تاریخ

فیض کا آدرش

آج فیض احمد فیض کا 37 واں یوم وفات ہے۔ اس موقع پر معروف مارکسی دانشور سبط حسن کا یہ مقالہ پیش کیا جا رہا ہے۔

سبط حسن

فیضؔ صاحب کی اچانک وفات پر ملک کے گوشے گوشے میں اور دوسرے ملکوں میں بھی جس گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا وہ ان کے دشمنوں کے لیے باعث ِ حیرت ہو تو ہو، عام لوگوں کے لیے ہرگز نہیں ہے۔ برطانیہ، کینیڈا، امریکہ، فرانس، مشرقی اور مغربی جرمنی، ہالینڈ، سویڈن، ناروے، سوویت یونین اور ہندوستان، غرضیکہ شاید ہی کوئی خطہ ہو جہاں فیضؔ صاحب کا سوگ نہ منایا گیا ہو۔ تعزیتی جلسوں میں جو تقریریں ہوئیں، جو مقالے پڑھے گئے اور اس دوران اخباروں اور رسالوں میں ان کی شخصیت اور شاعری کے مختلف پہلوؤں پر جو توصیفی اور تاثراتی مضامین شائع ہوئے ہیں، ان سب کو اگر یکجا کیا جائے تو کئی دفتر تیار ہو سکتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ان حلقوں میں بھی، رسماً ہی سہی فیضؔ صاحب کو خراجِ عقیدت پیش کرنا پڑا جو ان کے مسلک کے شدت سے مخالف ہیں۔

فیضؔ صاحب کی اس بے پناہ مقبولیت کا اصل سبب یوں تو ان کا کلام ہی ہے جس نے ایک عالم کو ان کا گرویدہ بنا لیا لیکن ان کی ہر دلعزی میں ان کی شخصیت کی مقناطیسیت بھی شامل ہے اور وہ خدمات بھی جو فیضؔ صاحب نے ہماری تہذیب کی اصلاح اور ترقی کی خاطر سرانجام دیں۔ ان کے مزاج کی نرمی اور مٹھاس، ان کا دھیما لہجہ، ان کی مسکراہٹ، ان کی شائستگی، دوسروں کی دل آزاری اور عیب جوئی سے پرہیز، انکا پُروقار ضبط و تحمل، ان کی کسر نفسی اور ملنساری، ظلم و جبر کی سختیوں کو ہنس ہنس کر برداشت کرنے کی قوت اور اپنے اصولوں کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی کا جذبہ، ان کے وہ اوصاف تھے جن کی وجہ سے ہر طبقے، ہر فرقے کے لوگ ان کی عزت کرتے تھے۔

فیضؔ صاحب کی شخصیت بڑی پہلودار تھی۔ انہوں نے شعر و شاعری کے علاوہ اور بہت سے کام بھی کیے اور جس کام میں ہاتھ ڈالا اس کو ایسے سلیقے سے سرانجام دیا کہ ان کی جگہ پھر کبھی پُر نہ ہوئی۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کاآغاز کالج میں انگریزی پڑھانے سے کیا۔ پہلے امرتسر میں، پھر لاہور میں اور آخر میں ہارون کالج کراچی میں۔ وہ نہایت مشفق استاد تھے اور اپنی لیاقت اور حسن ِ اخلاق کے باعث اساتذہ اور طلبا میں یکساں مقبول تھے جس وقت فیضؔ صاحب ہارون کالج کراچی کے پرنسپل ہوئے تو کالج پر نزع کا عالم طاری تھا۔ عمارت خستہ حال اور بے سروسامان اور کھڈّا کے نہایت پس ماندہ علاقے کے نادار اور بے یارو مددگار بلوچ طلبا، نہ ان میں تحصیل ِ علم کا شوق نہ اساتذہ میں تدریس کی لگن، مگر فیضؔ صاحب نے تھوڑے ہی عرصے میں اپنی محنت اور محبت سے کالج کانقشہ ہی بدل دیا اور ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے کالج ایک زندہ اور فعال ادارہ بن گیا۔

