دنیا

یکساں قومی نصاب والو: افغانستان سے کچھ سیکھو!

پرویز امیر علی ہود بھائی

جب ملا عمر کے طالبان دور کا خاتمہ ہوا تو اس کے بعد افغان بچے کیا پڑھتے رہے؟ ان کے سکولوں کا نصاب کیا تھا؟ اور سب سے اہم بات تو یہ کہ پی ٹی آئی کے متنازعہ یکساں قومی نصاب سے یہ کیسے مختلف ہے؟ جب طالبان حکومت نے گزشتہ ہفتے لڑکوں کے سکولوں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دی تو یہ سوالات اچانک میرے ذہن میں ابھرے۔

فوری جوابات دستیاب نہیں تھے کیونکہ طالبان نے افغان وزارت تعلیم کی ویب سائٹ کو معطل کر دیا ہے لیکن خوش قسمتی سے میں گوگل کی مدد سے افغان سکولوں کی کئی سو درسی کتب تک رسائی حاصل کر سکا۔ یہ کتابیں مختلف ویب سائٹس پر بکھری ہوئی ہیں (اس لنک پر کچھ کتابیں دیکھی جا سکتی ہیں)۔ ان کے پرنٹ شدہ ورژن سکولوں میں مفت تقسیم کیے گئے تھے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ درسی کتابیں ترقی پذیر ممالک میں تعلیم فراہم کرنے کے لیے کتنی اہمیت کی حامل ہیں۔

ایک عام پاکستانی کی طرح میں بھی یہی سمجھا تھا کہ افغانستان کا تعلیمی معیار کچھ خاص نہیں ہو گا۔ آخر وہ ایک بڑی حد تک قبائلی اور پسماندہ ملک ہے جس پر بیرونی حملے ہوتے ر ہے ہیں اور جدھر لاتعداد خا ندانی، قبالی اور مذہبی جھگڑے روز کا معمول ہیں۔ اس کی دو قومی زبانیں ہیں اور 6 سے 8 علاقائی زبانیں۔ ادھر کا نظام تعلیم تو بالکل چوپٹ ہو گا، پاکستان سے بھی گیا گزرا ہو گا۔

مجھے جلد اندازہ ہو گیا کہ میرا یہ خیال بالکل غلط تھا۔ درسی کتابوں کا آن لائن جائزہ لیتے ہوئے میں اتفاقی طور پر ایسی دنیا سے متعارف ہوا جس سے پاکستانی ماہرین تعلیم نا واقف ہیں۔ ذیل میں میں اپنے تاثرات بیاں کرونگا۔ البتہ دری اور پشتو کو میں صرف اُردو رسم الخظ کے ذریعے سے ہی کچھ کچھ پڑھ سکتا ہو ں مگر مجھے یقین ہے کہ وہ قارئین جو یہ زبانیں جانتے ہیں میری بات کی تائیدکرینگے۔

سب سے پہلے میں نے کلاس ایک تا 12 تک کی سائنس کی کتابوں کا جائزہ لیا۔ ان میں ریاضی، طبیعات، کیمیا، حیاتیات اور کمپیوٹر سائنس شامل ہیں۔ جیالوجی کو دسویں جماعت سے پڑھایا جاتا ہے، جو ایک غیر معمولی اضافہ ہے اور واضح طور پر اس بات کا اشارہ ہے کہ افغانستان کا مستقبل معدنی دولت سے وابستہ ہے۔ نمائشیں منظم گراف، اشکال اور رنگین عکاسی کے ساتھ واضح اور خوشگوار دکھائی دیتی ہیں۔ اگرچہ باب کے اختتام میں دئیے گئے سوالات ’اے اور او لیول‘کی کتابوں کے مقابلے میں آسان ہیں، لیکن مواد اور معیار مقابلے کا ہے۔

پاکستانی درسی کتب ان سے بہت مختلف ہیں۔ برسوں سے میرے ساتھیوں اور میں نے اپنے تعلیمی حکام سے التجا کی ہے کہ وہ مقامی طور پر شائع ہونے والی درسی کتب پر نظر ثانی کریں۔ سب میں تعلیمی مواد ناقص ہے، تدریسی لحاظ سے معیوب اور پریزنٹیشن ناخوشگوار ہے۔ 2015ء میں میں نے ڈان اخبار میں ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ” یہ کتابیں جلا دو“ لیکن اس سے کوئی بہتری نہ ہوئی۔

