خبریں/تبصرے

آج لال لال لہرائے گا!

لاہور (جدوجہد رپورٹ) لاہور سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں آج بروز جمعہ 26 نومبر کو طلبہ یکجہتی مارچ منعقد کئے جا رہے ہیں۔ یہ مارچ پراگریسیو سٹوڈنٹس کلیکٹو (پی ایس سی) کے زیر اہتمام منعقد کئے جا رہے ہیں۔

طلبہ کا الزام ہے کہ بہاؤالدین زکریہ یونیورسٹی (بی زیڈ یو) ملتان کی انتظامیہ طلبہ یکجہتی مارچ کے انعقاد کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے اور منتظمین کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں طلبہ یکجہتی مارچ دن 2 بجے استنبول چوک سے پنجاب اسمبلی تک منعقد کیا جائیگا۔

کراچی میں طلبہ یکجہتی مارچ ریگل چوک سے کراچی پریس کلب تک منعقد کیا جائیگا۔

پاک پتن میں فریدیا کالج سے پاک پتن پریس کلب تک طلبہ یکجہتی مارچ منعقد کیا جائے گا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی طلبہ یکجہتی مارچ دن اڑھائی بجے نیشنل پریس کلب کے سامنے منعقد کیا جائیگا۔

طلبہ یکجہتی مارچ میں پی ایس سی کے علاوہ دیگر ترقی پسند طلبہ تنظیمیں اور محنت کشوں کے نمائندگان بھی شرکت کرینگے۔

طلبہ یکجہتی مارچ کا بنیادی مطالبہ طلبہ یونین کی بحالی ہے، جبکہ دیگر مطالبات میں فیسوں میں اضافہ واپس لینا، تعلیمی اداروں کی نجکاری کا خاتمہ اور تعلیم کی مفت فراہمی، تعلیمی بجٹ کو جی ڈی پی کے 5 فیصد تک بڑھانے سمیت دیگر مطالبات شامل ہیں۔

پراگریسو سٹوڈنٹس کلیکٹو کے مرکزی آرگنائزر علی عبداللہ خان کا کہنا ہے کہ آج لاہور سمیت ملک بھر میں ہزاروں طلبہ، طلبہ حقوق کی بازیابی کیلئے نکلیں گے۔ طلبہ یونین کی بحالی سمیت دیگر مطالبات کے حصول تک یہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انکا کہنا ہے کہ اس خطے کی سب سے باشعور پرت کو اپنے متعلق فیصلوں میں شمولیت کے حق سے محروم کیا گیا ہے، بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق چھینے گئے ہیں۔ ہم گزشتہ کچھ سال سے مسلسل اس جدوجہد کو پھیلانے میں سرگرم ہیں۔

انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ آج جوق در جوق باہر نکلیں اور اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے آواز اٹھائیں۔

ادھر حقوق خلق موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر عمار علی جان نے اپنے ایک ٹویٹ میں بہاؤالدین زکریہ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے طلبہ کو مبینہ طور پر دھمکانے کے عمل کی سخت مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ ”بی زیڈ یو انتظامیہ کایہ انتہائی شرمناک سلوک ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ کے احتجاج کے آئینی حق پر پابندی نہیں لگا سکتی۔ طلبہ کے خلاف اپنے آئینی حقوق کا مطالبہ کرنے کی وجہ سے کی گئی کسی بھی کارروائی کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ ہم واپس لڑیں گے!“