فیضؔ صاحب نے جب اخبار نویسی شروع کی اور پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر مقرر ہوئے تو ان کے جوہر اور کھُلے۔ ان کے اداریے صلابت رائے کے علاوہ ادبی فن پارے بھی ہوتے تھے جن کو ہر شخص مزے لے لے کر پڑھتا تھا۔ انہوں نے اپنے حسن ِ سلوک سے صحافیوں کی ایک ایسی ٹیم اپنے گرد جمع کر لی تھی جو اخبار کی صوری اور معنوی خوبیوں کی دھن میں دن رات لگی رہتی تھی۔ فیضؔ صاحب نے اپنے زمانے میں صحافتی اخلاق کا جو معیار قائم کیا تھا اور جس جرأت سے وہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے اس کو لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔ وہ فلمی صنعت سے وابستہ ہوئے تو ان کی نگرانی میں ایسی لاجواب فلمیں بنیں کہ ہر جگہ ان کی دھوم مچ گئی۔ انہوں نے الحمرا کا نظم و نسق سنبھالا تو جس ویرانے میں الُوبولتے تھے، اس کے درد و دیوار نغمہ ساز کی آوازوں سے گونجنے لگے اور الحمرا لاہور کا سب سے سرگرم تہذیبی مرکز بن گیا۔ اب جس ادیب کو دیکھو الحمرا کی طرف کھِنچا چلا جا رہا ہے۔ کسی کمرے میں ڈرامے کی ریہرسل ہو رہی ہے۔ کسی گوشے سے گانے کی آوازیں آرہی ہیں اور کسی ہال میں تصویروں کی نمائش لگی ہوئی ہے۔

ان کو عوامی تہذیب کی فنی روائتیں بھی بہت عزیز تھیں چنانچہ انہیں کی کوششوں سے اسلام آباد میں عوامی تہذیب کے فن پاروں کے تحفظ کے لیے پہلی بار ایک ادارہ قائم ہوا، اور فیضؔ صاحب اس کے سربراہ مقرر ہوئے انہوں نے اپنے مختصر دور میں دیہات کے ہزاروں گیت اور گانے ریکارڈ کروائے، دیہاتی ساز جمع کیے ملک کے ہر خطے کی دیہی دستکاریوں اور گھریلو صنعتوں کے نادر نمونے اکٹھا کیے اور ان کی نمائش کی۔ اسی دوران ملک کے تہذیبی مسائل پر غور کرنے کے لیے انہوں نے ایک کمیٹی تشکیل دی اور اس کی رپورٹ خود بڑی محنت سے تیار کی مگر اس رپورٹ کی تجویزوں پر عمل کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی اور آخرکار رپورٹ کا وہی حشر ہوا جو سرکاری رپورٹوں کا عموماً ہوتا ہے۔ فیضؔ صاحب نے ٹی وی پر تہذیبی امور پر مذاکروں کا ایک سلسلہ بھی شروع کیا تھا مگر تہذیب دشمن افسروں کے حکم سے بند ہوگیا۔

فیضؔ صاحب کا شمار پاکستان میں ٹریڈ یونین تحریک کے بانیوں میں ہوتا ہے، وہ کئی برس تک ڈاک اور تار کے ملازمین کی انجمن کے صدر بھی رہے۔ ان کے گھر پر اور بعض اوقات پاکستان ٹائمز کے دفتر میں مزدور کارکنوں کا ہجوم رہتا تھا اور وہ اخبار میں ان کے مطالبات کی حمایت میں اداریے لکھا کرتے تھے۔ انہوں نے دو ایک بار بین الاقوامی کانفرنسوں میں مزدوروں کی نمائندگی بھی کی۔ انہیں کی دوڑ دھوپ کا نتیجہ تھا کہ حکومت پاکستان نے آئی۔ایل۔او کی بہت سی تجویزوں کو منظور کر لیا۔ اب تو نہ فیضؔ صاحب رہے نہ وہ تجویزیں۔

