خبریں/تبصرے

مہنگائی، بیروزگاری کے خلاف عدم مساوات مزاحمتی اتحاد کی تشکیل

لاہور (جدوجہد رپورٹ) لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر ملک کی 25 سیاسی و سماجی تنظیموں نے ملک میں بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور ناہمواری کے خلاف ایک مشترکہ پلیٹ فارم ”عدم مساوات مزاحمتی اتحاد“ تشکیل دیا ہے۔

اس موقع پر 27 رکنی سٹیرنگ کمیٹی اور 52 رکنی جنرل اسمبلی کا چناؤ کیا گیا اور ڈاکٹر عالیہ حیدر کو اتحاد کا نیشنل کوارڈی نیٹر چن لیا گیا۔

صائمہ ضیا، جلوت علی اور رفعت مقصود کی زیر صدارت دو روزہ کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں فاروق طارق، ڈاکٹر عمار علی جان، ڈاکٹر فہد علی، نثار شاہ، جگدیش آہوجا، عابدہ علی، ڈاکٹر عالیہ حیدر، سخی آصف، سہیل جاوید، ضیغم عباس، ناصر اقبال، نیاز خان، مصطفےٰ تالپور، گلزار خان، شازیہ نواز، بشری ماہ نور، ایمن فاطمہ اور دیگر شامل تھے۔

اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فاروق طارق جنرل سیکرٹری پاکستان کسان رابطہ کمیٹی نے کہا پاکستان میں نیو لبرل ایجنڈا کے مسلسل اطلاق نے پاکستان میں محنت کش طبقات کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں۔ حکمرانوں نے معیشت کو عالمی اجارہ دار کمپنیوں کے استحصال کے لئے کھول دیا ہے۔ سرمایہ دار کمپنیاں ریاست سے ہر قسم کی مراعات حاصل کر رہی ہیں جبکہ محنت کش طبقے کی آمدن مسلسل کم ہو رہی ہے۔ مہنگائی مزدور طبقے کی آمدن کی چوری کا دوسرا نام ہے، اس صورتحال کا مقابلہ محنت کشوں کو منظم کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی اور سماجی تنظیموں کا ایک پیپلز چارٹر پر اتفاق کرتے ہوئے ایک براڈ بیس متحدہ محاز بنانے کی تجویز پیش کی جسے شرکا کانفرنس نے منظور کیا۔

عدم مساوات مزاحمتی اتحاد میں شامل تنظیموں میں حقوق خلق موومنٹ، پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو، پاکستان کسان رابطہ کمیٹی، پاکستان فشر فوک فورم، پائلر، ویمن رائٹس ایسوسی ایشن ملتان، سوجلہ فار سوشل چینج، لابیر ایجوکیشن فاؤنڈیشن، سانگہ، ڈیرہ اسماعیل خان، سندھو واس فاؤنڈیشن، عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان، کسان کرکیلہ مردان، انڈس کنسورشیم ملتان، اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ایجوکیشن، آواز فاؤنڈیشن ملتان، تعمیر نو ویمن ورکرز فاؤنڈیشن، ہوم نیٹ پاکستان، نئی راہ ویلفیئر سوسائٹی شیخوپورہ، امن پکار فاؤنڈیشن لاہور، ایشیا ویج فلور الائنس، چولستان ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن بہاول پور، امن موومنٹ، جانور تحفظ تحریک، قلعہ عبداللہ یوتھ آرگنائزیشن بلوچستان، ہرنائی یوتھ آرگنائزیشن بلوچستان شامل ہیں۔

سٹیرنگ کمیٹی ممبران میں شائستہ بخاری، ظہور جوئیہ، جلوت علی، محمد یونس، انیقہ پنجانی، سخی آصف، گلزار خان، حسین جاور، نثار شاہ، ایمن فاطمہ، ڈاکٹر عالیہ حیدر، شازیہ نواز، ام لیلی اظہر، نازلی جاوید، آصفہ شیخ، عنائیت خان، نوید خان، خالد قریشی، کرامت علی، عابدہ علی، صائمہ ضیا، ناصر اقبال، سائرہ علی، فاروق طارق، رضیہ فاروق خان، مصطفےٰ تالپور اور سہیل جاوید شامل ہیں۔

کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ 17 جنوری سے 22 جنوری کے دوران منعقد ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے دوران ملک بھر کے 20 شہروں میں عدم مساوات کے خلاف ریلیاں، مظاہرے، مشاعرے، تھیٹر اور دیگر پبلک سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ عدم مساوات مذاحمتی الائنس کا دائرہ کار ملک بھر میں پھیلائے جائے گا اور مزید تنظیموں کو اس میں شامل کیا جائے گا۔

یہ طے کیا گیا کہ عاملی سطح پر 2016ء سے کام کرنے والے فائیٹ عدم مساوات الائنس کے پاکستان چیپٹر کے طور پر کام کیا جائے گا۔