خبریں/تبصرے

گلگت بلتستان: لوڈ شیڈنگ کیخلاف احتجاج کرنیوالوں پرانسداد دہشت گردی کا مقدمہ

راولا کوٹ (نامہ نگار) گلگت بلتستان میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرنے والے 9 افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

تھانہ پولیس سنگل کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر نمبر 3/2022 محررہ 09/01/2022 زیر دفعات 353، 186، 147، 430، 440، 427، دفعہ 40 بجلی ایکٹ، 6/7 اے ٹی اے میں مجموعی طور پر 9 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مندرجات کے مطابق عوام علاقہ سنگل، تھنگداس، گیچ اور گوہر آباد نے بجلی کے شیڈول کے خلاف احتجاج کر کے سنگل فیز ٹو اور فیز تھری پاور ہاؤس کے بند سے پانی کاٹنے کی دھمکی دے کر احتجاجی جلوس بطرف سربند روانہ ہوئے۔ اسی دوران مذاکرات بھی کئے گئے اور نمائندگان عوام کے مطالبات کو تسلیم کر لیا گیا تھا۔ تاہم کچھ دیر بعد نامزد افراد نے عوام کو اشتعال دلا کر بجلی کے نمائندگان کو خوف و ہراس میں مبتلا کیا اور پانی کا رخ تبدیل کر کے نالے کی طرف موڑ دیا۔ اس اقدام سے ضلعی ہیڈکوارٹر گاہکوچ، سنگل، گیچ، تھنگداس اور گوہر آباد سمیت دیگرعلاقوں میں بجلی کی ترسیل مکمل منقطع ہو چکی ہے۔

تاہم مظاہرین کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ عوام علاقہ نے بجلی کی غیر منصفانہ تقسیم اور لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی دھرنا دے رکھا تھا۔ یہ احتجاجی دھرنا انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد ختم کر دیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں مقدمہ درج کر لیا گیا اور مقدمہ میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

سیاسی و سماجی رہنماؤں نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے پر امن شہریوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے کے عمل کو مسترد کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ فی الفور یہ مقدمہ ختم کیا جائے۔