خبریں/تبصرے

ویڈیو گیم بنانے کی آڑ میں فوجی افسر امریکی خفیہ ایجنسی کے ہاتھوں ٹریپ ہو گیا

لاہور (جدوجہد رپورٹ) معروف صحافی اسد علی طور نے انکشاف کیا ہے کہ پاک فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کو واپس سروس پر بحال کر کے کورٹ مارشل کرنے اور سخت سزا سنانے کے پیچھے تو آرمی کے اندر سے اٹھنے والی آوازوں کو ایک واضح پیغام دینا تھا، تاہم انکو سزا سنانے کا بنیادی مقصد پاک بھارت جنگ پر مبنی ویڈیو گیم بنانے کی آڑ میں سی آئی اے کی جانب سے انہیں ٹریپ کر کے ان سے قومی راز حاصل کرنا تھا۔

اپنے ’وی لاگ‘ میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کو امریکہ میں ایک شخص ’ٹیک کمپنی‘ کے سی ای او کے طور پر ملا اور ان سے پاک بھارت جنگ پر مبنی ویڈیو گیم بنانے کیلئے کچھ اہم معلومات حاصل کرنا چاہیں۔ جاوید اقبال نے وہ معلومات انہیں فراہم کر دیں، ان معلومات میں اہم قومی اور فوجی راز بھی شامل تھے۔ یہ بات منظر عام پر آنے کے بعد انہیں چارج کیا گیا اور کورٹ مارشل کیا گیا۔

انکا کہنا تھا کہ کورٹ مارشل میں یہ واضح کیا گیا کہ انہوں نے یہ جاسوسی جان بوجھ کر نہیں بلکہ بیوقوفی میں کی ہے، اس لئے سخت سزا تجویز نہیں کی گئی تھی۔ تاہم آرمی چیف نے سخت سزا دی اور انہیں اڈیالہ جیل میں ایک عام قیدی کی طرح رکھا گیا۔ اس اقدام پر انکے بیٹے نے ایک فیس بک پوسٹ لکھ کر اپنے والد سے ہونے والے سلوک پر شکوہ کیا، اس کے علاوہ فوجی افسران نے بھی اعتراض کیا تو انہیں پھر راتوں رات وی آئی پی سہولیات فراہم کی گئیں۔ آرمی چیف نے ایکسٹینشن کے بعد فوج کے رینک اینڈ فائلز میں اٹھنے والی آوازاں کو دبانے کیلئے یہ سخت سزا دی تھی۔

تاہم اسد علی طور کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں آرمی چیف کے عہدے کی طاقت کو کم کرنے کیلئے بھی متعدد اقدامات کئے گئے ہیں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ میجر جنرل منظور حسین نے ایک پٹیشن دائر کرتے ہوئے ترقیابیوں پر سوال اٹھایا اور موقف اختیار کیا کہ افسران کی ترقیابیوں کیلئے بورڈ بیٹھتا ہے، جبکہ میجر جنرل سے لیفٹیننٹ جنرل کی ترقیابی کیلئے بورڈ نہیں بیٹھتا بلکہ آرمی چیف یہ فیصلہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف راولپنڈی ڈویژن سے 16 لیفٹیننٹ جنرل ترقیاب ہوئے ہیں۔

میجر جنرل منظور حسین کے وکلا عابد ساقی اور عثمان وڑائچ کا حوالہ دیتے ہوئے اسد طور نے کہا کہ میجر جنرل منظور حسین کو دائر کی گئی پٹیشن منظور ہونے کے اگلے روز بتایا گیا کہ انہیں ریٹائر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے صدر کے سامنے اپیل کی تو انہیں بتایا گیا کہ ریٹائرمنٹ آرڈر واپس لے لئے گئے ہیں۔ انہیں فیلڈ کورٹ مارشل میں پیش ہونے کا کہا گیا تاکہ کورٹ مارشل کی کارروائی ہو۔ تاہم وہاں بغیر کسی ٹرائل کے انہیں سروس سے برخاست کر دیا گیا۔

انہوں نے یہ فیصلہ بھی لاہور ہائی کورٹ رجسٹری میں چیلنج کر دیا، جہاں سے صدر پاکستان کو ایک ماہ میں اس بابت فیصلہ کرنے کا کہا گیا لیکن 20 اکتوبر سماعت کی تاریخ مقرر کئے جانے کے بعد 19 اکتوبر کو یہ کیس ڈی فکس کر دیا گیا۔ اس طرح آرمی چیف کے اختیارات کو متاثر کرنے کے بے شمار دیگر واقعات بھی ہیں اور یہ تمام اقدامات تحریک انصاف کو مستقبل میں سپورٹ کرنے کا سلسلہ بند کرنے کی اطلاعات کے بعد جاری رکھا گیا ہے۔