خبریں/تبصرے

فیس بک کیلئے صارفین میں کم ہوتی وقعت سے زیادہ منافعوں کی اہمیت

لاہور (جدوجہد رپورٹ) سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک کے اندرونی دستاویزات منظر عام پر آنے سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ فیس بک صارفین پر کنٹرول اور اپنی وقعت کھو رہی ہے تاہم فیس بک انتظامیہ کیلئے صارفین سے زیادہ منافعوں کی اہمیت رہی ہے۔

خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق ایک سابق ملازم کی طرف سے امریکی کانگریس کو فراہم کردہ ہزاروں صفحات پر مشتمل دستاویزات میں اندرونی طور پر کمپنی کی متضاد کیفیت کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق فیس بک کو ہونے والے نقصانات کے اعداد و شمار بہت زیادہ ہیں لیکن ان کے حل کی خواہش بہت کم ہے۔

دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ فیس بک اپنے باقاعدگی سے اچھے ارادوں کے اعلان کے باوجود سوشل نیٹ ورک کی جانب سے بڑھتے ہوئے حقیقی نقصانات کو دور کرنے کیلئے سست روی کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتا ہے۔

متعدد مثالوں کے ذریعے انکشاف ہوتا ہے کہ جہاں محققین اور رینک اینڈ فائل ورکرز نے گہرے مسائل کا پردہ فاش کیا جنہیں کمپنی نے نظر انداز کر دیا۔

اس صورتحال کی ذمہ داری سی ای او مارک زکر برگ پر عائد کرتے ہوئے ایک سابق ملازم نے اس کمپنی پر انکی آمرانہ طاقت کو بیان کیا ہے جو دنیا بھر کے تقریباً 3 ارب لوگوں کا ڈیٹااکٹھا کرتی ہے۔

مارک زکر برگ کا فیس بک پر سخت گیر اثرورسوخ ہے، وہ ووٹنگ کے زیادہ تر حصص رکھتے ہیں اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کو بھی کنٹرول کرتے ہیں، اس کے علاوہ ایسے ایگزیکٹوز کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں جو ان کے ویژن پر سوال نہیں اٹھاتے۔

تاہم دستاویزات سے انکشاف ہوتا ہے کہ اب فیس بک امریکہ اور یورپ جیسے اہم مقامات کے صارفین کی سکڑتی ہوئی تعداد اور مصروفیت کا مسئلہ حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ کمپنی اب نوعمروں اور نوجوانوں پر مبنی اس اہم ترین آبادی کی توجہ کھو رہی ہے اور اس کے پاس یہ توجہ دوبارہ حاصل کرنے کا کوئی واضح راستہ اور پلان نہیں ہے۔