خبریں/تبصرے

پولیس تشدد سے کسان رہنما دم توڑ گیا، ملک گیر احتجاج کا اعلان

لاہور (جدوجہد رپورٹ) لاہور میں پاکستان کسان اتحاد کے مظاہرے پر پولیس تشدد اور کیمیکل ملا پانی کا چھڑکاؤ کرنے سے ایک کسان رہنما اشفاق لنگڑیال شہید ہو گیا، وہ آج جناح ہسپتال میں مسلسل بے ہوشی کے بعد دم توڑ گئے۔

ان کی میت کو انکے آبائی ضلع وہاڑی لے جانے کے وقت زبردست احتجاجی نعرے بازی کی گئی۔ اشفاق لنگڑیال کو پولیس نے سارے وقت کیمیکل ملے پانی سے نشانہ بنایا۔ وہ پاکستان کسان اتحاد ضلع وہاڑی کی ضلعی تنظیم کے فنانس سیکرٹری تھے۔

مظاہرین لاہور میں مطالبہ کرنے آئے تھے کہ گندم کی کم از کم قیمت 2000 روپے مقرر کی جائے اور گنے کی قیمت 220 روپے مقرر کی جائے۔

آج ہسپتال میں جمع ہونے والے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری محمد انور اور ملک ذولفقار اعوان نے کہا کہ نہتے کسانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، سوئے ہوئے کسانوں پر حملہ کیا گیا۔ وہ کسی سڑک کو بلاک نہیں کئے ہوئے تھے۔ وہ احتجاج کرنے آئے تھے جو ان کا آئینی حق ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک ایس پی نے یہ کہا کہ ان پر کیمیکل ملا پانی پھینکا جائے تو ان کو نانی یاد آ جائے گی۔ انتہائی غیر انسانی سلوک کیا گیا۔ ہم اس پر شدید احتجاج کریں گے۔

اس موقع پر پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے علی بہرام، عثمان سرفراز اور فاروق طارق نے پاکستان کسان اتحاد کی قیادت سے مکمل اظہار یکجہتی کا اعلان کیا۔ اشفاق کے قاتلوں کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس قتل کے خلاف ملک گیر احتجاج کریں گے۔

کل بروز جمعہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی اور پاکستان کسان اتحاد کے رہنما تین بجے بعد دوپہر لاہور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