پاکستان

ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا نتیجہ خون خرابے کی شکل میں نکلے گا

مونا نصیر

انسداد دہشت گردی کے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ دہشت گرد گروہوں سے بات چیت کا سلسلہ دہشت گردی کے خاتمے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔ ہاں مگر بات چیت تب ہی ہونی چاہئے جب حالات ساز گار ہوں اور یہ توقع کی جا رہی ہو کہ دہشت گرد گروہ اپنا طریقہ کار بدلنے پر تیار ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک حالیہ ا نٹرویو میں تسلیم کیا ہے کہ ان کی حکومت نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا ہے۔

ایسے کون سے ساز گار حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ مذاکرات شروع کئے جا رہے ہیں، یا ان مذاکرات کی حدود و قیود کیا ہوں گی، یہ کن شرائط پر کئے جائیں گے…اس بابت عوام اور پارلیمنٹ کو تو بالکل بھی کچھ نہیں بتایا گیا؟

ماضی میں جب بھی ٹی ٹی پی سے مذاکرات ہوئے تو نتائج الٹے ہی نکلے۔ اس کی ایک مثال تو تحریک نفاذ شریعت محمدی کے ساتھ ہونے والا سوات معاہدہ ہے جو 2009ء میں ہوا۔ اس معاہدے کے تحت تحریک نفاذ شریعت محمدی کو شریعت کورٹ قائم کرنے کی اجازت دی گئی۔ ان عدالتوں نے ان لوگوں کو سخت سزائیں دیں جو ان کے طریقہ کار سے اختلاف کرتے تھے۔ اسی طرح 2006ء میں میران شاہ وزیرستان میں جو معاہدہ کیا گیا، اس کا نتیجہ بھی یہی نکلا۔

مندرجہ بالا دونوں معاہدوں کی صورت میں ریاست نے اپنی عمل داری سے دست بردار ہونے کا فیصلہ کیا لیکن بعد ازاں نئے سرے سے اپنی عمل داری قائم کرنے کے لئے فوجی آپریشن کرنے پڑے جس کے نتیجے میں بھاری جانی اور مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ ان معاہدوں پر عمل کرنے اور طالبان کے مطالبات ماننے کے لئے حکومت کے راستے میں کوئی قانونی یا سیاسی رکاوٹ نہیں تھی پھر بھی یہ معاہدے ناکام ہو گئے۔

تحریک نفاذ شریعت محمدی گیارہ ستمبر اور ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں پاکستان کی شمولیت سے پہلے کا ایک سیاسی مظہر ہے۔ یہ تنظیم سوات میں 1994ء میں متحرک ہوئی اور 2009ء میں آپریشن راہ راست کے ذریعے اس کا صفایا کیا گیا۔ شمالی وزیرستان میں بھی طرح طرح کے مسلح جتھے گیارہ ستمبر سے پہلے ہی آباد ہو چکے تھے۔

مذاکرات کا دوسرا پہلو یہ ہوتا کہ عوام میں کتنی پذیرائی حاصل ہے اور یہ کس حد تک جائز تسلیم کئے جا رہے ہیں۔ تاریخی طور پر ریاستوں نے غیر ریاستی عناصر سے اس وقت مذاکرات کئے جب محسوس ہوا کہ مسلح گروہ عوام میں مقبول ہیں اور عوام کا ایک بڑا حصہ انہیں جائز سیاسی قوت تسلیم کرتا ہے اور یہ کہ مذاکرات کے بعد وہ گروہ ریاستی عمل کا حصہ بن جائیں گے۔ ٹی ٹی پی کو نہ تو سوات میں کوئی حمایت حاصل تھی نہ ہی سابق فاٹا کے اضلاع میں۔ ہاں البتہ اس نے جو وحشیانہ قتل عام کیا اس کی وجہ سے لوگوں کا ریاستی مشینری سے اعتبار ضرور اٹھ گیا۔

سابق فاٹا کے اضلاع میں ٹی ٹی پی کبھی خود کو ایک جائز سیاسی قوت کے طور پر سامنے نہ لا سکی۔ اس کا ثبوت ان علاقوں میں بننے والے امن لشکر ہیں۔ باجوڑ، کرم اور اورکزئی ایجنسیوں میں ہونے والی قبائلی مزاحمت اس کا ثبوت ہے۔ پی ٹی ایم کا قیام اور مقبولیت بھی اسی بات کی گواہی دیتے ہیں۔ اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ایک موقع پر ان کو سوات اور دیگر اضلاع کے مقامی لوگوں کی حمایت حاصل تھی تو اپنے وحشیانہ ایجنڈے، قتل و غارت، بھتہ خوری اور سخت سزاؤں کی وجہ سے انہوں نے خود کو تنہا کر لیا۔ پاکستانی ریاست اور ٹی ٹی پی کے مابین مذاکرات سے صرف گومگو کی کیفیت جنم لے گی، نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا۔

ایک اور پہلو یہ ہے کہااتنا بڑا آپریشن ضرب عضب کرنے کے بعد آخر ان مذاکرات کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟

بعض اطلاعات کے مطابق ٹی ٹی پی کے کچھ دھڑے…یہ تنظیم ایک گروہ نہیں بلکہ کئی دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے…سابق قبائلی اضلاع کے لئے زیادہ خود مختاری مانگ رہے ہیں۔ کیا حکومت یہ مطالبہ تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے کیونکہ ان اضلاع میں طالبان طرز کی نفاذ شریعت کے نتیجے میں یہ خطہ ایک مرتبہ پھر اسی افرا تفری کا شکار ہو گا جس کا خمیازہ ایک دفعہ بھگتا جا چکا ہے۔

اگر تو حکومت مولوی فقیر محمد جنہیں افغان طالبان نے رہا کیا، ایسے طالبان کمانڈرز کی واپسی سے پریشان ہے اور اسے سی پیک کی فکر ہے تو یاد رہے ٹی ٹی پی مذاکرات کے موڈمیں نہیں کیونکہ افغان طالبان کی فتح کے بعد ان کا حوصلہ بہت بڑھ چکا ہے۔ ممکن ہے مذاکرات کے کسی موجودہ دور میں تو افغان طالبان کوئی سہولت کاری کریں مگر یاد رہے کہ ٹی ٹی پی کے رہنما نور ولی محسود وغیرہ القاعدہ کے بھی قریب ہیں اس لئے افغان طالبان کا اثر و رسوخ کوئی زیادہ معنی نہیں رکھتا۔

ایسے بے رحم قاتلوں کے ساتھ مذاکرات، جو جنگ کے بعد اور مضبوط ہو چکے ہیں، نہ صرف حکومت کی ساکھ کو متاثر کرے گا بلکہ ٹی ٹی پی کو جواز فراہم کرنے کے علاوہ اس کے اقدامات کو جائز بنانے کا سبب بنے گا۔ اپنے تذویراتی مقاصد کے لئے ہم افغان طالبان کی چاہے جتنی بھی حمایت کر لیں، ٹی ٹی پی کے ہاتھوں اسی ہزار پاکستانیوں کی ہلاکت کو کسی طور جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔

مونا نصیر کا تعلق سابقہ فاٹا سے ہے۔ انہوں نے لندن یونیورسٹی سے انسانی حقوق میں ڈگری حاص کی ہے۔ ان کا ٹوئٹر ہینڈل @mo2005 ہے۔