خبریں/تبصرے

قومی اسمبلی ہال میں بریفنگ: ٹی ٹی پی سے مذاکرات اور افغان طالبان کو تسلیم کرنیکی تجویز مسترد

لاہور (جدوجہد مانیٹرنگ) پاکستان کی قومی اسمبلی ہال میں پارلیمانی جماعتوں کو عسکری حکام کی طرف سے سکیورٹی صورتحال سے متعلق دی گئی بریفنگ کے دوران تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات اور افغان طالبان کو تسلیم کرنے کی کوششوں کو اپوزیشن جماعتوں نے مسترد کر دیا ہے۔ تاہم حکومتی اتحادیوں نے ان کوششوں کی تعریف کی جبکہ اپوزیشن کی ایک جماعت جمعیت علما اسلام (ف) نے نہ صرف تحریک طالبان کو قومی دھارے میں لانے کیلئے کوششیں تیز کرنے بلکہ افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی تجویز دی ہے۔

یہ انکشافات معروف صحافی اسد علی طور نے اپنے وی لاگ میں کئے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ سپیکر اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے 78 رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید موجود تھے۔

ڈی جی آئی ایس آئی نے بریفنگ دیتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات سے متعلق کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے اور افغان طالبان ثالثی کروا رہے ہیں۔ افغان طالبان نے یہ یقین دہانی بھی کروائی ہے کہ اگر معاہدہ نہ کیا گیا تو ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دینگے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے مابین ایک باقاعدہ گٹھ جوڑ موجود ہے۔ افغان طالبان کی مدد اس لئے کر رہے ہیں تاکہ وہاں کوئی انسانی بحران یا افراتفری پیدا نہ ہو اور استحکام رہے، طالبان تمام قومیتوں پر مشتمل حکومت کے قیام اور گورننس بہتر کرنے پر راضی ہو سکیں، تاکہ ایسا کچھ نہ ہو جس کے نتائج پاکستان کو بھگتنے پڑیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہم نے امریکہ کی ہر طرح سے مدد کی لیکن اب پاکستان پر الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ امریکی کانگریس اور بائیڈن انتظامیہ کہتی ہے کہ افغان جنگ سے متعلق تحقیقات کی جائیں گی اور پاکستان کے کردار کو بھی پرکھا جائیگا۔ طالبان کو پناہ گاہیں اور مدد فراہم کئے جانے کے معاملہ پر پابندیاں بھی زیر بحث آ سکتی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس آئی نے یہ بھی بتایا کہ چین پاکستان کا اچھا ساتھی ہے لیکن چین پاکستان کو وہ معاشی امداد نہیں دے سکتا جو مغرب دیتا ہے۔ ہمارے مفادات بدستور مغرب کے ساتھ جڑے ہیں۔ آئی ایم ایف کی وجہ سے عالمی مالیاتی اداروں سے جو امداد ملتی ہے وہ چین نہیں کر سکتا۔

اسد طور کے مطابق بریفنگ کے بعد سوال جواب کا سیشن تھا، جس میں آرمی چیف نے تمام سوالات کے جوابات دیئے۔

قائد حزب اختلاف شہباز شریف، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، امیر حیدر ہوتی اور دیگر نے افغان طالبان کی حمایت، وزیراعظم اور وزرا کے بیانات کو پریشان کن قرار دیتے ہوئے اجتناب کرنے کا مشورہ دیا۔ تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کو مسترد کیا اور تمام امور کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لائے جانے کا مطالبہ کیا۔

تاہم ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ نے مذاکرات اور طالبان کو تسلیم کرنے کی مخالفت کرنے کے ساتھ ساتھ ممبر قومی اسمبلی علی وزیرکی گرفتاری پر بھی احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ جس ٹی ایل پی نے پولیس اہلکاروں کو ہلاک و زخمی کیا، املاک کو جلایا اور برباد کیا، اس کے ساتھ مذاکرات اور معاہدہ کیا جا رہا ہے لیکن ایک منتخب عوامی نمائندہ کو ایک سال سے ایک تقریر کی وجہ سے جیل میں رکھا گیا ہے۔

ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی نے بھی شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں صرف ایک تقریر پر تالیاں بجانے کی اتنی بڑی سزا مل رہی ہے لیکن جس ٹی ایل پی نے آدھا ملک جلا دیا انہیں معاف کر دیا گیا، ہمیں بھی کچھ گنجائش دیجئے۔

اسد طور کے مطابق آرمی چیف نے سب سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں جہاں بھی دہشت گردی ہوتی ہے، آخر میں مسئلہ بات چیت سے ہی حل ہوتا ہے۔ جو بھی ہوا ٹی ٹی پی والے ہیں تو ہمارے ہی بچے، ہی تو پاکستانی ہی۔ بچہ اگر بگڑ جائے تو ماں ہی اسے سمجھاتی اور بچاتی ہے، ہمیں دل بڑا کر کے ماں کا کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہیں ہم مین سٹریم میں لے آئیں گے اور ریاست کی رٹ تسلیم کروائیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاشی طور پر مضبوط ہونا پڑے گا، معیشت بہت بری ہے، عالمی دباؤ ہے، چین مدد نہیں کر سکتا اس وجہ سے مغرب سے مالی مفادات جڑے ہیں۔ داخلی طور پر جنگ و جدل سے خود کو مزید کمزور نہیں کر سکتے۔

اسد طور کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ معیشت کا مسئلہ بھی امن و امان لا کر حل کر دینگے، تاہم جو ’جہادی سانپ‘ ہم پال رہے ہیں یہ پاکستان کا اصل مسئلہ ہے۔ انہوں نے ٹی ایل پی سے متعلق کہا کہ یہ ایک مختلف تنظیم ہے، پورے پاکستان میں پھیلی ہے اور انکا نعرہ بہت خطرناک ہے، اس کو ہینڈل کرنا مشکل ہے۔ اس نعرے پر شرابی اور نمازی دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔

اسد طور کے مطابق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے ٹی ایل پی سے متعلق یہ بھی کہا کہ ہم ریاستی رٹ بحال کر سکتے تھے لیکن اس کیلئے 50 سے 60 بندہ مرنا تھا۔ لوگوں کے مارے جانے کی ایک سیاسی قیمت بھی تھی جو سیاسی حکومت ادا کرنے کو تیار نہیں تھی، اس لئے معاہدہ کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا۔