خبریں/تبصرے

ادریس خٹک کو فوجی عدالت سے 14سال قید، جاسوسی کا الزام

لاہور(جدوجہد رپورٹ) پاکستان کی فوجی عدالت نے 3فوجی افسران سمیت 4افراد کو سزائیں سنائی ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکن ادریس خٹک کو فوجی عدالت نے 14سال قید کی سزا سنائی ہے اور ان پر جاسوسی کا الزام عائد کیا ہے۔

سزائیں پانے والے سابق فوجی افسران میں لیفٹیننٹ کرنل (ر) فیض رسول کو 14سال قید، لیفٹیننٹ کرنل(ر) اکمل کو 10سال قید اور میجر(ر) سیف اللہ بابر کو 12سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ تاہم ادریس خٹک پر جس شخص کے ساتھ معلومات شیئر کرنے کاجرم ثابت کیا گیا ہے وہ ایک سابق فوجی جنرل کا داماد ہونے کے علاوہ2007میں افغانستان سے پاکستانی خفیہ اداروں اور طالبان کا ایجنٹ قرار دیکر بے دخل کیا جا چکا ہے۔ یہ تمام تر معلومات معروف صحافی اسد علی طور نے اپنے ’وی لاگ‘ میں بیان کی ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے ساتھ کام کرنے والے ادریس خٹک کو دو سال قبل 13نومبر2019کو صوابی کے قریب سے لاپتہ ہو گئے تھے۔ جون 2020ء میں وزارت دفاع نے عدالت کو بتایا کہ وہ ملٹری انٹیلی جنس کی حراست میں ہیں اور ان پر غیر ملکی جاسوس ہونے کا الزام ہے۔

پشاور ہائی کورٹ میں پاک فوج کے نمائندہ کی جانب سے بتایا گیا کہ ادریس خٹک کا فیلڈ کورٹ مارشل ہو رہا ہے اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی سکس کیلئے جاسوسی کی اور یہ معلومات انہوں نے ایم آئی 6کے ایجنٹ مائیکل سیمپل کو فراہم کیں۔ جسٹس وقار سیٹھ اور جسٹس ناصر محفوظ پر مشتمل بنچ نے یہ ٹرائل روک دیا تھا اور 21اکتوبر2021ء کو ٹرائل سے متعلق تفصیلات طلب کر لی تھیں۔ تاہم وقار سیٹھ کورونا وائرس کا شکار ہو گئے اور ان کی وفات ہوگئی جس کی وجہ سے وہ سماعت نہ کر سکے۔

بعد ازاں چیف جسٹس قیصر راشد خان اور جسٹس ارشد علی پر مشتمل نیا بنچ تشکیل دیا گیا، جس نے رواں سال 2فروری کو فوجی عدالت کو فیلڈ کورٹ مارشل کی اجازت دے دی۔ ادریس خٹک کے خاندان اور وکلاء کی جانب سے نشاندہی کے باوجود مائیکل سیمپل کے خلاف کارروائی یا ان کو شامل تفتیش کئے جانے کا پشاور ہائی کورٹ نے بھی حکم نہیں دیا اور ٹرائل کے بعد اس بات کو اٹھائے جانا کا کہہ دیا گیا۔

اسد طور کے مطابق مائیکل سمپل جنرل (ر) ابوبکر عثمان مٹھا کے داماد ہیں، مائیکل سیمپل کی اہلیہ یاسمین مٹھا نے ان تمام تر حالات پر اپنا موقف بھی دیاہے۔ اسد طور کے مطابق یاسمین مٹھا کا کہنا ہے کہ مائیکل سیمپل آئرش شہری ہیں اور ہم دونوں نے شادی کے بعد پاکستان رہنے کا ہی فیصلہ کیا تھا۔ ہم 21سال سے پاکستان میں رہ رہے ہیں۔

