑ جانے سے قبل 1990ء کی دہائی میں طالبان کے بارے میں بہت کم معلومات تھیں۔ ریڈیو کی رپورٹوں میں ملک کے جنوب مغرب میں طالبان کی اہم کامیابیوں کے تذکرے تھے، یہ بتایا جا رہا تھا کہ عسکریت پسند گروپ ”امن، سکیورٹی اور استحکام“ کے لئے لڑ رہا ہے۔ اس رات میں نے سوچا کہ ہم جلد ہی اپنے والد سے ملیں گے، طالبان کے کابل میں داخل ہونے سے کئی گھنٹے قبل ہم نے ان سے بات کی۔ ان کی آواز میں کچھ بھی غیر معمولی نہیں تھا، یہ ایک عام گفتگو تھی جو مجھے کبھی نہیں بھول سکتی۔ وہ گفتگو لاکھوں میں ایک تھی، لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

رات کے ابتدائی پہر میں جب طالبان دارالحکومت میں داخل ہوئے توانہوں نے ”خصوصی مہمان“ سے ملاقات کرنے کیلئے اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ کے دروازوں پر دستک دی۔ گھنٹوں کے بعدایک بریکنگ نیوز چلنا شروع ہوئی کہ ”سابق افغان رہنما، صدر نجیب اللہ کو پھانسی دے دی گئی۔“ میں نہیں جانتی تھی کہ اس لفظ کا مطلب کیا ہے۔ میں نے اپنی بہن کی طرف دیکھا لیکن اس کے جذبات سے عاری چہرے نے مجھے مزید گھبراہٹ میں دھکیل دیا۔ میں جلدی سے لغت لے آئی اور حرف ’E‘ کا صفحہ کھولا تا کہ ’Execute‘ کا معنی دیکھ سکوں۔

یہ پہلا موقع ہے جب میں اپنی ذاتی کہانی شیئر کر رہی ہوں۔ صرف اس لئے نہیں کہ میں افغانستان کے سابق صدر کی بیٹی ہوں بلکہ اس لئے کہ جو کچھ میرے ملک میں اس وقت ہو رہا ہے وہ 25 سال قبل آج کے دن جو کچھ ہوا تھا اس سے کتنا مماثل ہے۔ 25 سال قبل آج کے دن میری اور میری نسل کے بہت سے دوسرے لوگوں کی زندگی ہمیشہ کیلئے تبدیل ہو گئی اور یہ تبدیلی اچھے کیلئے نہیں تھی۔

میرے والد کے صدر بننے سے قبل کابل میں ہماری زندگی بے نظیر تھی۔ ہم ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں ایک متحرک پڑوس میں رہتے تھے جسے ’مکرویان‘کہتے تھے۔

میرے بچپن کے ابتدائی سالوں میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب میرا خاندان ایک دوسرے کے ساتھ تھا اور ہم خاندان کے 5 ارکان تھے۔ ہم زیادہ وقت افتا خانہ (سورج والے کمرے) میں گزارتے تھے۔ شام کے وقت ابا گھر آتے تھے اور ہم اکٹھے رات کا کھانا کھاتے، دن بھر کی سرگرمیوں پر بات چیت کرتے تھے، جن میں سکول، کام کاج اور گھر کے بڑوں نے جو کچھ خبروں میں سنا ہوتا تھا وہ سب کچھ زیر بحث آتا۔ یہ سب کچھ اسوقت بدل گیا جب ابا صدر بن گئے۔

ہم اپنے معمولی مگر آرام دہ اپارٹمنٹ سے پرتعیش صدارتی محل ’آرگ‘میں منتقل ہو گئے۔ ہماری نئی رہائش گاہ، جس پر بڑی تعداد میں محافظ تعینات تھے اور محفوظ تھی، نے مجھے اپنے بہن بھائیوں سے الگ کر دیا اور ہر اس چیز سے الگ کر دیا جسے ہم کبھی جانتے تھے۔ شام کے وقت کھیل کے میدانوں میں ہونے والے اجتماعات، ببل گم اور غباروں کیلئے مارکیٹ کی طرف بھاگنا وغیرہ سب ختم ہو گیا۔ محض 4 سال کی عمر میں اپنے نئے گھر میں اپنا آپ محصور محسوس ہو رہا تھا۔ نئے گھر میں کھلی جگہ بہت تھی لیکن ساتھ کھیلنے کیلئے کوئی نہیں تھا۔ جب بدلتے موسموں کا دور آیا تو ہم نے ابا کو خال خال ہی دیکھا۔ وہ ہمیشہ مصروف اور ہم سے دور کام پر رہتے۔ آخر کار نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ خاندان کے ساتھ ایک جگہ پر کھانا کھانے کا موقع بھی کبھی کبھار ہی ملتا تھا۔