اس طرح کی کتنی ہی درخواستیں بے نتیجہ ثابت ہوئیں اور پاکستانی اسکول کی درسی کتابیں دنیا کی ناقص ترین کتابیں ہی رہیں۔ لمز (LUMS) کے سابق ڈین ڈاکٹر انجم الطاف نے حال ہی میں کچی جماعت کے لئے تیار کئے گئے ریاضی کے قاعدے کا تجزیہ کیا۔ یکساں قومی نصاب کے رہنما خطوط کے تحت لکھا گیا یہ قاعدہ چند ہفتے قبل ہی تمام نجی و سرکاری اسکولوں پر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے پانچ حصوں پر مشتمل صفحہ بہ صفحہ جائزہ لینے کے بعد ڈاکٹر انجم الطاف کا کہنا ہے: ”یہ قاعدہ بالکل نامناسب اور غیر معیاری ہے۔ اس سے زیادہ خراب قاعدہ لکھنے کے لئے بہت زیادہ کوشش کرنی پڑے گی۔ بچوں کو یہ پڑھانا سراسر ظلم ہے گو ممکن ہے کچھ بچے اس ظلم سے بچ نکلیں گے۔“

دوم: افغانستان کی فرقہ وارانہ تقسیم کو پہچاننا اور ہر مُلاکو من مرضی سے روکنے کے لیے، اسلامی علوم (حنفی) کو اسلامی علوم (جعفری) سے الگ پڑھایا جاتا ہے۔ مذہبی معاملات کو سختی سے سیکولر مضامین سے باہر رکھا گیا ہے لیکن مذہبی نصابی کتب جامع ہیں۔ وہ قرآن، سیرت النبی، اخلاقیات، تفسیر، تجوید، فقہ وغیرہ سکھاتے ہیں۔ مدرسوں کیلئے خصوصی کتب مرتب کی گئی ہیں جن میں ریاضی، سائنس، انگریزی اور عالمی تاریخ شامل ہیں۔ تاہم وہ عام اسکولوں کے مقابلے میں آسان اور کم تفصیلی ہیں۔

یہ دو سطحی نظام اور مذہبی معاملات کو مذہبی کتابوں تک محدود رکھا جانابہت معقول ہے۔ پاکستان کا یکساں قومی نصاب اس کے بالکل برعکس ہے: یہاں مذہبی موضوعات اردو، انگریزی اورمعلومات عامہ کی کتابوں میں ہر طرف پھیلائے گئے ہیں۔ لگتا ہے بے ہوشی کے عالم میں مدارس اور عام اسکولوں کا نصاب گڈ مڈ کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ تمام طلبہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ جدید دنیا کیسے کام کرتی ہے لیکن مدرسوں کے 99 فیصد طلبہ کبھی بھی ریاضی یا سائنس کو پیشہ وارانہ طور پر استعمال نہیں کریں گے۔ تو عام سکول اور مدرسے کے لئے ایک سی کتابیں کیوں استعمال کریں اور سارے طلبہ کو ایک ہی امتحان دینے پر کیوں مجبور کریں؟ اس کا مطلب ہے کہ پی ٹی آئی حکومت ایسا نصاب تیار کر رہی ہے جو معیار میں پہلے سے رائج نصاب سے بھی نیچے ہے۔

تیسرا: ایک کثیرالقومی ملک کے اندر ایک افغان شناخت بنانے کی کوشش میں سابق حکومتوں نے ایک زبان بولنے والوں کو دوسری زبان کی بنیادی باتیں سکھانے پر زور دیا تھا۔ کلاس 1تا 12 تک دری کے ذریعے پشتو سکھانے کیلئے اور اسی طرح پشتو کے ذریعے دری سکھانے کیلئے دری/عربی رسم الخط استعمال کیا جاتا ہے۔ کلاس 1 سے 9 تک دری اور پشتوعلاقائی زبانیں بلوچی، ازبک، تاجکی، ترکمان، عربی اور پاشائی پڑھانے کیلئے بھی استعمال ہوتی ہیں۔

