خبریں/تبصرے

مارکس اور لینن اینگلز کی شادی میں

لاہور (جدوجہد رپورٹ) مارکس، لینن اور ہوچی منہ گزشتہ ہفتے جنوبی بھارت میں اپنے اینگلز کی شادی میں شریک ہوئے۔ تاہم وہ کوئی جرمن، روسی یا ویتنامی نہیں تھے، کیونکہ یہ سب بھارتی ریاست کیرالہ کی مقامی کمیونسٹ پارٹی کے اراکین ہیں جنہوں نے ایک سیاحتی مقام پر اس شادی میں شرکت کی۔

’ڈان‘ کے مطابق درانتی اور ہتھوڑا پورے کیرالہ میں بہت زیادہ مقبول ہیں، جہاں گزشتہ 6 دہائیوں سے کمیونسٹ پارٹی نے حکومت کی ہے اور اسٹالن اور ٹراٹسکی جیسے انقلابی نام مقبول ہیں۔ مقامی اخبار کے مطابق اینگلز اور لینن دو بھائیوں کے نام ہیں جبکہ مارکس اور ہوچی منہ ایک مقامی پارٹی کارکن نے اپنے بیٹوں کے نام رکھے ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چاروں افراد کمیونسٹ پارٹی کے سرگرم رکن ہیں اورمارکس دبئی سے خصوصی طور پر شادی میں شرکت کیلئے آئے تھے۔ سرد جنگ کے دوران بھارت کا زیادہ تر جھکاؤ سوویت یونین کی طرف ہی رہا اور روسی لٹریچر اور سرکاری اخبار ’پراودا‘ بھارت بالخصوص جنوبی بھارت میں مقبول رہا ہے۔

تامل ناڈو کے موجودہ وزیر اعلیٰ کا نام ’ایم کے اسٹالن‘ ہے، یہ نام انکے والد نے سٹالن کے اعزاز میں رکھا تھا۔ رواں سال جون میں کیرالہ میں ایک نوجوان ’سوشلزم‘ کی شادی کی تقریب ہوئی تھی۔ مذکورہ نوجوان کے بھائیوں کے نام کمیونزم، لینن ازم اور مارکسزم ہیں۔ سوشلزم کی دلہن کا نام ’ممتا بینرجی‘ تھا، دلہن کا نام ان کے دادا نے مغربی بنگال میں بائیں بازو کی مقبول سیاستدان کے نام پر رکھا تھا، تاہم 2011ء میں مغربی بنگال میں کئی دہائیوں سے قائم بائیں بازو کی حکمرانی کا خاتمہ بھی ممتا بینرجی نے ہی کیا تھا۔