ابا ایک بڑے قد کاٹھ کے حامل شخص تھے، انہیں اپنی غالب شخصیت کی وجہ سے ’نجیب دی بل‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہ ایک رعب دار شخصیت اور گرجدار آواز کے حامل تھے، لیکن میرے لئے وہ صرف ایک چھوٹی بچی کے والد کی طرح تھے، وہ میرے ہیرو تھے۔ 1986ء میں ایک رات کو ’مجاہدین‘ نے کابل کے قریب کارگاہ جیل کے قریب ایک آرمی کے ڈپو کو اڑا دیا۔ میں خوف سے چلائی، کیونکہ دھماکوں سے شہر گونج رہا تھا۔ انہوں نے مجھے ایک کمبل میں لپیٹ لیا اور مجھے اپنے بازو ؤں میں چھپا لیا۔ انہوں نے کہا کہ ”تم میرے ساتھ محفوظ ہو۔ تمہیں کوئی بھی نقصان نہیں پہنچائے گا“ اور میں نے ان پر یقین کر لیا۔ 1996ء میں جب طالبان نے کابل کی طرف مارچ شروع کیا تو انہیں محفوظ رکھنے کیلئے کوئی بھی نہیں تھا۔

ابا کی اس ظالمانہ طریقے سے ہونے والی موت کی تصویر مجھے اس دن سے اب تک پریشان مسلسل کر تی ہے۔ ایک لمحے کیلئے دیکھوں یا نہ دیکھوں، لیکن یہ آخری موقع تھا جب میں نے انہیں دیکھا تھا، ایک ٹریفک پول سے لٹکے ہوئے میرے ابا اور ان کے بھائی کو پوری دنیا کو دکھایا گیا۔ مجھے ایسے لگا کہ طالبان نے ان کی لاش کو ایک تماشہ بنا دیا، مجھے اپنا آپ بے یار ومددگار اور تضحیک کا شکار محسوس ہونے لگا۔ 13 سال کی عمر میں رات بھر میں ہی میں جوان بن گئی۔ میں نے اپنا باپ، اپنا گھر اور افغانستان واپس جانے کی امید کھو دی۔

لوگ تصور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جلا وطنی میں رہنے والے افغان اس وقت کیا محسوس کرتے ہیں۔ جو شخص اس اذیت سے گزرا نہیں ہے اسے جلا وطنی اور بے گھری کے احساس سے روشناس کروانا بہت مشکل کام ہے۔ اگرچہ آپ محفوظ ہیں، لیکن آپ بے گھر ہیں۔ حاصل کرنے کیلئے بہت کچھ ہے، برداشت کرنے کیلئے بہت کچھ ہے اور بعض اوقات آپ کو یہ سب بے مقصد سا محسوس ہوتا ہے۔ جب آپ امید کی کہانیاں سنتے ہیں تو خوشی کی کچھ چمک محسوس ہوتی ہے۔ آپ خود کو زندہ اور حوصلہ مند محسوس کرتے ہیں اور تصور کرتے ہیں کہ ملک میں معمول کے حالات کس طرح کے لگیں گے۔ آپ واپسی کے بعد اپنی زندگی کے بارے میں تصور ات سے سرشار ہوتے ہیں۔ ایک ’جگسا پزل‘کی طرح آپ اپنے خاندان کی پرانی کہانیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ٹکڑوں کی طرح جوڑتے ہیں اور مستقبل کا تصور کرتے ہیں۔ اس کے بعد یہ سب کچھ اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب تنازعات کا ایک نیا چکر شروع ہو جاتا ہے۔

1992ء میں میرے والد نے امریکہ سے اپیل کی کہ افغانستان میں اسلامی بنیاد پرستی کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے افغانستان کی مدد کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ ”اگر بنیاد پرستی افغانستان میں آتی ہے تو سالوں تک جنگ جاری رہے گی۔ افغانستان منشیات کی سمگلنگ کا عالمی مرکز بن جائیگا۔ افغانستان دہشت گردی کا مرکز بن جائیگا۔“