اس کے برعکس 1947ء میں بنگالی سے شروع کرتے ہوئے پاکستان نے مقامی زبان سیکھنے کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ اردو زبان کو استعمال کرتے ہوئے سندھی، پشتو، بلوچی، پنجابی، ہندکو، سرائیکی، براہوی، شینا یا کشمیری پڑھانے کے لیے سرکاری طور پر شائع ہونے والی کتاب کہاں سے مل سکتی ہے؟ اس کے بجائے اردو سب پر مسلط کی گئی۔ لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ زیادہ تر سیاسی رہنماؤں اور عہدیداروں کی کسی ایک زبان پر بھی گرفت نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ لوگ انگریزی اور اردو کا ناخوشگوار مرکب بنانے پر مجبور ہوتے ہیں جسے اکثر منگلیش/اردوش کہتے ہیں۔

کوئی نہیں جانتا کہ ہزاروں، سرکاری طور پر مجاز، افغان درسی کتب کس نے لکھیں اور تیار کیں۔ مستثنیات کو چھوڑ کر مصنفین کے نام بھی غائب ہیں۔ کیا یہ افراد غیر ملکی تھے؟ جتنا زیادہ مقامی مواد موجود ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ممکن نہیں۔ شاید سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کوئی کریڈٹ یا فنڈنگ (کیایہ یو ایس ایڈ کی تو نہیں تھی؟) کے ذرائع نہیں بتائے گئے ہیں۔

ایک اور قابل ذکر بات یہ کہ ہر کتاب میں تاریخ اشاعت ہجری 1398 درج ہے۔ جس کا مطلب ہے یہ 1978ء میں سوویت حملے سے ایک سال پہلے مرتب ہوئیں لیکن اعلیٰ معیار کی الیکٹرانک پرنٹنگ ٹیکنالوجی بتاتی ہے کہ وہ حال ہی میں شائع ہوئی ہیں۔ شائد صحیح تاریخ چھپانے کا مقصد یہ ہو کہ ان کتابوں کو زیادہ قابل قبول بنایا جائے۔

کیا موجودہ درسی کتب طالبان کے افغانستان میں استعمال ہوتی رہیں گی؟ شاید ہاں! ایک تو تاریخ کی درسی کتابیں 1996ء سے 2001ء کے دوران طالبان کے مظالم کا زیادہ تذکرہ نہیں کرتیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کابل کے موجودہ جنگجو حکمران مستقبل قریب میں معیاری تعلیمی مواد نہیں بنا سکتے۔ ہزاروں محنتی، ذہین افغان اساتذہ اور ایڈیٹرز نے بہت زیادہ محنت سے یہ سب بنایا ہے جو اس وقت موجود ہے۔ شائد ان میں سے زیادہ تر اب تک فرار ہو گئے ہوں گے۔

کرزئی اور غنی کی حکومتیں کمزور اور کرپٹ تھیں۔ گویہ حکومتیں ”مصنوعی طور پر پال پوس کر زندہ رکھی گئی“ لیکن پھر بھی انہوں نے افغانستان کی آنے والی نسلوں کے لیے ایک ٹھوس میراث چھوڑی ہے۔ ہاں، یہ سب امریکا اور یورپ کی دی ہوئی امداد سے ممکن ہو سکا۔ لیکن سوچئے! آخر پاکستان بھی تو ماضی میں بارہا امریکی امدادسے مستفید ہوتا رہا ہے۔

اس ساری گفتگو کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ پاکستان کے رہنماؤں (بالخصوص وزیر اعظم اور ان کے وزیر تعلیم) کو پاکستان کے تعلیمی نظام کو مزید تباہ کرنے سے پہلے افغانستان کے ماڈل کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ یکساں قومی نصاب کے نام پر آنے والی تبدیلی سے تعلیمی عدم مساوات تو برقرار ر ہے گی مگر معیارِ تعلیم مزید گر جائے گا۔ جدید دنیا میں پاکستان کی شراکت ختم ہو جائے گی لیکن ہمارے قومی رہنما صرف احکامات دیتے ہیں۔ وہ سوچتے، سنتے یا پڑھتے نہیں۔ بیس سال بعد پاکستانی پوچھیں گے: ان لوگوں نے کیا میراث چھوڑی ہے؟

پرویز ہودبھائی کا شمار پاکستان کے چند گنے چنے عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ اُن کا شعبہ نیوکلیئر فزکس ہے۔ وہ طویل عرصے تک قائد اعظم یونیورسٹی سے بھی وابستہ رہے ہیں۔