آج کل تو وہ حکومتیں بھی امن کی دہائی دیتے نہیں تھکتیں جو دن رات جنگی تیاریوں میں مصروف رہتی ہیں لیکن ایک زمانہ وہ بھی تھا جب سامراج نواز ملکوں میں امن کا نام لینا جرم سمجھا جاتا۔ اس قدغن کے باوجود جنگی تیاریوں کو روکنے اور دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں کی ہلاکت خیزیوں سے محفوظ رکھنے کی عالمگیر مہم جب شروع ہوئی اور دوسرے ملکوں کی مانند پاکستان میں بھی امن کمیٹی بنی تو فیضؔ صاحب ہی اس کے صدر چنے گئے۔ وہ امن کمیٹی کی سرگرمیوں میں بڑی پابندی سے شریک ہوتے اور لاہور،اوکاڑہ، گوجرانوالہ، لائل پور، غرضیکہ جہاں کہیں امن کمیٹی کا جلسہ ہوتا اس میں تقریر کرتے اور لوگوں کو بتاتے کہ پاکستان کی آزادی، بقا اور ترقی کے لیے امن کتنا ضروری ہے کیونکہ ان کے بقول ”امن گندم کے کھیت ہیں اور سفیدے کے درخت، دلہن کا آنچل ہے اور بچوں کے ہنستے ہوئے ہاتھ، شاعر کا قلم ہے اور مصور کا موقلم“۔ ان کا کہنا تھا کہ پرانے زمانے کی جنگوں اور آج کل کی جنگوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پرانے زمانے میں جب لوگ تلوار بندوق سے لڑتے تھے تو تباہی ضرور آتی تھی لیکن اس کا دائرہ بہت محدود ہوتا تھا اور آبادی کا بہت ہی مختصر حصہ اس سے متاثر ہوتا تھا جس فریق نے میدان جنگ میں شکست کھائی وہ تاج و تخت سے محروم ہوا، ملک کی عنانِ اقتدار فاتح کے قبضے میں آگئی اور زندگی بدستور پرانے ڈگر پر چلنے لگی لیکن آج امن کے معنی ہیں بنی نوع انسان کی بقا اور ایٹمی جنگ کے معنی ہیں کہ دنیا ملبے کا ڈھیر ہو جائے اور انسان، جانور، برگ و شجر کسی کا سرے سے وجود ہی باقی نہ رہے اور جنگی تیاریوں اور اسلحوں کی اس دوڑ میں فائدہ کس کو ہوتا ہے؟ اسلحے بنانے والی بڑی بڑی کمپنیوں کا اور ان کی حکومتوں کا جو اپنی فوجی طاقت کے بل پر دوسرے ملکوں پر غلبہ حاصل کرتی ہیں لہٰذا فیضؔ صاحب کے بقول امن کی جدوجہد اور آزادی کی جدوجہد ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں جو امن کا دوست ہوگا وہ لامحالہ آزادی کو بھی عزیز رکھے گا اور جو امن کا دشمن ہوگا وہ آزادی کا بھی دشمن ہوگا۔ ترقی یافتہ ملکوں کا تو ذکر ہی کیا افسوس اس کا ہے کہ پسماندہ اور ترقی پذیر ملک بھی اسلحوں کی اس دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ یہی رقم اگر فلاحی کاموں پر صرف ہو تو علم کی روشنی سے ہر اندھیرا گھر منور ہو جائے، بے گھروں کو سرچھپانے اور آرام سے رہنے کی سہولتیں میسر ہوں اور وہ جو دوا علاج کے لیے ترستے ہیں، ان کی محرومیاں دور ہو جائیں۔

فیضؔ صاحب کی شاعری پر غور کرتے وقت ان کے شوق وابستگی کے ان پہلوؤں کو نظر میں رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ ان کے محسوسات کا خمیر انہیں تجربوں سے اٹھا ہے۔

۲

اردو زبان خوش قسمت ہے کہ اس نے معاشرتی زندگی کے ہر اہم موڑ پر ایسے صاحب ِ کمال پیدا کیے جو اپنے عہد کی پہچان اور روح عصر کے ترجمان ثابت ہوئے۔ ولیؔ دکنی اور نظیرؔ اکبر آبادی، میر تقی میرؔ اور مرزا سوداؔ، غالبؔ اور سرسید احمد خاں، علامہ اقبالؔ اور جوشؔ ملیح آبادی سب نے یہ تاریخی خدمت سرانجام دی۔ فیضؔ احمد فیض دورِ حاضر میں دکھی انسانیت کے ضمیر کی آواز ہیں۔ ایسی آواز جو نغمہ بھی ہے، للکار بھی، جس میں سوز یقیں بھی ہے اور غم ِ زمانہ کا درد بھی۔ جہد و انقلاب کی گھن گرج بھی ہے اور حسن و محبت کی شیریں نوائی بھی۔

فیضؔ صاحب نے شعر کہنا یوں تو کالج کے زمانے ہی میں شروع کر دیا تھا لیکن ان کے فکر و فن میں انقلابی تبدیلی 1935ء میں آئی۔ انسانی تاریخ کا وہ بڑا پُرآشوب اور ہیجانی دَور تھا۔ عالمی کساد بازاری نے دنیا کو شدید اقتصادی بحران میں مبتلا کر دیا تھا۔ اس بحران کی وجہ سے ہندوستان کی نوآبادیاتی معیشت کی حالت اور بھی زبوں تھی چنانچہ فیضؔ صاحب کے بقول ”کالج کے بڑے بڑے بانکے تیس مارخاں تلاش ِ معاش میں گلیوں کی خاک پھانکنے لگے۔ یہ وہ دن تھے جب یکایک بچوں کی ہنسی بجھ گئی، اُجڑے ہوئے کسان کھیت کھلیان چھوڑ کر شہر میں مزدوری کرنے لگے اور اچھی خاصی بہو بیٹیاں بازار میں آبیٹھیں“۔ ملک کا یہ حال تھا اور یورپ میں فاشزم کا عفریت آگ اور خون کی ہولی کھیل رہا تھا۔ ہٹلر نے جرمنی میں برسرِ اقتدار آتے ہی جمہوریت پسند سیاستدانوں اور روشن خیال ادیبوں، مفکروں، موسیقاروں اور سائنسدانوں سب پر عرصہئ حیات تنگ کر دیا تھا۔ جو دارورسن سے بچے ان کو بھاگ کر سوویت روس اور امریکہ میں پناہ لینی پڑی۔ ارنسٹؔ ٹولر، سٹیفانؔ زدانگ، تھامس مان اور ہنرامک مان، فرائڈ اور آئن سٹائن سب ملک بدر ہوئے اسی اثناء میں مسولینی نے حبشہ پر حملہ کر دیا۔ اس جارحانہ اقدام پر مجلس اقوام میں بہت شور مچا لیکن مسولینی کو برطانوی اور فرانسیسی حکومتوں کی پشت پناہی حاصل تھی لہٰذا مشرق کے ایک پس ماندہ ملک کی فریاد کا کوئی اثر نہ ہوا اور مسولینی نے حبشہ پر قبضہ کر لیا۔

