خبریں/تبصرے

سوشلزم+فیمینزم: چلی کی نئی کابینہ میں آدھی وزارتیں خواتین کیلئے

لاہور (جدوجہد رپورٹ) چلی کے نومنتخب صدر گیبریل بورک نے اعلان کیا ہے کہ ان کی کابینہ صنف، سیاسی رجحان یا عمر کا امتیاز کئے بغیر تشکیل دی جائیگی۔ انکا خیال ہے کہ اس فیصلے سے معاشرے کو ریاستی اداروں میں بہتر نمائندگی دی جائیگی۔

’ٹیلی سور‘ کے مطابق انکا کہنا تھا کہ ”ہماری وزرا کی کونسل میں مرد اور خواتین کی تعداد یکساں ہو گی، جو نوجوان اور عمر رسیدہ نمائندوں پر مشتمل ہونگے اور مختلف سیاسی وابستگیوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کیا جائے گا تاکہ معاشرے کی بہتر نمائندگی ہو سکے۔“

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان لوگوں کو منتخب کرنے کا بنیادی معیار سرکاری امور کی انجام دہی کیلئے صلاحیت اور علم کی بنیاد پر طے کیا جائیگا۔

انکا کہنا تھا کہ ”ہماری انتظامیہ کی ترجیح شہریوں کے ساتھ ایک فعال مکالمے کو حاصل کرنا اور شہریوں کی ترقی ہو گی۔“

گیبریل بورک کے خیال میں اس پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پارلیمانی منظوری درکار ہے، اس لئے وہ فی الحال ایسے سیاستدانوں کا تقرر کرنا چاہتے ہیں جو ان عہدوں پر گورنروں کے ساتھ بات چیت میں سہولت فراہم کریں۔

انکا کہنا تھا کہ ”ہم مختلف سماجی شعبوں کی خیرسگالی کے ساتھ ہی اس کام کو کامیابی سے آگے بڑھائیں گے۔“

انہوں نے شہریوں سے اپنے سیاسی پروگرام کی حمایت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ”میں جانتا ہوں کہ میری انتظامیہ سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔ میں یہ ذمہ داری بڑے فخر اور عاجزی کے ساتھ سنبھال رہاہوں، لیکن میں لوگوں سے اپیل کروں گا کہ وہ انتظامیہ کو آئیڈیلائز کرنے کی بجائے سیاسی منصوبوں کی حمایت کریں، کیونکہ سیاست تب ہی معنی رکھتی ہے جب یہ اجتماعی ہو۔“