انکا یہ بھی کہنا تھا کہ میرے والد ایک شریف اور دیانتدار فوجی جنرل رہے، انہوں نے زندگی میں کوئی گھر نہیں بنایا، صرف ایک گاڑی سوزوکی ایف ایکس ان کے پاس تھی جبکہ وہ میرے ساتھ میرے گھر میں رہتے تھے۔ تاہم انکا یہ بھی کہنا تھا کہ جب ان کے والد نے ہندو خاتون سے شادی کی تھی، تب انہیں بھارتی خفیہ ادارے را کا ایجنٹ قرار دیا جاتا رہا ہے۔

اب مائیکل سیمپل پاکستان میں رہتے ہیں، یورپی یونین کی جانب سے افغان امور پر نمائندہ بھی رہے ہیں، تاہم انہیں 2007میں افغان حکومت نے ناپسندیدہ شخصیت قرار دیکر افغانستان سے نکل جانے کا حکم دیا گیا۔ ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ پاکستانی خفیہ ادارے کے ایجنٹ ہیں اور ان کے طالبان سے تعلقات بھی ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی حیرانگی کا اظہار کیا کہ جس شخص کو 2007میں افغانستان سے بیدخل کیا جا چکا ہے۔ وہ برطانوی خفیہ ادارے کے ساتھ اس کے بعد کیسے کام کر سکتا ہے۔ اگر وہ ایجنٹ ہوتے تو پھر وہ 2007میں بے نقاب ہو چکے تھے۔ اس کے بعد کسی ادارے کے ساتھ انہیں بطور ایجنٹ نہیں رکھا جا سکتا تھا۔

انکا یہ بھی کہنا تھا کہ ادریس خٹک پر سوات، باجوڑ اور صوابی میں فوجی نقل وحمل کی معلومات دینے کا الزام ہے، آج ماڈرن ٹیکنالوجی کا دور ہے، ہر کوئی سیٹیلائٹ کے ذریعے سے نقل و حمل کو آسانی سے دیکھ سکتا ہے۔ انہیں میرے خاوند کی کیا ضرورت تھی۔

اسد طور کے مطابق یاسمین مٹھا کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں یہ بات بھی سمجھ نہیں آئی کہ پاکستانی فوج طالبان سے حالت جنگ میں تھی یا برطانیہ سے؟ اگر جنگ برطانیہ سے ہوتی تو ان علاقوں میں فوجی نقل و حمل کی معلومات برطانیہ کیلئے اہم ہوتی، جب جنگ طالبان سے تھی تو پھر برطانیہ کیوں یہ معلومات جمع کر رہا تھا۔

انکا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اور ان کے خاوند پاکستان میں ہی ہیں اور ان پر بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

اسد طور کا یہ بھی کہنا تھا کہ ادریس خٹک کے خلاف یہ ٹرائل سپریم کورٹ کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ کرنل (ر) انعام الرحیم کو جب گرفتار کیا گیا تھا، تب سپریم کورٹ میں پہلی سماعت کے دوران فوجی نمائندگان کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان سے ایٹمی راز برآمد ہوئے ہیں، انکا فیلڈ کورٹ مارشل کیا جائیگا۔

تاہم ادوسری سماعت پر عدالت سے درخواست کی گئی کہ کرنل (ر) انعام الرحیم کو کہا جائے کہ وہ اپنے لیپ ٹاپ کا پاسورڈ دے دیں۔ جس پر سپریم کورٹ نے پوچھا کہ ابھی لیپ ٹاپ کا پاسورڈ ہی نہیں مل سکا تو یہ کیسے پتہ چلا کہ اس میں ایٹمی راز ہیں؟ سپریم کورٹ کو کوئی جواب نہ ملنے پر یہ حکم دیا گیا تھا کہ کسی بھی سویلین کا کورٹ مارشل نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے یہ حکم مارچ2020ء میں سنایا تھا۔

اسد طور کا کہنا تھا کہ ادریس خٹک کا کورٹ مارشل عدالتی احکامات کو روندتے ہوئے اس لئے ہو گیا کیونکہ وہ لاپتہ افراد کی معلومات جمع کر رہے تھے اور ان کی بازیابی کیلئے کام کر رہے تھے۔