ان واقعات نے دنیا بھر کے حریت پسند ادیبوں کو چونکا دیا اور ان کو محسوس ہونے لگا کہ آزادی اور جمہوریت کے دشمنوں کا اگر جم کر مقابلہ نہ کیا گیا تو پرورش لوح و قلم کے امکانات باقی نہ رہیں گے۔ فیضؔ صاحب کے سے حسّاس شاعر کا ان حالات سے متاثر ہونا قدرتی بات تھی، چنانچہ انجمن ترقی پسند مصنفین سے اپنی وابستگی کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

”جب ہم 1935ء میں امرت سر (ایم۔اے۔او۔کالج) میں پڑھاتے تھے تو ہمارے ساتھ ایک ہمارے رفیق کار تھے، رام پور کے جن کا نام تھا صاحبزادہ محمود الظفر اور ان کی بیگم تھیں ڈاکٹر رشیدہ جہاں۔ محمود الظفر نے ہم سے کہا کہ ہم نے لندن میں ایک ہندوستانی ترقی پسند مصنفین کی ایسوسی ایشن قائم کی ہے اور اب ہم چاہتے ہیں کہ یہ تنظیم ہندوستان میں بھی قائم ہو جائے۔ کیا تمہیں اس میں کچھ دلچسپی ہے تو ہم نے کہا ہاں! ہم ضرور اس میں کام کریں گے۔ یہ ہمارے شباب کا دور تھا اور مرض عشق بھی لاحق تھا۔ رشیدہ جہاں نے کہا چھوڑو یہ عاشقی کے چکر وغیرہ۔ یہ سب فضول باتیں ہیں۔ دنیا کے دکھ جو ہیں ان کی نوعیت زیادہ سنگین ہے۔ یہ تمہارا عاشقی کا چھوٹا سا معاملہ ہے اور انہوں نے ہمیں سکھایا کہ اپنا غم جو ہے تو یہ بہت معمولی سی چیز ہے۔ دنیا بھر کے دکھ دیکھو اور اپنے لوگوں اور اپنی قوم اور اپنے ملک کے۔ ان کی بپتا کے بارے میں سوچنا چاہیے کہ اپنے لیے ہی سوچتے رہو گے۔ یہ تو خود غرضی ٹھہری۔ ہمارا یہ شعر اسی زمانے کی یادگار ہے۔

اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا“

وہ سوچتے ہیں یہ دنیا ”صدیوں تک تاریک بہیمانہ طلسم“ میں کیوں گرفتار ہے، یہاں کوچہئ و بازار میں جسموں کی خرید و فروخت کیوں ہوتی ہے اور :

یہ حسیں کھیت پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا
کس لیے ان میں فقط بھوک اُگا کرتی ہے

لیکن وہ ترکِ عاشقی پر ہرگز آمادہ نہیں۔ ہجر و فراق کی گھڑیاں ان پر اب بھی گراں گزرتی ہیں۔

ویراں ہے میکدہ خُم و ساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے

شاعر بالآخر اس ذہنی کش مکش کا حل تلاش کر لیتا ہے اور اس پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ غم ِ ذات غمِ زمانہ ہی کا ایک رخ ہے لہٰذا ”کیوں نہ جہاں کا غم اپنا لیں“ وہ جانتا ہے کہ اس راہ میں ”رن پڑے گا، سر پھوٹیں گے، خون بہے گا“ مگر ”پاپ کے پھندے ظلم کے بندھن ٹوٹیں گے“ اور ”خون میں غم بھی بہہ جائیں گے“ کیونکہ قوتیں غم ِ ذات کا سبب ہیں، وہی معاشرے کی گردن کا سنگِ گراں بھی ہیں۔ غم ِ ذات نے جب غمِ زمانہ کا امرت پی لیا تو شاعر کا عشق دو آتشہ ہوگیا:

اس عشق نہ اُس عشق پہ نادم ہے مگر دل
ہر داغ ہے اس دل پہ بجُز داغِ ملامات

۳

فیضؔ صاحب حسن و محبت کے شاعر ہیں۔ ان کا آدرش دنیا میں حسن و محبت کی فرمانروائی ہے۔ زندگی کے حسن سے لطف اندوز ہونے کا جذبہ، غم ذات اور غمِ زمانہ سے ان کا گہرا لگاؤ، ان کی انسان دوستی اور حب الوطنی، ان کی انقلاب پسندی اور آرزو مندی سب درد عشق ہی کے استعارے ہیں، درد ِ عشق جو ان کے طرزِ فکر و احساس کی روح ہے اور جس کی بدولت وہ اپنے دل کی خانہ ویرانی کو حسن دوعالم کے جلوؤں سے منور کرتے ہیں۔

مگر دیکھنا یہ ہے کہ فیضؔ صاحب کا تصور حسن و محبت صوفیائے کرام کے روایتی تصور ہی کا چربہ ہے یا اس کے عوامل اور مضمرات سماجی ہیں۔ وہ ادب برائے ادب کے پیغمبر اور وجودی فلسفی کیر کے کارد کے اس قول سے اتفاق نہیں کرتے کہ جمالیاتی اور سماجی قدریں جدا جدا ہوتی ہیں۔ شاعر کیٹس کے اس مشہور مقولے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ حسین شے مسرتِ جاودانی ہے، فرماتے ہیں کہ ”شاعر کیٹس کچھ ہی کہے حسن سے صحیح راحت جبھی بہم پہنچ سکتی ہے جب وہ خلاق ہو یعنی وہ اپنے وجود سے دیکھنے والے کے جذبے، خیال یا عمل میں مزید حسن کا اضافہ کرے۔ ایک یونانی گل دان جو کسی نظم کا موضوع پیدا نہ کرے اپنے حسن کے باوجود محض ایک ٹھیکرا ہے مِٹی کا“۔ گویا فیضؔ صاحب کی نظر میں حسن کی کسوٹی اس کی خلاقیت ہے۔ حسن جمالیاتی ہی نہیں سماجی اور اخلاقی قدر بھی ہے۔

شمع نظر، خیال کے انجم، جگر کے داغ
جتنے چراغ ہیں تری محفل سے آئے ہیں
کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم
گلہ ہے جو بھی کسی سے، تیرے سبب سے ہے
غمِ جہاں ہو، رُخِ یار ہو کہ دستِ عدو
سلوک جس سے کیا ہم نے عاشقانہ کیا

فرماتے ہیں کہ ”ہر وہ چیز جس سے ہماری زندگی میں حسن یا لطافت یا رنگینی پیدا ہو جس کا حسن ہماری انسانیت میں اضافہ کرے، جس سے تزکیہئ نفس ہو، جو ہمار ی روح کو مترنم کرے، جس کی لَو سے ہمارے دماغ کو روشنی اور جِلا حاصل ہو صرف حسین ہی نہیں مفید بھی ہے“۔

اس میں چشم و لبِ یار کے حسن کی قید نہیں بلکہ ہر وہ شے جو انسان کی قوتِ تخلیق کی مظہر ہو یا انسان کی تخلیقی اور جمالیاتی صلاحیتوں کو ابھارے حسین کہلانے کی مستحق اور محبت کی متقاضی ہے۔

فیضؔ صاحب کا فلسفہئ محبت ان کے فلسفہئ حسن ہی کی تفسیر ہے۔ ان کو حافظؔ کا وہ شعر بہت پسند تھا جس میں لسان الغیب نے محبت کو حقیقتِ جاوداں کا رتبہ دیا ہے۔ اس شعر کی تکرار ہم کو فیضؔ صاحب کی نظموں میں بھی ملتی ہے اور اس تقریر میں بھی جو انہوں نے لینن انعام قبول کرتے وقت کی تھی۔ انہوں نے تقریر ختم کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ:

مجھے یقین ہے کہ انسانیت جس نے اپنے دشمنوں سے کبھی ہار نہیں کھائی اب بھی فتح یاب ہو کر رہے گی اور آخرِ کار جنگ ونفرت اور ظلم و کدورت کے بجائے ہماری زندگی کی بنا وہی ٹھہرے گی جس کی تلقین اب سے بہت پہلے فارسی شاعر حافظؔ نے کی تھی:

خلل پذیر پود ہر بنا کہ می بینی
مگر بنائے محبت کہ خالی از خلل است

اور وہ دعا کرتے ہیں کہ:

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی
ہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں
ہم جنہیں سوزِ محبت کے سوا
کوئی بُت کوئی خدا یاد نہیں

یہ سوزِ محبت کوئی انسانی کیفیت نہیں بلکہ دور کا وہ رشتہ ہے جو اُفق تا اُفق پھیلا ہوا ہے۔ ان کی انسان دوستی ملک و ملت، نسل و رنگ کے تعصبات سے پاک ہے۔ انسانیت کا خون جہاں کہیں ہوتا ہے۔ فیضؔ صاحب تڑپ اٹھتے ہیں وہ وطن کی آزادی پر قربان ہوتے ایرانی طلبا سے پیار کرتے ہیں جن کے ”میٹھے نور اور کڑوی آگ سے ظلم کی اندھی رات میں پھوٹا صبح بغاوت کا گلشن“، وہ افریقی حریت پسندوں کا ترانہ گاتے ہیں جنہوں نے ”دھول سے ماتھا اٹھا لیا ہے اور غم کی چھال آنکھوں سے چھیل دی ہے اوربے کسی کے جال کو نوچ کر پھینک دیا ہے اور امریکی جلاد جب ایتھل اور جولیس روزن برگ کو بے گناہی کے جرم میں سولی پر چڑھاتے ہیں تو فیضؔ صاحب ان شہیدانِ وفا کی یاد میں ایسا مرثیہ نما انقلابی رجز لکھتے ہیں جس کی نظیر اردو کیا دنیا کی شاید ہی کسی زبان میں ملے۔

تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے
ترے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے
لیکن اس انقلابی شان سے کہ:

تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے
تیرے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے

مگر مایوس اور شکستہ دل ہونے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ:

قتل گاہوں سے چُن کر ہمارے عَلَم
اور نکلیں گے عُشاق کے قافلے

فیضؔ صاحب نے کہا تھا”شاعری مشاہدہ ہی نہیں مجاہدہ بھی ہے اور اس جدوجہد میں حسبِ توفیق زندگی کا تقاضا ہی نہیں فن کا تقاضا بھی ہے“۔ اس تقاضے کو انہوں نے مجاہدینِ فلسطین کی صف میں شامل ہو کر پورا کیا اور گولوں گولیوں کی بارش میں عرب شاعروں کی پرانی روایت کو ازسرِ نو زندہ کیا۔ فرماتے ہیں کہ:

پھر برق فروزاں ہے سرِ وادیئ سینا
پھر رنگ پہ ہے شعلہئ رخسارِ حقیقت
پیغامِ اجل دعوتِ دیدارِ حقیقت
اب صدیوں کے اقرار اطاعت کو بدلنے
لازم ہے کہ انکار کا فرماں کوئی اترے

فلسطین فیضؔ کا دوسرا وطن تھا جس کا ذکر وہ بڑے دُکھ اور پیار سے کرتے ہیں ؎

میں جہاں پر بھی گیا ارضِ وطن
تیری تذلیل کے داغوں کی جلن دل میں لیے
تیری حُرمت کے چراغوں کی لگن دل میں لیے
اور
جس زمیں پر بھی کھلا میرے لہو کا پرچم
لہلہاتا ہے وہاں ارضِ فلسطیں کا عَلَم
تیرے اعدا نے کیا ایک فلسطین برباد
میرے زخموں نے کیے کتنے فلسطیں آباد

رہی اپنے وطن سے محبت سو فیض صاحب کو کسی سرکار دربار سے سند درکار نہیں۔ انہوں نے لیلائے وطن کو جس جس طرح چاہا ہے۔ تنہا پس زنداں، کبھی رسوا سرِ بازار۔ اس پر تو قیس عامری کو بھی رشک آتا۔ ان کی حب الوطنی کی سب سے بڑی سند عقیدت کے وہ سدا بہار پھول ہیں جو قوم ان پر نچھاور کر رہی ہے۔ ہم نے دنیا کو اور کچھ نہیں ایک شاعر ضرور دیا جس نے وطن کی لاج رکھ لی۔

فیضؔ صاحب کے فلسفہئ محبت کا مثبت پہلو آپ نے دیکھ لیا مگر اس کا نہایت اہم ایک منفی پہلو بھی ہے چنانچہ فیضؔ صاحب کی نظر میں ہر وہ شے گھناؤنی، بدصورت اور سزاوار نفریں و ملامت ہے جو زندگی کے حسن کو مجروح کرے جس سے محبت کا خون ہوتا ہو اور جس کے باعث انسان کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا مناسب موقع نہیں ملتا۔ سامراجی طاقتوں کی تخریب کاریاں اور امن سوزیاں، سرمایہ داری نظام کی نفع خوریاں، غلامی جو تحصیل ذات اور تزئین ذات کے حق میں زہر قاتل ہے، انسانی وقار کی بے حرمتی استبداد اور استحصال، نطق و ادب کی محرومی، متاع لوح و قلم کا زیاں سب ان کے نزدیک حسن و محبت کی قدروں کی نفی کرتے ہیں۔ فیضؔ صاحب کی شاعری فرد اور جمعیت کی ان زبوں حالیوں کے خلاف احتجاج ہے۔