ان کے انتباہات کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ فروری 1989ء میں افغانستان سے سوویت افواج کے انخلا کے ساتھ ہی تقریباً تمام مغربی ممالک نے اپنے سفارت خانے چھوڑ دیئے اورمیرے والد کی حکومت کو بے دخل کر دیا۔ انہیں ایک کمیونسٹ کٹھ پتلی، ایک قاتل اور ایک غدارقرار دیا گیا، انہوں نے اس واحد جنگ میں اپنے آپ کو اکیلا پایا۔ ایک دہائی کے بعد انکی پیش گوئیاں سچ ثابت ہوئیں۔ نائین الیون کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کیلئے میرے ملک پر حملہ کر دیا۔ میں حیران ہوں کہ کیا دنیا نے انہیں سنا تھا، یا یہ سب ان کے کہے الفاظ سے کچھ مختلف ہو گیا ہے؟

افغانستان اور افغانوں کوہمیشہ غلط سمجھا گیاہے۔ معزز مبصرین بہادر اور بربر قبائلیوں کے بارے میں بات کرتے ہیں جو ہمارے پہاڑوں میں گھومتے ہیں اور یہ کہ ہمیں متحد کرناکتنا مشکل ہے۔ یہ ایک فرسودہ سوچ ہے۔ میرے ملک کا سانحہ جینز (Genes) کی وجہ سے نہیں، جیو پولیٹکس کی وجہ سے ہے۔ ہم مسلسل غیر ملکی حکمرانوں کی کرائے کی فوج کے ہاتھوں دھوکہ دہی کا شکار ہوتے رہے ہیں اور تمام افغان امن کے خواہشمند ہیں۔

انفرادیت اور انفرادی اظہار ایک بار پھر طالبان کی طرف سے یرغمال بنا لیا گیا ہے، بہت سے افغان بھاگ رہے ہیں۔ انہیں اپنی شناخت ایک ایسے گروہ کے ہاتھوں چھن جانے کا خوف ہے جو انکی نمائندگی نہیں کرتا اور ان سے بھاگتے ہوئے وہ سب کچھ بھی چھوڑ رہے ہیں جو حقیقت میں وہ ہیں۔ میرے خاندان کی طرح بہت سے لوگ یادوں کے سوٹ کیس اور واپسی کی امید کے ساتھ از سر نو اپنی زندگیاں شروع کریں گے۔ قوم کے ہونہاروں کا کیا ہوگا؟ نیویارک شہر میں آپ کا اگلا ’اوبر ڈرائیور‘؟یا کلبرن کی کارنر شاپ میں کباب بیچنے والا؟ ان کا کیا ہو گا جو وہیں گھروں میں رہ گئے؟ سڑکوں پر کتنی لڑکیوں اور عورتوں کو دیکھیں گے؟ کیا بچے سکول جائیں گے؟ کیا انہیں اپنے والدین کا بڑھاپا دیکھنے کا موقع مل سکے گا؟

جمہوریت نے افغانستان میں امن نہیں لایا۔ نہ ہی دوحہ معاہدے نے امن لایا ہے جو ایک غیر ملکی اور غلط ڈیل تھی، جس نے عام لوگوں کی آواز کو نظر انداز کیا۔ ان تمام مصیبتوں کے باوجود افغانوں کا سفر بہت طویل ہے۔ پرانے طریقے موجودہ دنیا کیلئے کارگرنہیں ہیں، بہت سے افغانوں کو زندگی سے کچھ مختلف ہونے کی توقع ہے۔ اس سے بھی زیادہ جو کچھ انہوں نے 25 سال قبل کیا تھا۔

افغان ہونے کا مطلب اب دہائیوں کے تنازعات اور تشدد کے دوران تبدیل ہو چکا ہے۔ شاید اب ہمارے لئے مناسب وقت ہے کہ دنیا کو یہ باور کروایا جائے کہ ہم حقیقت میں کون ہیں، ہماری مشترکہ اقدار، اتحاد اور خواب کیا ہیں۔ افغانستان ’سلطنتوں کا قبرستان‘نہیں ہے، نہ ہی پناہ گزینوں کی قوم ہے۔ ہم بے گھر ہیں لیکن جلد واپس آئیں گے۔