خبریں/تبصرے

بنگلہ دیش: روہنگیا پناہ گزین کیمپ پر مسلح افراد کے حملے میں 7 ہلاک، 20 سے زائد زخمی

لاہور (جدوجہد رپورٹ) بنگلہ دیش میں جمعے کو روہنگیا پناہ گزین کیمپ پر مسلح افراد کے حملے میں 7 افراد ہلاک، جبکہ کم سے کم 20 زخمی ہوئے ہیں۔ ’اے ایف پی‘نے مقامی پولیس اور شعبہ صحت کے اہلکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ حملہ گزشتہ دنوں ایک روہنگیا کمیونٹی کے ایک اہم لیڈر کے قتل کے بعد صورت حال میں بڑھتی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

علاقائی پولیس چیف کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے اس وقت فائرنگ کی اور لوگوں کو خنجر مارے جب وہ کیمپ میں ہی واقع ایک اسلامی سکول میں کلاس اٹینڈ کر رہے تھے۔ حملے کے نتیجے میں 4 افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ 3 پناہ گزین کیمپ کے ہسپتال میں ہلاک ہوئے۔

پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے افراد زخمی ہوئے تاہم شعبہ صحت کے اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ حملے میں 20 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ انکے ہسپتال میں تقریباً 20 شدید زخمیوں کو لایا گیا، جن میں سے بہت سے بازوؤں، ٹانگوں اور آنکھوں سے محروم تھے۔

سکیورٹی فورسز نے فوری پر طور کیمپ کو سیل کر دیا جس میں 27 ہزار سے زائد افراد رہائش پذیرہیں۔ کیمپ کے رہائشیوں نے سوشل میڈیا پر مرنے والوں کی لاشوں کی تصویریں شیئر کی ہیں جو مدرسے کے فرش پر پڑی ہیں تاہم آزاد ذرائع سے ان تصویروں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

29 ستمبر کو بالو خالی کیمپ میں مقامی رہنما محب اللہ کے قتل کے بعد بہت سے روہنگیا ایکٹوسٹ روپوش ہو گئے یا انہوں نے پولیس اور یو این ایجنسیوں کی مدد سے تحفظ حاصل کیا۔ کچھ کارکنوں کی جانب سے ہلاکتوں کا الزام اراکان روہنگیا سالویشن آرمی (ارسا) پر لگایا ہے تاہم گروپ کی جانب سے اس کی تردید کی گئی ہے۔

ارسا جنگجوؤں کا گروپ ہے جس پر میانمار میں سکیورٹی فورسز پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ جس کے بعد فوجی پابندیاں لگیں اور سات لاکھ 40 ہزار روہنگیا افراد نے بنگلہ دیش ہجرت کی۔ یہ گروپ منشیات کی سمگلنگ اور دیگر غیر قانونی کارروائیوں میں بھی ملوث ہے اور بنگلہ دیش میں موجود کیمپس کو کنٹرول کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

ایک نمایاں روہنگیا نے حملے کا الزام ارسا پر لگایا ہے اور کہا ہے کہ مدرسے نے اس کو پیسے دینے سے انکار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال سے ارسا نے تمام مدارس کو حکم دیا ہے کہ وہ 10 ہزار ٹکہ جب کہ استاد پانچ سو ٹکہ ماہانہ دیں اور جس مدرسے پر حملہ ہوا اس کی جانب سے رقم دینے سے انکار کیا گیا تھا۔

انہوں نے نام اس لیے ظاہر نہیں کیا کیونکہ ان کے رشتہ دار کیمپ میں موجود ہیں اور انہیں خدشہ تھا کہ انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔ انسانی حقوق کے ایک اور کارکن نے بھی تصدیق کی ہے کہ مدرسے نے کیمپ میں کبھی ارسا کے کنٹرول کو تسلیم نہیں کیا تھا۔

اراکن روہنگیا سوسائٹی فار پیس اینڈ ہیومن رائٹس کے رہنما کیاؤ من نے چند روز قبل ایک انٹرویو میں بتایا تھاکہ پولیس خوفزدہ اور ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے حالانکہ محب اللہ کے قتل کے بعد بہت کشیدگی پائی جاتی ہے۔