یوں تو پرانے شاعروں کے شہرِ آشوب بھی احتجاج ہی کی ایک شکل تھے اور کبھی کبھار ان کی غزلوں میں بھی برہمی کا انداز جھلک اٹھتا تھا بلکہ غالبؔ کا سا دیدہ ور تو گلشن ناآفریدہ کی جانب بھی اشارہ کر دیتا تھا لیکن 19 ویں صدی کے آخر تک ہماری شاعری کی فضا پر بیشتر آہ و فغاں کا غلبہ رہا۔ شاعر عہد ِ رفتہ کی عظمتوں کو بڑی حسرت سے یاد کرتے ہیں مگر اندھی گلی میں ان کو جب آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا تو وہ لامحالہ مڑمڑ کر پیچھے کی طرف دیکھنے ہیں۔ دورِ حاضر کے احتجاجی ادب کی نوعیت اس سے بالکل مختلف ہے، ہماری نئی احتجاجی شاعری جس کے موجد علامہ اقبالؔ ہیں، حالات زیست کی نقش گری ہی نہیں کرتی بلکہ ان سماجی قوتوں کی نشاندہی بھی کرتی ہے جو ہمارے زوال و انحطاط کا سبب ہیں اور ان حالات کو برقرار رکھنے میں کوشاں ہیں۔ جدید احتجاجی شاعری ان حالات کو بدلنے اور فیضؔ صاحب کے بقول”دستِ قاتل کو جھٹک دینے“ کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ وہ شکست قبول نہیں کرتی کیونکہ اس کو یقین ہے کہ یہی تاریکی ئ شب غازہئ رخسار سحر اور یہی خزاں آمد بہار کی نوید ہے۔

آتے آتے یونہی پَل بھر کو رُکی ہوگی بہار
جاتے جاتے یونہی دم بھر کو خزاں ٹھہری ہے

یہ احتجاجی ادب جس کی سب سے بڑی خوبی اس کی رجائیت ہے 20 ویں صدی کے سماجی شعور اور سیاسی بیداری کا فنی اظہار ہے کیونکہ ملک میں اور اقصائے عالم میں آزادی کی جو تحریکیں اٹھیں اور جو انقلاب آئے ان سے ہمارے ادیبوں شاعروں کا متاثر ہونا قدرتی بات تھی۔ جنگ جاپان و روس میں زارشاہی کی شکست، سودیشی اور ترک مَلات کی تحریکیں جنگ طرابلس اور جنگ بلقان میں برطانوی کردار، ایران میں مشروط کی تحریک، ترکی میں نوجوان ترکوں کے ہاتھوں سلطان کی برطرفی، پہلی جنگ عظیم، خلافت اور سول نافرمانی کی ملک گیر تحریک اور پھر انقلاب ِ روس ایسے اہم واقعات تھے جو احتجاجی ادب کا موجب ہی نہیں بنے بلکہ انہوں نے احتجاج کا رخ بھی متعین کر دیا۔ احتجاجی ادب میں رفتہ رفتہ انقلابی لہریں بھی اٹھنے لگیں۔

فیضؔ صاحب دورِ حاضر کے احتجاجی شاعری کے بڑے سچے نمائندہ ہیں لیکن ان کے کلام میں انقلابی رنگ آہستہ آہستہ ابھرا۔ ان کو غریبوں کی حمایت کا احساس اور ”بازار میں مزدوروں کے گوشت“ کی خرید و فروخت کا غم تو ابتدا ہی سے تھا لیکن وہ اس شرمناک صورتِ حال کو ”اجداد کی میراث“ تصور کر کے دل کو تسلی دے لیتے تھے۔ ان کو یقین تھا کہ:

اجنبی ہاتھوں کا بے نام گراں بار ستم
آج سہنا ہے ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے

مگر جب ”سطوت اسباب“مٹی اور آزادی کی صبح طلوع ہوئی تو شاعر نے دیکھا کہ

یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحر
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل

تب شاعر پر یہ عقدہ کھلا کہ مداوا غم کے لیے سیاسی آزادی کافی نہیں بلکہ ”نجات دیدہئ دل کی گھڑی تب آئے گی جب ہم ان ناسوروں سے نجات حاصل کر لیں گے جو معاشرے کے جسم میں پرورش پا رہے ہیں۔

تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا
اور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیں
اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں
ہاں مگر تیرے سوا، تیرے سوا، تیرے سوا

یہ تاریخی منصب فیضؔ صاحب کے بقول ”کارخانوں کے بھوکے جیالے“ اور بادشاہ جہاں ’والئی ماسوا‘ نائب اللہ فی الارض دہقاں“ اور ”افسردہ جاں کلرک“ اور ”کتاب و قلم“ کے پاسباں اور دوسرے تمام محبان وطن مل جل کر ادا کر سکتے ہیں۔ فیضؔ صاحب نے اپنی تصنیف ”سرِوادیئ سینا“ انہیں کے نام معنون کی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ حق و باطل کی اس جنگ میں ”سر پھوٹیں گے، خون بہے گا“

ہاں تلخیئ ایّام ابھی اور بڑھے گی
ہاں اہلِ ستم مشقِ ستم کرتے رہیں گے

لیکن نہ کوئی بیرونی امداد کام آئے گی نہ کوئی ماورائی طاقت ہماری التجا سنے گی کیونکہ:

الم نصیبوں، جگر فگاروں
کی صبح افلاک پر نہیں ہے
جہاں پہ ہم تم کھڑے ہیں دونوں
سحر کا روشن افق یہی ہے
یہیں پہ غم کے شرار کھل کر
شفق کا گلزار بن گئے ہیں
یہیں پہ قاتل دکھوں کے تیشے
قطار اندرقطار کرنوں
کے آتشیں ہار بن گئے ہیں
یہ غم جو اس رات نے دیا ہے
یہ غم سحر کا یقیں بنا ہے
یقیں جو غم سے کریم تر ہے
سحر جو شب سے عظیم تر ہے

نمود و سحر کا یہی یقیں ان کا آدرش تھا۔ ان کو یقین تھا کہ:

اُٹھے گا جب جمع سر فروشاں
پڑیں گے دار و رسن کے لالے
کوئی نہ ہوگا کہ جو بچالے
جزا سزا سب یہیں پہ ہوگی
یہیں عذاب و ثواب ہوگا
یہیں سے اٹھے گا شورِ محشر
یہیں پہ روز ثواب ہوگا

سلطانی جمہور کا مژدہ سناتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

غرور سرو سمن سے کہہ دو کہ پھر وہی تاجدار ہوں گے
جو خار و خس والئی چمن تھے، عروجِ سروسمن سے پہلے

ہر معاشرہ اپنے فنکاروں کا،اپنے دانشوروں کا محاکمہ کرتا ہے۔ ان سے پوچھتا ہے کہ تم ہماری تہذیب کے خزانے کے لیے کیا تحفہ لائے ہو۔ تم نے ہمارے نظام فکر و احساس میں ہمارے ادراک و آگہی میں، ہمارے جمالیاتی ذوق میں کیا اضافے کیے ہیں۔ ان سوالوں کے جواب تو وقت دے گا جو بڑا بے رحم محتسب ہے البتہ ہم اتنا جانتے ہیں کہ دورِ حاضر کا شاید ہی کوئی ذی فہم ہو جس کے شعور کی سطح ان کا کلام سننے کے بعد اونچی نہ ہوئی ہو۔ فیضؔ صاحب نے ہم کو ستم کہنے کا سلیقہ سکھایا۔ انکار کی جرأت عطا کی، رجز کی زبان دی اور ستم گری سے نبرد آزمائی میں ہماری ہمت افزائی کی۔انہوں نے مشاہدہئ حق کی گفتگو میں حُسن کی لطافتوں کا رنگ بھر کر گفتگو کو زیادہ بامعنی، دلکش اور پُراثر بنا دیا۔ یہاں تک کہ ان کے بے شمار اشعار ضرب المثل بن گئے۔ انہوں نے اپنی اچھوتی علامتوں، تشبیہوں، اصطلاحوں اور ترکیبوں سے ادب کے خزانے کو مالامال کر دیا اور وہ ہمارے یقین کو یہ کہہ کر اور مستحکم کر گئے۔

ہم جیتیں گے
حقّا ہم اک دن جیتیں گے
بالآخر اک دن جیتیں گے

افسوس ہے کہ انقلاب کا یہ نقیب غرورِ سروسمن کا سرنیچا ہوتے نہ دیکھ سکا اور نہ جیت کی صبح اس کے جیتے جی طلوع ہوئی اور وہ یہ کہتا ہم سے رخصت ہوگیا کہ:

بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے
فروغ گلشن وصوتِ ہزار کا موسم

سبطِ حسن نے یہ مقالہ 1985ء میں اردو مرکز لندن کے جلسے میں پڑھا۔